Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / امریکی انتخابات کے بارے میں عالمی رائے

امریکی انتخابات کے بارے میں عالمی رائے

امریکہ میں صدارتی انتخابات اپنے فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوچکے ہیں اور اس موقع پر دنیا کے بعض ممالک نے صدارتی امیدواروں کے تعلق سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جو حسب ذیل ہیں:
ہندوستان    ہندوستان نے عہد کر رکھا ہیکہ امریکہ کے ساتھ معاشی روابط مضبوط کئے جائیں گے اور ملٹری کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی سمت میں بھی پیشرفت کی جائے گی۔ ہلاری کلنٹن کی ہندوستانی ۔ امریکی کمیونٹی بالخصوص نوجوان نسل کے گوشوں میں اچھی ساکھ ہے۔ وہ اپنی ریپبلکن حریف کے مقابل ہندوستان کے بارے میں کافی بہتر معلومات رکھتی ہیں لیکن یہ بھی درست ہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی ہندوستانی ۔ امریکی برادری کو راغب کرنے کی تازہ کوششیں کامیاب ہوتی نظر آئی ہیں۔ ہندوستانی حکومت اور پالیسی ساز گوشوں کو اس تعلق سے زیادہ فکرمند نہیں دیکھا گیا ہیکہ کون جیتے گا کیونکہ وہ دونوں صورتوں میں اپنی حکمت عملی کے ساتھ تیار نظر آتے ہیں۔ ماضی میں ہندوستان کو امریکی صدارتی انتخابات کے تعلق سے زیادہ پرتجسس دیکھا گیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ معاملہ کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔
روس    روسی صدر ولادیمیر پوٹن شخصی طور پر ہلاری کلنٹن کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کی ناپسندیدگی اس وقت سے ہے جب ڈیموکریٹ نامزد امیدوارہ سیکریٹری آف اسٹیٹ ہوا کرتی تھیں۔ دوسری طرف ڈونالڈ ٹرمپ ایسے لیڈروں کے زمرہ میں ٹھیک ٹھیک موزوں معلوم ہوتے ہیں جن کی روس نے دیگر مغربی ملکو ں میں تائید کی ہے۔
سعودی عرب     سعودی عرب میں ڈونالڈ ٹرمپ کے ممکنہ صدر بننے کے تعلق سے تشویش کا ماحول دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکہ سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے اور ان کے داخلہ پر امتناع عائد کردینے ریپبلکن صدارتی امیدوار کی تجویز کے ساتھ ساتھ ریاض حکومت سے ایسی اپیلیں بھی ہوئی ہیں کہ امریکی ملٹری کی جانب سے تحفظ کی فراہمی کیلئے ادائیگی کی جائے۔ اس قسم کے اعلانات امریکی قانون سازی سے نئے خطرہ کے درمیان سامنے آئے ہیں کہ 9/11 کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی اجازت دی جائے۔ ہلاری کلنٹن کی صدارت کی صورت میں خلیج کی شاہی مملکتوں کیلئے زیادہ ہم آہنگ ماحول رہے گا، جنہوں نے کلنٹن فاونڈیشن کیلئے کئی ملین ڈالر کے عطائے دیئے ہیں۔
چین     ڈونالڈ ٹرمپ چین کے تعلق سے کافی ناقد ثابت ہوئے ہیں جیسا کہ وہ ایشیاء کی سب سے بڑی معاشی طاقت پر الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ اس نے لاکھوں امریکی نوکریاں ہتھیا لئے ہیں۔ چند روز قبل ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین اپنی کرنسی کی قدر کو گھٹاتے ہوئے امریکی معیشت کو تباہ کرسکتا ہے۔ تاہم امریکی صدارتی الیکشن کے مسئلہ پر چین کو ایسا معلوم ہوتا ہیکہ کوئی خاص دلچسپی نہیں کیونکہ کوئی بھی پارٹی برسراقتدار آئے ، چین اور امریکہ کے موجودہ باہمی رشتہ میں کچھ قابل لحاظ تبدیلی ہونے والی نہیں۔ براک اوباما چین سے متعلق علاقائی تجارتی معاہدہ کو منظور کرانے سے قاصر رہے ، اور مسزکلنٹن اور مسٹر ٹرمپ دونوں نے بھی  اس معاہدہ کو منسوخ کردینے کے ارادوں کا اظہار کر رکھا ہے۔
یوروپ     یوروپیوں کے پاس ہلاری کلنٹن کی تائید کرنے کی زیادہ وجوہات ہے۔ ایک وجہ یہ ہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے انہیں موردالزام ٹھہرایا ہیکہ وہ اپنی سلامتی کیلئے امریکی ملٹری پر انحصار کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایک سے زائد مرتبہ کہا ہیکہ امریکہ نیٹو اتحاد پر بہت زیادہ خرچ کررہا ہے جس سے خود ملک کے اقتصادی اقدام پر اثر پڑ رہا ہے۔ اس پس منظر میں واضح ہیکہ ٹرمپ نظم و نسق یوروپیوں کو نیٹو کی ضروریات کیلئے اپنے سرکاری خزانوں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لگانے کی ترغیب دے گا۔
برطانیہ       ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح برطانیہ کیلئے مخمصہ بن جائے گی بالخصوص اس لئے کہ برطانوی ایم پیز نے کبھی ریپبلکن امیدوار کے برطانیہ میں داخلہ پر امتناع عائد کرنے کے تعلق سے مباحث کئے تھے۔ ہلاری کلنٹن کا نظم و نسق ہو تو برطانیہ کیلئے زیادہ مانوس ماحول ہوگا کیونکہ سینئر امریکی سفارتکاروں کا برطانوی حکام کے ساتھ اچھا تال میل ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے باہمی رشتے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہیکہ روس، مشرق وسطیٰ اور مابعد بریکسیٹ تجارت جیسے معاملوں میں دونوں کیلئے چیلنج سامنے آئیں گے۔
میکسیکو   ڈونالڈ ٹرمپ کا ابھر آنا میکسیکو میں سب سے زیادہ بے چینی کا پاس ہے کیونکہ ریپبلکن لیڈر نے سرحدی دیوار تعمیر کرانے کا وعدہ کیا ہے جس کا خرچ میکسیکو سے وصول کیا جائے گا۔ سرحدی دیوار کے تعلق سے ٹرمپ کا بیان اور شمالی امریکی آزادانہ تجارت معاہدہ (نافٹا) میں تبدیلیاں اور میکسیکو کی تیار کردہ اشیاء پر محصول عائد کرنے جیسی تجاویز نے بھی میکسیکو والوں کو تشویش میں مبتلاء کر رکھا ہے۔ میکسیکو کے گذشتہ 25 سال سے امریکہ سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔
آسٹریلیا میں پناہ گزینوں پر پابندی کے مسئلہ پر تعطل
سڈنی،8نومبر(سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا میں کشتی کے ذریعہ داخل ہونے والے پناہ گزینوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ آج اس وقت کھٹائی میں پڑگیا جب اپوزیشن نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اس کی زوردار مخالفت کرے گا۔اس منصوبہ کے تحت پناہ لینے کے خواہش مند لوگ جنہیں حقیقت میں پناہ گزینوں کے برابر سمجھا جاتا ہے اورجو کسی تیسرے ملک میں رہ چکے ہیں انہیں سیاحتی ،تجارتی اور کوئی دیگر ویزا نہیں دیا جائے گا۔ اپوزیشن لیڈر بل سورٹن نے سخت ردعمل میں کہا: ’’خیال یہ ہیکہ امریکہ، کناڈا،نیوزی لینڈ کے کسی بھی شہری پر آپ 30تا40سال پابندی لگائیں گے جو ناقابل قبول ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT