Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / امریکہ کی فوجی طاقت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت : کروز

امریکہ کی فوجی طاقت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت : کروز

اوباما اور ہلاری کی خارجہ پالیسیاں خامیوں کا پلندہ، لیبیا اس کی جیتی جاگتی مثال
گرین ولے ؍ واشنگٹن ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو قومی پولیس میں پہلی بار اپنے حریف ٹیڈکروز کے مقابلے کم ووٹس حاصل ہوئے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ٹیڈکروز کو 28 فیصد ووٹس حاصل ہوئے جبکہ ٹرمپ کو 26 فیصد۔ اب تک ٹرمپ کو اپنے حریفوں سے مسابقت کے دوران سبقت حاصل تھی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنوری کے وسط سے ان کے ستارے گردش میں آ گئے ہیں۔ بہرحال ٹیڈکروز اپنی انتخابی مہمات میں زوروشور سے حصہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کیرولینا کے سی این این ٹاؤن ہال میں اپنے ایک خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی فوجی طاقت کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ کو محفوظ رکھنا ہے تو موجودہ فوجی طاقت ناکافی ہے۔ موجودہ صدر اوباما نے فوجی طاقت کو گھٹا کر 450,000 کردینے کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم یہ تعداد امریکی فوج کے لئے مناسب نہیں کیونکہ امریکہ کو آج جس نوعیت کے تحفظ کی ضرورت ہے اس کیلئے فوج کی موجودہ طاقت قطعی ناکافی ہے۔ 45 سالہ کروز نے کہا کہ اگر وہ صدر کے عہدہ پر فائز ہوگئے تو فوجی طاقت کو 525,000 کردینے کی تائید کریں گے۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی فضائیہ کا بھی تذکرہ کیا جہاں طیاروں کی تعداد گھٹا کر 4000 کردی گئی ہے جبکہ کم سے کم تعداد 6000 ہونی چاہئے جہاں تک بحریہ کا تعلق ہے تو امریکہ کے پاس بحری جہازوں کا بیڑہ صرف 272 بحری جہازوں پر مشتمل ہے جو 1917ء سے اب تک کا اقل ترین بیڑہ ہے۔

تقریباً ایک صدی قبل ایسا ہوا تھا کہ ہم نے کوئی نیا بحری جہاز بیڑہ میں شامل کیا تھا۔ آج بحریہ کو کم سے کم 350 بحری جہازوں کی ضرورت ہے۔ اوسطاً بحری فوج کی طاقت کم سے کم 1.4 ملین ٹروپس پر مشتمل ہونی چاہئے۔ ہمیں سائبردفاع اور میزائیل دفاع کے پروگرامس کو بھی توسیع دینے کی ضرورت ہے۔ ٹیکساس سینیٹر ٹیڈکروز جو اب تک ڈونالڈ ٹرمپ سے پیچھے چل رہے تھے تاہم حالیہ پرائمریز میںانہیں پہلی بار ٹرمپ پر سبقت حاصل ہوئی ہے۔ ٹیڈکروز نے کہا کہ امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بھی تبدیل کرنی چاہئے تاکہ ہم اپنے حقیقی دشمنوں کی شناخت کرتے ہوئے ان کا قلع قمع کرسکیں۔ اوباما اور کلنٹن کی خارجہ پالیسیوں میں بہت خامیاں ہیں اورانہوں نے (کروز) ہمیشہ ان پالیسیوں کی مخالفت کی ہے۔ گذشتہ سات سالوںمیں خارجہ پالیسیاں خامیوں کا پلندہ بن چکی ہیں جس کی سب سے بڑی مثال لیبیا ہے۔ لیبیا میں معمرقذافی کی حکومت کا تختہ پلٹنا اوباما اور ہلاری کلنٹن کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ لیبیا میں قذافی حکومت کا خاتمہ کروانے کا سیدھا سیدھا مطلب یہی تھا کہ ہم نے اس ملک کو اسلامی دہشت گردوں کے حوالے کردیا اور اب یہ حالت ہے کہ لیبیا ایک افراتفری سے پرجنگ زدہ علاقہ بن گیا ہے جہاں دولت اسلامیہ اور دیگر دہشت گردوں نے وہاں کی عوام کی سلامتی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ اس طرح اوباما اور ہلاری کلنٹن کی خامیوں سے پرخارجہ پالیسی کا یہ ایک ادنیٰ نمونہ ہے جو بن غازی المیہ کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مختلف حکومتوں کا تختہ پلٹنے سے بہتر ہے کہ امریکہ خود اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے ملک کے تحفظ کے بارے میں سب سے پہلے سوچے کیونکہ اس وقت امریکہ کو دہشت گردی کا سامنا ہے جس کی بیخ کنی کیلئے فوجی طاقت مستحکم ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اپنی حفاظت پھر دوسروں کی۔ کئی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہیں، وہاں دخل اندازی کرنے سے بہتر ہے کہ امریکہ اپنے دشمنوں پر نظر رکھے اور سب سے پہلے دولت اسلامیہ کا خاتمہ کرے۔

TOPPOPULARRECENT