Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / امریکی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی تیاریاں مکمل

امریکی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی تیاریاں مکمل

ڈونالڈ ٹرمپ کی نامزدگی کی راہ میں مشکلات حائل

واشنگٹن ۔ 14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکنس صدارتی امیدوار صدارتی دوڑ کے سب سے اہم مرحلہ میں داخل ہورہے ہیں جہاں صدارتی مباحثہ میںایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش ضرور کی جائے گی کیونکہ نامزدگی کی دوڑ یہاں سے شروع ہوگی اور متنازعہ امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف محاذ تیار کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔ صدارتی دوڑ کے لئے پہلے ووٹس ڈالے جانے کے عمل کو اب صرف 18 روز باقی ہیں۔ جنوبی کیرولینا میں سات امیدوار توجہ کا مرکز ہیں جن میں سے چھ امیدوار اسی فکر میں مبتلاء ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو کس طرح صدارتی دوڑ سے نکال باہر کیا جاسکے اور مباحثہ کا موضوع ملک کو درپیش مسائل کی جانب ہونا چاہئے جبکہ ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کرتے ہوئے انتخابی منظرنامہ کو دلچسپ بنانے کی ناکام کوشش کی ہے اور شاید یہی وجہ ہیکہ ٹرمپ کے خلاف ری پبلکنس کمربستہ ہوگئے ہیں۔ انتخابات کے دوران منافرت انگیز مہم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ انتخابی مہمات کے دوران عوام کو درپیش مسائل کو پیش کیا جاتا ہے اور ان کی (مسائل) پرامن یکسوئی کی کوشش بھی کی جاتی ہے اور عوام سے یہی وعدہ کیا جاتا ہیکہ منتخبہ حکومت ان کی ہر مشکلات کو دور کرے گی۔ جنوبی کیرولینا کی نوجوان اور پرکشش گورنر نکی ہیلی جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ نائب صدر کے عہدہ کیلئے انتہائی موزوں شخصیت ہیں، نے ٹرمپ پر اس قدر تنقیدیں کی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ ٹرمپ کے مخالفین کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔

نکی ہیلی کا کہنا ہیکہ دنیا میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ زور زور سے چلانے پر ان کی بات تسلیم کرلی جائے گی لیکن یہ بات اپنی جگہ درست نہیں ہے۔ زور زور سے چیخنے سے اپنی بات منوانے کا ہنر کارکرد نہیں ہوتا بلکہ اسے ہنر نہیں بلکہ عیب سے تعبیر کیا جانا چاہئے۔ اب امریکہ میں صدارتی انتخاب کی لڑائی دو حریف گروپوں کے درمیان شروع ہوگئی ہے جہاں ہر ایک کی یہی کوشش ہے کہ ٹرمپ کو صدارتی دوڑ سے باہر رکھا جائے۔ نکی ہیلی نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے جو بھی زہرافشانی کی ہے، وہ اب کافی سے زیادہ ہے۔ امریکی شہری منافرت کے ضرورت سے زیادہ متحمل نہیں ہوسکتے۔ نکی ہیلی ہندوستانی تارکین وطن کی بیٹی ہیں جو ایک عرصہ قبل امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔ تاہم یہ بات بھی حیرت انگیز ہیکہ ٹرمپ نے نکی ہیلی کی تنقیدوں کو ذرہ برابر بھی برا نہ مانتے ہوئے اسے مثبت قرار دیا اور سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے (ٹرمپ) غم و غصہ کا اظہار کیا جاتا ہے تو ٹھیک ہے کیونکہ غصہ اور توانائی یہی دو اشیاء ہیں جن کی آج امریکہ کو ضرورت ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نکی ہیلی کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ایک اچھی خاتون ہیں۔ تاہم غیرقانونی تارکین وطن کے تئیں ان کا (نکی ہیلی) موقف بیحد کمزور ہے۔ صدارتی دوڑ کا اہم ترین مباحثہ جمعہ کو رات 9 بجے شروع ہوگا جبکہ اس سے صرف 3گھنٹے قبل تین صدارتی امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے اور اسی روز ایوان نمائندگان کے ری پبلکنس بالٹی مور میں اپنی سالانہ تعطیلات کیلئے جمع ہوں گے جہاں یہ سمجھا جارہا ہیکہ ان کی بات چیت کا مرکز کانگریشنل ایجنڈہ ہوگا جس میں سب سے اہم امیگریشن کے طریقہ کار میں بہتری اور دولت اسلامیہ کو شکست فاش دینا بھی شامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT