Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / امریکہ ہنرمند افرادی قوت ’’امپورٹ‘‘ نہیں کرے گا : ٹرمپ

امریکہ ہنرمند افرادی قوت ’’امپورٹ‘‘ نہیں کرے گا : ٹرمپ

H-1B ویزہ پروگرام کو منسوخ کرنے کا اشارہ، امکانی صدارتی امیدوار کا متنازعہ بیانات دینے کا سلسلہ جاری

واشنگٹن ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے اپنے ری پبلکن حریف ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر ان کی (ٹرمپ) نفرت انگیز ویژن کیلئے ہدف ملامت بنایا اور کہا کہ رئیل اسٹیٹ کے بے تاج بادشاہ سمجھے جانے والے ٹرمپ دہشتناک ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ دو دنوں سے ڈونالڈ ٹرمپ کو مسلسل تنقیدوں کا سامنا ہے اور اب ایسا معلوم ہوتا ہیکہ متنازعہ بیانات دے کر وہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اپنے حامیوں کو ایک ای ۔ میل کے ذریعہ انہوں نے (ہلاری) اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا آج جو موقف ہے وہ اس موقف سے نفرت کرتی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ خود ٹرمپ کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے مٹ رومنی جو 2012ء کے صدارتی انتخابات کیلئے نامزد کئے گئے تھے، ٹرمپ کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ ہلاری نے کہا کہ یہ سوچ کر عجیب لگتا ہیکہ ٹرمپ امریکہ کے آئندہ صدر ہوسکتے ہیں۔

اسی روز ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ہی واحد ایسے قائد ہیں جو ہلاری کلنٹن کو شکست دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ سوپر ٹیوس ڈے کو ہلاری اور ٹرمپ کو سات پرائمریز میں یکساں روٹس حاصل ہوئے تھے۔ دوسری طرف ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی ممکنہ قومی سلامتی ٹیم کے سربراہ کے طور پر ایک اعلیٰ سطحی امریکی سینیٹر کو مقرر کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جیف سیشنس جنہوں نے انہیں تجارت اور امیگریشن کے پیچیدہ موضوعات پر بہترین تجاویز پیش کی تھیں، وہ اب ان کی (ٹرمپ) قومی سلامتی مشاورتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جیف جیسے قابل آدمی کا ساتھ ملنے پر بیحد مسرت ہے اور آگے چل کر بھی وہ جیف کے ساتھ امریکی شہریوں کیلئے اہمیت کے حامل معاملات پر مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ علاوہ ازیں کچھ گھنٹہ قبل ہی ری پبلکن کے اعلیٰ سطحی سیکوریٹی ماہرین نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ کہہ کر تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ امریکہ کے تئیں ان کے (ٹرمپ) خیالات (جہاں تک اقتدار اور دیگر ممالک پر امریکہ کے رسوخ کا سوال ہے) انہیں صدر بننے کا اہل قرار نہیں دیتے۔ ہم انہیں صدر بنتا نہیں دیکھ سکتے۔ سیشنس جو آرمڈ سرویسیس کمیٹی سے تقریباً 20 سال تک وابستہ رہے اور موجودہ طور پر وہ اسٹریٹیجک فورسیس میں کمیٹی کے صدرنشین ہیں، کو ٹرمپ نے جاریہ ہفتہ ہی اپنا مشیر مقرر کیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ H-1B ویزہ کے تئیں قبل ازیں انہوں نے جو سخت موقف اختیار کر رکھا تھا اس میں اب نرمی پیدا کی گئی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہیکہ انہوں نے اس بیان سے بھی ’’یوٹرن‘‘ لے لیا ہے اور کہا کہ صدر بننے کی صورت میں وہ ویزا پروگرام ہی سرے سے منسوخ کردیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکہ کو انتہائی ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے تاہم دیگر ممالک سے انہیں H-1B ویزہ کے ذریعہ ’’امپورٹ‘‘ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا اشارہ خصوصی طور پر ہندوستان کی جانب تھا۔

TOPPOPULARRECENT