Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / امریکہ یا حلیفوں کو دھمکانے پر شمالی کوریا کو ’ ’حقیقی پچھتاوا‘‘ ہوگا

امریکہ یا حلیفوں کو دھمکانے پر شمالی کوریا کو ’ ’حقیقی پچھتاوا‘‘ ہوگا

President Donald Trump speaks about the ongoing situation in Charlottesville, Va., at Trump National Golf Club, Saturday, Aug. 12, 2017, in Bedminster, N.J. (AP Photo/Pablo Martinez Monsivais)

کسی بھی ناعاقبت اندیش کارروائی کے خلاف صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کا انتباہ ۔ تناز عہ کے سفارتی حل کی بھی امید کا اظہار
واشنگٹن 12 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک بار پھر شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کو سخت دھمکی جاری کی ہے اور کہا کہ انہیں کسی بھی امریکی علاقہ یا اس کے حلیفوں کے خلاف جارحانہ کارروائی یا دھمکیوں پر حقیقی معنوں میں پچھتانا پڑے گا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایک بھی دھمکی کسی بھی انداز میں جاری کرتے ہیں تو ان کی حکومت کے خلاف کارروائی کی جائیگی ۔ اس طرح کی دھمکیاں تاہم کم جونگ ان اور ان کے دوسرے افراد خاندان کئی برسوں سے دیتے آ رہے ہیں۔ امریکہ نے ایک قرار داد اسپانسر کرتے ہوئے شمالی کوریا کے میزائیل اور نیوکلئیر ہتھیاروں کے پروگرام پر معاشی تحدیدات عائد کرنے پر زور دیا ہے جس کے بعد کم جونگ ان نے امریکہ کو نشانہ بناتے ہوئے میزائیل داغنے کا جاریہ ہفتے انتباہ دیا تھا ۔ اسی انتباہ کے جواب میں ٹرمپ نے یہ دھمکی جاری کی ہے ۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر کم جونگ ان گوام کو یا پھر امریکہ کے علاقہ میں کسی اور مقام کو نشانہ بناتے ہوئے کوئی کارروائی کرتے ہیں یا کسی امریکی حلیف کو نشانہ بناتے ہیں تو پھر انہیں اس پر حقیقی معنوں میں پچھتانا پڑے گا اور یہ بہت جلد ہوگا ۔ قبل ازیں آج دن میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ نیوکلئیر ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریائی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی طئے ہے اور اس کی تیاری کرلی گئی ہے اگر وہ کوئی عاقبت نا اندیشی کی حرکت کرتی ہے ۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے خلاف اگر فوجی کارروائی کی نوبت آجائے تو امریکہ اس کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ شمالی کوریائی لیڈر اس کارروائی سے بچنے کا کوئی راستہ اختیار کرینگے ۔ پنٹگان کے عہدیداروں کا فاکس نیوز نے یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا تھا کہ امریکی فوج آج رات بھی کوریائی جزیرہ نما میں مقابلہ کرنے کیلئے تیار کھڑ ی ہے ۔ ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ارکان سے بھی ملاقات کی تھی تاہم بعد میں کہا تھا کہ وہ اب بھی امید کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کے ساتھ تنازعہ کا کوئی پرامن حل دریافت کرلیا جائیگا ۔

انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پرامن حل دریافت کرنے کی کوششیں کامیاب ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتنا ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے زیادہ اس مسئلہ کے پرامن حل کا کوئی اور خواہاں نہیں ہوگا ۔ صدر امریکہ نے یہ ریمارکس اقوام متحدہ میں سفیر نکی ہالے ‘ سکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن اور قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر مک ماسٹر سے ملاقات کے بعد کئے تھے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے خلاف اپنے موقف کی مدافعت کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے ریمارکس پر امریکی عوام خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے شمالی کوریا اس کو سمجھے گا اور اس کے معنی سمجھے گا ۔ جو لفظ انہوں نے کہے ہیں انہیں سمجھنا بہت ہی آسان ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ شمالی کوریا کے ساتھ پس پردہ مذاکرات پر کوئی بات نہ کریں جس کی کچھ میڈیا گھرانوں کی جانب سے تشہیر کی جا رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلہ پر ہونے والی پیشرفت کے تعلق سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی پس منظر میں بات چیت نہیں چاہتے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک ملک سے بات کریں جس نے کئی برسوں سے بلکہ کئی دہوں سے غلط روش اختیار کی ہوئی ہے ۔ امریکہ میں کئی صدور آئے اور انہوں نے اس مسئہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا اور اب ان کے پاس اس مسئلہ پر توجہ کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے اور وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ سکریٹری آف اسٹیٹ ٹلرسن نے کہا کہ صدر امریکہ اس مسئلہ کا کوئی سفارتی حل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ کے بیان سے ہر کسی کیلئے ایک مشترکہ پیام گیا ہے ۔ شمالی کوریا کی حکومت کو اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ شمالی کوریا کو یہ سمجھانے میں صدر ٹرمپ مدد ہی کر رہے ہیں کہ اس تنازعہ سے کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گذشتہ تین دن میں شمالی کوریائی لیڈر نے کیا کچھ کہا ہے اس کا انہوں نے جائزہ نہیں لیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے شمالی کوریائی سرکاری ٹی وی کا مشاہدہ کیا ہے اور اس میں کہا گیا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اب ایسا کوئی ملک نہیں ہے جس کو ہم کسی بھی وقت آسانی سے شکست دے سکتے ہوں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین کشیدگی میں حالیہ دنوں میں بہت زیادہ شدت پیدا ہوگئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT