Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / امریکہ کے سفر پر امتناع کیلئے ٹرمپ کا موقف ہنوز غیرواضح

امریکہ کے سفر پر امتناع کیلئے ٹرمپ کا موقف ہنوز غیرواضح

٭ ہوم لینڈ سکیورٹی کونسلر ، اٹارنی جنرل ، وزیر خارجہ اور قومی مشیر سے مشاورت
٭ 6 مسلم ممالک کے علاوہ دیگر ممالک پر بھی امتناع کے امکانات
٭ نیا حکم نامہ سابق حکم نامہ سے بہتر ہونے عہدیداروں کو اُمید

واشنگٹن۔ 23 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے سفر پر امتناع عائد کیا تھا، اس کی میعاد اتوار کو ختم ہورہی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب مذکورہ ممالک کے شہریوں کے لئے امریکہ کے راستے کھل گئے ہیں اور ان پر عائد پابندی ختم ہوگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ اب نئی پابندیوں کے ساتھ (کچھ ترمیمات کرتے ہوئے) اسے دوبارہ لاگو کرنے پر غوروخوض کررہے ہیں جس میں 6 ممالک کے علاوہ دیگر کچھ ممالک کو شامل کئے جانے کے بھی اشارے ملے ہیں۔ دریں اثناء عہدیداروں نے بتایا کہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے صدر سے سفارش کی ہے کہ وہ نئی پابندیوں کا ان ممالک پر بھی اطلاق کریں جو امریکہ کے ساتھ کوئی بھی کلیدی اور خفیہ معلومات کا تبادلہ نہیں کرنے یا پھر انہوں نے سکیورٹی سے متعلق احتیاطی اقدامات نہیں کئے، البتہ مختلف ممالک کے لئے پابندیوں کا معیار بھی مختلف ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ ٹرمپ نے جن 6 ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے سفر پر امتناع کا اعلان کیا تھا۔ اس کی میعاد تین مہینوں کے بعد اتوار کو اختتام پذیر ہورہی ہے۔ اس موقع پر ہوم لینڈ سکیورٹی کے عبوری سیکریٹری فلائن ڈیوک کے کونسلر مائیلس ٹیلر نے ایک کانفرنس کال کے ذریعہ اخباری نمائندوں کو بتایا کہ مسٹر فلائن ڈیوک نے بعض نئی سخت تحدیدات جس میں بعض ممالک سے آنے والے شہریوں کی سخت اسکریننگ بھی شامل ہے، متعارف کرنے کی سفارش کی ہے، لیکن یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اب تک کسی بھی آفیسر نے تحدیدات عائد کئے گئے مسلم ممالک کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وہ کون کون سے مسلم ممالک ہیں جن پر تحدیدات عائد کی جائیں گی جس کے لئے استدلال یہ پیش کیا جارہا ہے کہ اس وقت صدر موصوف خود بھی پس و پیش کا شکار ہیں اور اب تک کسی قطعی فیصلہ پر نہیں پہنچے ہیں۔

دریں اثناء وائیٹ ہاؤز کی خاتون ترجمان لنزے والٹرس نے بتایا کہ اس سلسلے میں ٹرمپ نے نہ صرف ڈیوک بلکہ اٹارنی جنرل چیف سیشنز، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن، ڈائریکٹر آف نیشنل انٹلیجنس اور اپنے قومی مشیر سے بھی ملاقاتیں کرتے ہوئے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر ٹیلر نے کہا کہ تمام سفارشات ان نکات پر مشتمل ہیں کہ آیا مسلم ممالک امریکہ کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے پس منظر کے بارے میں پوری تفصیلات امریکہ کو مہیا کررہے ہیں یا نہیں یعنی ایسی تفصیلات جن میں سفر کرنے والوں کو یا تو بے ضررر یا امریکہ کے لئے خطرہ والی بات کی نشاندہی کی جائے۔ یاد رہے کہ جس وقت ٹرمپ نے 6 مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے سفر پر امتناع کا حکم جاری کیا تھا، اس وقت دنیا بھر میں اس کی مخالف کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ ایران، لیبیا، صومیالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کیلئے امریکہ کے سفر پر امتناع عائد کیا تھا اور اس پر جون کے اواخر سے عمل آوری بھی ہوئی تھی تاہم کچھ روز بعد اس میں معمولی ترمیم کرتے ہوئے ایسے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے کا اہل قرار دیا گیا تھا جن کے رشتہ دار امریکہ میں مقیم ہوں۔ بہرحال امریکہ کی سپریم کورٹ آئندہ ماہ امتناع کی آئینی موقف پر زبانی مباحثوں کی سماعت کرے گی۔ عہدیداران کا ماننا ہے کہ امریکی سفر پر امتناع کی نئی سفارشات ٹرمپ کے جاری کردہ احکامات سے بہتر ہیں جس پر انہوں نے اقتدار پر فائز ہونے کے کچھ روز بعد ہی دستخط کئے تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ٹرمپ کے حکم نامہ کے بعد بیشتر ممالک نے اس پر عمل آوری بھی کی تھی، تاہم دیگر ممالک نے یا تو قصداً ایسا نہیں کیا یا پھر وہ حکم نامہ کی اجرائی کے بعد خود کو اس زمرے سے باہر سمجھنے لگے لہذا ایسے ممالک کی حکومتیں جب تک تبدیلیوں پر عمل آوری نہیں کریںگی، اس وقت تک ان ممالک کے شہریوں کیلئے امریکہ میں داخلے پر امتناع جاری رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT