Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / امریکی ریاست مسی سپی میں ’مذہبی آزادی‘ کا متنازعہ بل منظور

امریکی ریاست مسی سپی میں ’مذہبی آزادی‘ کا متنازعہ بل منظور

واشنگٹن۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکی ریاست مسی سپی کے گورنر نے ایک متنازعہ بل منظور کیا ہے جس کے تحت کمپنیوں کو اپنے مذہبی عقیدہ  کی بنیاد پر ’’ہم جنس پرستوں‘‘ کو خدمات فراہم کرنے سے انکار کی اجازت ہوگی۔گورنر فل برائنٹ نے مساوی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کی مخالفت کے باوجود کل ایچ بی 1532 کی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد اسے ایک قانون کی شکل دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بل ’اپنے مذہبی عقائد اور اخلاقی اقدار پر ایمانداری سے قائم رہنے والوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔‘اس بل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بل ہم جنس پرستوں، اور جنس تبدیل کرنے کے خواہش مند افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کی قانونی اجازت دیتا ہے۔یہ بل اس وقت متعارف کروایا گیا ہے جب امریکہ کی دیگر ریاستیں بھی اسی ہی طرح کے بل منظور کرنے کے بارے میں غور کررہی ہیں۔حال ہی میں شمالی کیرولائینا کی ریاست نے ایک بل منظور کیا ہے

جس میں ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے تحفظ کی نفی کی گئی ہے اور ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنی جنسی شناخت کے مطابق بنائے گئے مخصوص ریسٹ روم استعمال کریں۔ ریاست جارجیا کے گورنر نے کو بھی اسی طرح کے ایک بل کو ریاست کی بڑ ی منافع بخش کمپنیوں کے دباؤ پر ختم کرنا پڑا۔گزشتہ برس امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کے فیصلے کے بعد مذہبی گروہ متحرک ہوگئے ہیں، جن کے دباؤ میں آکر امریکی ریاستیں مذہبی عقائد کی بنیاد پر قانون سازی کررہی مسی سپی بل کے مقصد میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ اُن لوگوں کے عقائد کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کا رشتہ صرف ایک عورت اور مرد کے درمیان ہی قائم ہوسکتا ہے اور جنسی تعلقات صرف شادی کے بعد ہی استوار کیے جاسکتے ہیں اور یہ کہ انسانوں کو اپنی جنس تبدیل نہیں کروانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT