Monday , August 21 2017
Home / دنیا / امریکی فضائی حملے میں دولت اسلامیہ کا اعلیٰ سطحی قائد ہلاک

امریکی فضائی حملے میں دولت اسلامیہ کا اعلیٰ سطحی قائد ہلاک

پیرس حملوں کے بعد دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں شدت کا امکان
واشنگٹن ۔15نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) لیبیا میں دولت اسلامیہ کے مقامی سربراہ امریکہ کے فضائی حملے میں ہلاک کردیئے گئے ۔ محکمہ دفاع امریکہ پنٹگان نے آج اس کا اعلان کیا ۔ چند دن قبل امریکی ڈرون حملے سے دہشت گرد گروپ کے خوفناک رکن جہادی جان کی ہلاکت کا بھی امریکہ نے دعویٰ کیا ہے ۔ امریکی فوج نے لیبیا میں دولت اسلامیہ کے ابونبیل کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا تھا ۔ انہیں وسام نجم عبدالزاہد الزبیدی بھی  کہا جاتا ہے وہ عراقی نژاد تھے اور طویل عرصے تک القاعدہ کے سرگرم کارکن رہ چکے ہیں ۔ بعدازاں انہیں لیبیا میں دولت اسلامیہ کا صدر مقرر کیا گیا ۔ پنٹگان کے پریس سکریٹری پیٹر کُک نے کہاکہ ابونبیل پر حملہ امریکی ایف 15 لڑاکا جٹ طیاروں سے کیا گیا تھا ۔ پنٹگان نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد گروپ دولت اسلامیہ نے پیرس میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جس میں 129افراد بھگدڑ ‘ بم حملوں اور فائرنگ میں ہلاک ہوچکے ہیں ۔ تاہم پنٹگان نے کہا کہ دونوں واقعات کا ایک دوسرے سے کوئی ربط نہیں ہے ۔ دراں اثناء پیرس دہشت گرد حملے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر امریکہ بارک اوباما کو مجبور کردیں گے کہ وہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں شدت پیدا کردیں لیکن غالباً اس کا مطلب ڈرامائی اقدامات جیسے امریکہ کی جانب سے جنگ کا آغاز یا بین الاقوامی زمینی حملہ نہیں ہوگا ۔ فضائی بمباری میں اس توقع کے ساتھ شدت پیدا کردی جائے گی کہ پُرتشدد انتہا پسندی کے دنیا بھر کو لاحق خطرے سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکے ۔ انتھونی کورڈس مین نے کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ رہنے کیلئے نہیں آئے ہیں ۔ دہشت گردوں پر حملے اُسی وقت تک کئے جائیں گے جب تک کہ وہ ناگزیر ہوں گے ۔ امریکی حکمت عملی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مقامی فوج جب تک دولت اسلامیہ کے مقابلہ کے قابل نہ ہوجائے امریکہ کی کارروائی جاری رہے گی ۔

TOPPOPULARRECENT