Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / امریکی صدر کے عہدہ پر فائز ہونے ہلاری سے بہتر کسی کی تیاری نہیں : بل کلنٹن

امریکی صدر کے عہدہ پر فائز ہونے ہلاری سے بہتر کسی کی تیاری نہیں : بل کلنٹن

ہمپشائر میں پہلی انتخابی مہم سے خطاب، اس وقت ملک کو جوڑے رکھنے کی اشد ضرورت
واشنگٹن ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے آج اپنی اہلیہ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کے بارے میں بیان دے دیا اور کہا کہ اس وقت جتنے امیدوار بھی انتخابی میدان میں ہیں، ان سب میں ہلاری کلنٹن امریکہ کے صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے کیلئے پوری تیاری کرچکی ہیں اور جس طرح انہوں نے اپنی تیاری کی ہے اس کا مقابلہ دیگر کسی بھی امیدوار کی تیاریوں سے کہیں بہتر ہے۔ بل کلنٹن بھی اب اپنی اہلیہ کی انتخابی مہم میں شرکت کا ذہن بناچکے ہیں اور کل انہوں نے ایک ایسی ہی انتخابی مہم میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ان کی معلومات کا سوال ہے انہوں نے ہلاری سے بہتر تعلیمیافتہ، تجربہ کار اور صبروتحمل کا حامل امیدوار اب تک نہیں دیکھا۔ میں یہ باتیں اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہلاری میری بیوی ہیں بلکہ امریکی صدر کے عہدہ کیلئے ہلاری سے بہتر انہیں کوئی امیدوار نظر نہیں آتا۔ ان کے پاس وہ تمام درکار صلاحیتیں ہیں جن کا حامل ایک صدارتی امیدوار کو ہونا چاہئے۔

نیو ہمپشائر میں ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے 69 سالہ بل کلنٹن نے کہا کہ جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا یا سن بلوغت کو پہنچے، انہوں نے امریکہ کی تاریخ میں کسی بھی صدارتی امیدوار کو ہلاری کے مقابلے کا نہیں پایا۔ ہلاری نے جس طرح منصوبہ بندی کی ہے، اس کیلئے میرے پاس تعریفی الفاظ بھی نہیں ہیں۔ بل کلنٹن خود بھی دو میعادوں کیلئے امریکی صدر کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئلہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے جس طرح ہلاری نے آواز ان کو ایک نئی معیشت میں بدل دینے کی جو بات کی ہے اس کیلئے نہیں (بل) ہلاری پر بیحد فخر ہے۔ یہ وہ کمیونٹی ہے جس نے انتخابات کے دوران رائے دہی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ بہرحال افریقی نژاد امریکی شہریوں، ہسپانوی نژاد یا مسلمانوں کے خلاف کوئی امتیاز برتا جاتا ہے تو یہ ہم سب کیلئے ناپسندیدہ ہونا چاہئے۔ آج ہمیں ملک کو جوڑے رکھنے کی اشد ضرورت ہے جو حقیقی طور پر ریاستہائے ’’متحدہ‘‘ امریکہ بن جائے۔ پولیس اور مندرجہ بالا کمیونٹی کو جوڑا جائے، بزنس اور لیبر کو جوڑا جائے اور آخر میں یہاں تک کہوں گا کہ اس ملک کو جوڑا جائے جو بکھرتا جارہا ہے۔ لہٰذا امریکہ کے آئندہ صدر کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرے۔ سماج کو ایک دوسرے سے جوڑے اور وہ بھی اس طرح کہ امریکی اقدار کو ٹھیس تک نہ پہنچے۔ بل کلنٹن نے اس کے بعد کچھ دیر توقف کرتے ہوئے راست طور پر وہاں موجود سامعین سے پوچھا کہ اگر آپ مندرجہ بالا مذکورہ شرائط پر اپنا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کسے ووٹ دیں گے؟ اور امریکہ کو صحیح سمت پر کون لے جاسکتا ہے؟ جس کے بعد سامعین بہ آواز بلند کہا ’’ہلاری، ہلاری‘‘۔ ہلاری نے ملک گیر دورہ کیا ہے۔ وہ امریکہ اور امریکی اقدار کی پاسبان ہیں اور ان کی نبض سے واقف ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے نیویارک کی سینیٹر ہونے کے ناطے کیا تھا یا پھر جب وہ ملک کی وزیرخارجہ تھیں، بل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہلاری آج بھی انہیں ویسی ہی شرارتی لڑکی نظر آتی ہیں جب لاء اسکول میں دوران تعلیم وہ (بل) ان کے عشق میں مبتلاء ہوگئے تھے۔
فوربس کی فہرست میں 45 ہندوستانی
نیویارک ۔5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)  فوربس کی جانب سے ایسے 30 سال سے کم عمر کے افراد جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے، مرتب کی گئی نئی فہرست میں 45 ہندوستانی اور ہندوستانی نژاد افراد بھی شامل ہیں جبکہ فوربس کی نئی فہرست کا عنوان ’’تھرٹی انڈر تھرٹی‘‘ ہے جس میں 600 مرد و خواتین کے نام درج ہیں جنہیں امریکہ کی انتہائی اہم شخصیات قرار دیا گیا ہے جن میں نوجوان انٹر پرینرس، کریٹیو لیڈرس اور انتہائی روشن ستارے شامل ہیں جنہوں نے کنزیومر ٹیکنالوجی، تعلیم، میڈیا، مینوفکچرنگ، انڈسٹری، لاء اینڈ پالیسی، سوشیل انٹر پرینرس، سائنس اور آرٹس و سائنس کے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

TOPPOPULARRECENT