Tuesday , September 19 2017
Home / مضامین / امریکی مذہبی آزادی کمیشن کو ویزا دینے سے انکار کیوں؟

امریکی مذہبی آزادی کمیشن کو ویزا دینے سے انکار کیوں؟

غضنفر علی خان
امریکہ میں مذہبی آزادی کی چھان بین کرنے والا ادارہ ’’پولیس کمیشن آف انٹرنیشنل ویجیلنس فریڈم کمیشن وہاں ایک بااختیار اداہ ہے ۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی آزادی کے موقف کی چھان بین کرتا ہے ۔اس کمیشن کے ایک وفد نے جو 2 ارکان پر مشتمل تھا ،ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ہندوستان کا دورہ کرنے لئے بے حسب قاعدہ ہندوستانی ویزا کے لئے درخواست دی تھی لیکن ہندوستانی وزارت خارجہ نے امریکی وفد کو ویزا دینے سے صاف انکار کردیا اور طرفہ تماشا یہ کہ اس کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں بتائی گئی ۔ وجہ اگر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پچھلے دو سال سے مذہبی آزادی کو دستوری حق نہ سمجھنے والے حکمران اور ان کے ہمنوا ہندوستان کی تکثیریت کو ہندوتوا کی یک رنگی بنانے کے خواہاں ہیں ۔ ان کی ہر وقت یہ کوشش رہتی ہے کہ ہندوستان میں ہندو راشٹر قائم ہو ۔

اس کی وجہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ ہمارے ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی ہندوؤں کی ہے ۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس بڑی آبادی کے باوجود ہمارا ملک کسی ایک مذہب کا علمبردار نہیں بن سکتا ۔ یہاں مختلف عقائد ، مذاہب ، زبانوں اور تہذیبوں کا غلبہ ہے اور ہر ہندوستانی باشندہ کو یہ آزادی (صرف دستور کی حد تک) حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقیدہ پر قائم رہے۔ یعنی کوئی دوسرا سماجی گروہ خواہ اس کو عددی برتری حاصل کیوں نہ ہو کسی دوسرے پر اپنا عقیدہ مسلط نہیں کرسکتا ۔ یہ بات صرف کاغذی تیقن بن کر رہ گئی ہے ۔ امریکی وفد کو دورہ ہندوستان کی اجازت نہ دینے میں حکومت ہند کی یہی مصلحت رہی ہے کہ کہیں بھانڈا نہ پھوٹ جائے ۔ آج جو فرقہ پرست طاقتیں قانون اور حکومت کے خوف سے بالکلیہ آزاد ہو کر مذہبی تعصب کا پرچار کررہی ہیں ۔ ملک کی مذہبی اقلیتوں مسلمانوں اور عیسائیوں پر اپنا عقیدہ تھوپ رہے ہیں تو بھلا امریکی وفد کو ہندوستان کا دورہ کرنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی تھی ، لیکن امریکہ بھی کوئی دودھ کا دھلا نہیں ہے ، وہاں پر بھی گورے کالے کا امتیاز آج بھی جاری ہے ۔ امریکہ میں رہنے والے مسلمان آج بھی امتیاز کے شکار بنائے جارہے ہیں ۔ ہندوؤں کی عبادت گاہیں ان کے منادر ، سکھوں کے گردواروں پر آئے دن وحشیانہ حملے ہوتے ہیں ۔ کہنے کو امریکہ میں مذہبی آزادی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ یہاں بھی عیسائیت کے علاوہ دیگر عقائد کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ امریکی حکومت مذہبی آزادی چھیننے والوں کی پشت پناہی نہیں کرتی جبکہ ہمارے ملک ہندوستان میں مذہبی آزادی کو ختم کرنے کی ہر کوشش کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔ ہر واقعہ کے حقائق کو توڑ مروڑ کر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے ۔ ہر مذہبی آزادی کو متاثر کرنے کے معاملہ کی مختلف بہانوں کی آڑ میں تشریح کی جاتی ہے ۔

ان حالات میں امریکہ کے کمیشن کے وفد کو اگر ہندوستان کا دورہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو کئی تلخ حقائق بین الاقوامی کینوس پر آجائیں گے ۔ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ رائے پور کے ایک گرجا گھر پر بجرنگ دل کے کارکنوں نے اتوار کے مذہبی اجتماع کے موقع پر حملہ کیا تھا وہاں موجودہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ سلوک کیا گیا تھا ۔ اس سلسلہ میں شکایت کے بعد مقامی پولیس نے 19 افراد کو گرفتار کیا ان میں سے 7 نابالغ ثابت ہوئے ۔ اب بھلا نابالغوں کے خلاف کیا کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ایسا تو ممکن نہیں کہ گرجا گھر پر حملہ کرنے والے تمام کے تمام بچے تھے ۔

ان میں بڑے بھی شامل تھے تو گرفتار صرف بچے کیوں کئے گئے ۔ یہ اس لئے کہ ملزموں کے نابالغ ہونے کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جاسکے ۔ ایک رائے پور کے گرجا گھر کی بات نہیں ، کئی واقعات ہورہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں مذہبی آزادی سلب کرنے کی کوشش جاری ہے ۔ مسلمانوں کو افتاد تو اور بھی دردناک ہے سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کو زبردستی ہندو دھرم اپنانے پر مجبور کیا گیا ، حالانکہ  یہ تمام توبہ کرکے پھر اسلام میں داخل ہوگئے ۔ لیکن اس واقعہ سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والے دوسروں کی مذہبی آزادی کو قطعی برداشت نہیں کرتے ۔ یہ انتہا پسند ابھی کم تعداد میں ہیں لیکن جس طرح بی جے پی حکومت دیدہ و دانستہ ان انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کو نظر انداز کررہی ہے بہت جلد ان کی تعداد بڑھ جائے گی اور ہر واقعہ کے بعد ان کے حوصلے بلند ہوجائیں گے ۔ ان حالات میں اگر کوئی امریکی وفد یہاں کا دورہ کرتا ہے تو ہندوستان کی امیج متاثر ہوگی ۔ اسی خام خیالی کے تحت امریکی وفد کو ویزا نہیں دیا گیا ۔ کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ امریکہ نے خود وزیراعظم نریندر مودی کو (جبکہ وہ اس عہدہ پر فائز نہیں تھے) امریکہ کا ویزا دینے سے صاف انکار کردیا تھا ۔ یہ اس لئے کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف گجرات کے مسلم کش فسادات کی سرپرستی کرنے کا الزام تھا ۔ ان فسادات میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی جس طرح خلاف ورزی ہوئی تھی اس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن بعد میں حالات بدل گئے اور اتفاقاً مسٹر مودی ہندوستان کے وزیراعظم بن گئے ۔ انھیں نہ صرف امریکی ویزا دیا گیا بلکہ ان کی شاندار پذیرائی کی گئی ۔ مودی حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی صدر بارک اوباما نے اپنے دورہ ہند کے موقع پر کہا تھا کہ ’’ہندوستان کی طاقت کا سرچشمہ یہاں بسنے والے مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں ۔ ہندوستان میں جب تک مذہبی رواداری ہے ، تکثیریت ہے ، ہندوستان کی اس طاقت کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا‘‘ ۔ یہ بات اوباما نے اس لئے کہی تھی کہ انھیں ہندوستان ہی میں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں مذہبی آزادی ، رواداری ، تحمل پسندی ، تیزی سے ختم ہورہی ہے ۔ اب تو مذہبی آزادی کے سلب ہونے کے کئی واقعات ہورہے ہیں ۔ کوئی بیرونی کمیشن اگر دورہ کرے تو سارے حقائق طشت از بام ہوجائیں گے ۔

یہ ثابت کرنے کی اب ضرورت نہیں رہی کہ ملک میں مذہبی آزادی اور رواداری صرف کتابوں میں محفوظ رہ گئی ہے۔ عام روزمرہ کی زندگی میں مذہبی آزادی ہر طرف سے خطرات میں گھری ہوئی ہے ۔ جب تک ہندوستان میں مذہبی آزادی کا مکمل طور پر تحفظ نہیں ہوتا تب تک مذہبی اقلیتیں خود کو پوری طرح آزاد نہیں سمجھتیں ۔ اس وقت تک سیکولر جمہوری ہندوستان کی کوئی دل آویز تصویر نہیں بن سکتی ۔ امریکہ کا مشن یا اسکا وفد اگر یہاں کا دورہ کرتا ہے تو اس کو سارے حقائق معلوم ہوجائیں گے ۔ لیکن یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ ملک کی قیادت اس مذہبی آزادی اور رواداری کا فی الواقعی تحفظ کرنا چاہتی ہے ۔ صورتحال نہایت ابتر ہے ۔ عدم تحمل پسندی کی مثال یہ ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کو گولی ماردینے ، ان کو ہلاک کرنے والے کو بی جے پی لیڈر نے 11 لاکھ روپیے بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔ ایک اور بی جے پی لیڈر نے کہا ہے کہ کنہیا کمار کی زبان کاٹنے والے کو 5 لاکھ روپے علحدہ طور پر بطور انعام ملیں گے ۔ حد ہوگئی نہ صرف مذہبی آزادی کا فقدان پیدا ہوگیا ہے بلکہ اب تو اختلاف رائے کو بھی برداشت نہیں کیا جارہا ہے ۔ بر سر اقتدار پارٹی کے منتخب لیڈر ارکان پارلیمنٹ یہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں ملک میں رہنے نہیں دیں گے جو ہمارے افکار کی حمایت نہیں کرتے ، اختلاف رائے کو دشمنی کی حد تک پہنچانے والے یہ انتہا پسند لیڈروں کو مودی حکومت نے کبھی لگام دینے کی کوشش نہیں کی بلکہ خاموشی اختیار کرکے درپردہ ان کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ ان حالات میں حکومت کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ اگر کوئی بیرونی وفد ملک کا دورہ کرے گا تو اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر مرتب ہوں گے اور ملک کی رسوائی ہوگی ۔ ملک میں مذہبی آزادی کا گلہ گھونٹا جارہا ہے ۔ بعض عناصر ہندوستان کی جمہوری اور دستوری حیثیت ہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ وہ اپنے ان ناپاک عزائم میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ملک کی سیکولر طاقتیں جن میں اب طلبہ برادری بھی شامل ہوگئی ہے ضرور فرقہ پرستوں کو شکست دیں گی ۔

TOPPOPULARRECENT