Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / امریکی ریاست کیلیفورنیا کی عدالت میں ٹرمپ کو ایک اور دھکہ

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی عدالت میں ٹرمپ کو ایک اور دھکہ

سفر پر امتناع کے احکام پر درخواست کی سماعت ، سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر سابقہ فیصلے کی توثیق
لاس اینجلس ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت نے آج صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کو ایک اور دھکہ دیا جبکہ سفر پر امتناع کی احکام کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کردہ درخواست سماعت کیلئے قبول کرلی۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ چند پناہ گزینوںکو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ یہ سفر پر امتناع کے قانونی تنازعہ کا ایک نیا موڑ ہے۔ اس سے پہلے جنوری میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس امتناع کا اعلان کیا تھا جس پر بڑے پیمانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے ساتھ تعصب قرار دیا گیا تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہاکہ انہیں ضرورت ہیکہ دہشت گردوں کو باہر رکھیں۔ اپنے نئے فیصلہ میں امریکہ کی 9 ویں عدالت مرافعہ نے سان فرانسسکو کی عدالت کے فیصلہ کی بنیاد پر کل ہوائی کی عدالت کے حکم کو برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ انتظامیہ کے خلاف ہے جس کے خلاف اپیل کی گئی تھی۔ نیا فیصلہ کرنے والی ریاستوں میں امتناع سے پناہ گزینوں کو جو کسی ادارہ سے رسمی تیقن رکھتی ہوں، امریکہ میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ ادارہ یہ تیقن امریکہ کو فراہم کرے گا کہ اس کے استقبال اور ملازمت کا انتظام کیا جائے گا۔ اس سے تقریباً 24 ہزار پناہ گزینوں کی امریکہ میں داخلہ کی راہ ہموار ہوجائے گی جو امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواستیں کرچکے ہیں اور انہیں پہلے ہی منظور کیا جاچکا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے جولائی میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ سان فرانسسکو کی عدالت کی تین رکنی بنچ نے توثیق کی تھی کہ امتناع دادا دادی، نانا نانی اور دیگر قریبی ارکان خاندان پر نافذ نہیں ہوگا جو 6 مسلم ممالک کے متوطن ہوں اور امریکہ میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے خواہشمند ہوں۔

سپریم کورٹ نے جون کے اواخر میں فیصلہ سنایا تھا کہ 90 روزہ سفر پر امتناع کا مقصد امکانی صیانتی خطروں کی جانچ کرنا ہے۔ اسے وسیع تر معنوں میں بھی 6 مسلم غالب آبادی والے ممالک کے شہروں پر لگاو کیا جاسکتا ہے جہاں امریکہ میں ان کے کوئی قریبی رشتہ دار قیام پذیر نہ ہوں۔ چند دن بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے احکام کی تاویل کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کا مطلب صرف قریبی ارکان خاندان ہے جن کو استثنیٰ دیا جائے گا۔ تاہم اس نے اس بات کی وضاحت سے گریز کیا کہ کیا اس کا مطلب والدین، زوجہ، بچے اور بیٹے اور بہویں بھی ہیں۔ چھوٹے بھائی اور بہن سوتیلے بھائی اور بہن جو چھوٹے ہوں اور ایک ہی والد کی والد نہ ہوں کیا ان پر بھی یہ قانون لاگو ہوگا۔ کیلیفورنیا کی عدالت نے کہا تھا کہ انتظامیہ کوئی وضاحت پیش نہیں کرتا کہ ساس کو قریبی رشتہ دار کیوں نہ سمجھا جائے۔ اس نے دادا دادی، نانا نانی، پوتا پوتی اور نواسا نوسی، خالہ پھوپی، چاچی مامی، چاچا مامو، بھتیجہ بھانجہ، بھتیجی اور بھانجی یا ہمزاد بھائیوں اور بہنوں کو قریبی رشتہ دار کیوں نہ سمجھا جائے۔ سان فرانسسکو کی عدالت نے کہا کہ کیونکہ سپریم کورٹ نے درخواست کی سماعت سے انکار کردیا ہے جب تک کہ وضاحت نہ کی جائے اس لئے وہ امتناع سے ان تمام افراد کو استثنیٰ دے دی۔ محکمہ انصاف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم اب سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے کیونکہ عوام کا تحفظ اور ملک کا تحفظ عدلیہ کی بھی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے احکام کے دستوری پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

TOPPOPULARRECENT