Wednesday , September 20 2017
Home / پاکستان / امریکی دباؤ مسترد، پاکستان ایٹمی ہتھیار تیار کرتا رہے گا

امریکی دباؤ مسترد، پاکستان ایٹمی ہتھیار تیار کرتا رہے گا

این ایس جی گروپ کا حصہ بننے آئندہ ماہ ہندوستان کے ساتھ ہی درخواست کا ادخال ممکن
اسلام آباد۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام)پاکستان نے نئے ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرنے سے متعلق امریکی دباؤ مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایٹمی سپلائرز گروپ میں شمولیت کا اہل ہوچکا ہے اور اسے اس گروپ کا رکن بنایا جائے۔ پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار روکنے سے متعلق امریکی دباؤ مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی اخبار ’’ایکسپریس ٹریبون‘‘ کے مطابق منگل کو ہوئے  ایک اجلاس میں امریکی وفد نے بھرپور دباؤ ڈالا کہ پاکستان کو اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار کیا جائے، جس کے تحت مزید ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی عائد ہو سکے۔ دوسری جانب پاکستان کے معتمد خارجہ اعزاز چودھری کے مطابق امریکی وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان ان تمام معیارات پر پورا اترتا ہے، جن کے تحت وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ بات اس طرف بھی ایک اشارہ ہے کہ پاکستان آئندہ ماہ ہندوستان کے ساتھ ہی اس گروپ کا رکن بننے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے اس اقدام کی وجہ سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ بھی ہندوستان اور پاکستان کے مابین پائی جانے والی کشیدگی کا حصہ بن جائے گا۔ گزشتہ برس سفارت کاروں نے خاموشی سے ہندوستان کو اس اڑتالیس ملکی گروپ میں شامل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کا ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہنا تھا، ’’پاکستان نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس قابل ہے کہ (نیوکلیئر ) ایکسپورٹ کنٹرول نظام کا حصہ بن سکے، خاص طور پر این ایس جی گروپ کا۔‘‘وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بیان گزشتہ روز پاکستانی معتمد خارجہ اعزاز چودھری اور آرمس کنٹرول کیلئے امریکی نائب وزیر خارجہ روز گوٹیمؤلر کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اس ملاقات سے متعلق کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے سے ہندوستان کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ہے کہ یوں خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہو جائے گا۔صرف ہندوستان کی اس گروپ میں شمولیت سے پاکستان کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی ملک چین کے ناراض ہونے کا بھی خطرہ موجود ہے، جو ہندوستان کی کسی بھی درخواست کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ چین یہ شرط بھی رکھ سکتا ہے کہ ہندوستان کو اس گروپ میں اسی صورت میں شامل کیا جائے گا اگر پاکستان کو بھی اس گروپ کا رکن بننے کی اجازت ہونی چاہیے۔ایک دوسری مشکل یہ بھی ہے کہ نہ تو ہندوستان اور نہ ہی پاکستان نیوکلیئر  عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا حصہ ہیں۔ اس معاہدے کا حصہ ہونا عام طور کسی بھی ملک کے لیے این ایس جی گروپ میں شمولیت کی لازمی شرط سمجھا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ اپنا آئندہ اجلاس جون میں منعقد کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT