Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / امریکی آرمی نے فوجیوں کو پگڑی ‘ دراڑھی اور حجاب کا استعمال کرنے کی اجازت دی

امریکی آرمی نے فوجیوں کو پگڑی ‘ دراڑھی اور حجاب کا استعمال کرنے کی اجازت دی

واشنگٹن:یو ایس آرمی نے اپنے نئے ریگولیشن کے تحت پگڑی باندھنے والے ‘داڑھی رکھنے اور حجاب باندھنے والے سروس مین کی فوج میں بھرتی کو منظوری دیدی تاکہ فورس کو اقلیتی مذہب اور تہذیب کو فوج میں زیادہ سے زیادہ شامل کیاجاسکے۔

آرمی سکریٹری ایرک فاننگ نے نئے قواعد کا سیٹ کی اجرائی عمل میں لائی‘ جس میں مذہبی سطح پر تقررات کی گنجائش پیدا کردی گئی ہے جو اب برگیڈ سطح پرہوں گے قبل ازیں یہ سکریٹری سطح ہوتے تھے۔

ایک بار منظوری کے اطلاق کے بعد‘ امریکی فوج میں مذہبی سطح پر تقررات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔کانگریس مین جو کرولی نے یوایس سکریٹری کی جانب سے جاری کردہ ہدایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ’’ یہ ایک بڑی پہل ہے ‘ نہ صرف سکھ امریکی کمیونٹی کے لئے بلکہ ملک کی آرمی کے لئے بھی ۔

امریکی سکھ اس ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں‘ اور انہیں بھی ملک کی خدمت کا مساوی موقع ملے گا۔اور آج کا اعلان اسی میں مددگار ثابت ہوگا‘‘۔

انہوں نے کہاکہ ’’ مذاہب کے متعلق ہمارے احترام اور ذاتی آزادی کے سبب‘ ہم ایک مضبوط قوم اور طاقتور فوج ہیں ‘‘۔سکھ امریکی اور یو ایس قانون دانوں نے بھی اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے جو پچھلے کئی سالوں سے اس تحریک میں پیش پیش رہے ہیں۔

جنوری 3سے قبل یو ایس آرمی کی معلنہ تبدیلیوں سے قبل سکھ امریکیوں اور دیگر کے لئے مذہبی شناخت کی برقرار ی کے ساتھ خدمات کے محدود مواقع فراہم کئے گئے ۔ اس قسم تقررات نہ تومستقل تھے اور نہ ہی یقینی’ اور ہر اسائنمنٹ کے بعد اس میں بڑی پیمانے پر تبدیلیاں پیش آتی تھیں۔

خدمات انجام دینے والوں پر اپنے عقیدے کے مطابق پہنوے کو ترک کرنے پر زوردینے والی ایک درخواست زیر التوا ء ہے‘ جس کی وجہہ سے ملازمت اور عقیدے کے انتخاب کے مشکل حالات سے انہیں دوچار ہونا پڑرہا ہے۔

سکھ امریکی اتحاد جو اس مہم میں پیش پیش تھا نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے مطالبات دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ نہیں سنایاگیا ہے۔

اتحادی گروپ کے لیگل ڈائرکٹر ہرسی مان کور نے کہاکہ ’’ اس ضمن میں ہمیں ایک مستقل پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ تمام اقلیتوں کے تئیں پائے جانیوالے تحدیدات ختم ہوسکے اور وہ آزادی کے ساتھ بناء کسی توقع کے کام خدمات انجام دے سکیں۔
PTI

TOPPOPULARRECENT