Saturday , September 23 2017
Home / اداریہ / امریکی مسلمانوں کیلئے مصائب کی گھڑی

امریکی مسلمانوں کیلئے مصائب کی گھڑی

تو سب کا آسرا ہے اے آسمان والے
تو صاحب عطا ہے اے آسماں والے
امریکی مسلمانوں کیلئے مصائب کی گھڑی
امریکی صدارتی انتخاب کے لئے دو بڑی پارٹیوں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن کے صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کے لئے جاری مہم کے دوران اگر تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں مسلم طبقہ کا نام نمایاں کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی حربے کا حصہ سمجھا جانا ممکن ہے۔ امریکہ میں ان دنوں مخالف مسلم سوچ کو شدت سے فروغ دینے والے گروپس تیزی سے کامیاب ہورہے ہیں۔ پیرس میں دہشت گرد حملے کے بعد امریکہ اور مغربی ملکوں کے ایرپورٹس کی ناکہ بندی کرتے ہوئے ایمگریشن چیک کو سخت کردیا گیا جس سے کئی ملکوں سے امریکہ یا مغربی ملکوں کو پہونچنے والے مسافرین کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مشتبہ ہونے اور کسی شہری کو مشکوک بتانے کے عمل میں فرق ہوتا ہے۔ ان دنوں ہر ایرپورٹ پر سکیوریٹی سخت کردی گئی ہے۔ بیشتر ایرپورٹس پر مخالف مسلم آفیسرس نے انتہائی نفرت انگیز رویہ اختیار کرلیا ہے۔ امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں پاکستانی نژاد امریکی مسلم شہری اور اس کی پاکستانی اہلیہ کی جانب سے کرسمس پارٹی پر کی گئی فائرنگ، 14 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف پہلے سے موجود نفرت پر مبنی سوچ کو مزید تقویت حاصل ہوگئی ہے۔ لاس اینجلس کے مشرقی شہر سیان بریناڈینو میں اس مسلم جوڑے سے جو غلطی ہوئی یا اس جوڑے کے حوالے سے جو واقعہ رونما ہوا، یہ قابل مذمت ہے۔ اس سے ساری امریکی مسلم برادری کو مشکوک نہیں بنایا جانا چاہئے۔ مسلم ایمگرینٹس کو بدنام کرنے اور آنے والے دنوں میں دنیا بھر کے مسلم ایمگرینٹس کو امریکہ کا رُخ کرنے سے روکنے کے لئے کوشاں بعض امریکی گروپس کو موقع مل گیا ہے کہ وہ اب اپنے موقف پر قائم رہ کر امریکی قانون میں تبدیلی لائیں۔ امریکی سنیٹ میں ری پبلکن صدارتی امیدواروں کا دو گروپ بن گیا ہے۔ ایک گروپ مسلم ایمگریشن کی پالیسی کو برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے تو دوسرے گروپ نے اب امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے کو روکنے پر زور دیا ہے۔ زائداز 30 مسلم ملکوں سے آنے والے مسلم ایمگرینٹس کو آئندہ امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تو امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بڑا سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والوں کی رائے بھی اقتدار اور سیاسی کامیابی کی جدوجہد میں منقسم ہوگئی ہے۔ جب کبھی سیاسی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے تو دنیا کے ہر ملک میں کسی نہ کسی طرح طبقاتی نفرت انگیز مہم شروع کی جاتی ہے۔ امریکہ اور یوروپ میں مسلمانوں کی بڑھتی اکثریت پر تشویش رکھنے والوں نے اب نیا جال تیار کرلیا ہے تو یہ مغربی دنیا کے مسلم طبقہ کے ارکان کے لئے تشویش کی بات ہے۔ امریکہ میں موجودہ ایمگریشن پالیسی کے تحت سالانہ 2,80,000 ویزا جاری کئے جاتے ہیں جس میں عارضی اور مستقل مسلم ایمگرینٹس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ہر سال ایک لاکھ سے زائد مسلم ایمگرینٹس کو گرین کارڈس جاری کیا جاتا ہے۔ گرین کارڈ ہولڈرس کو تاحیات کام کرنے کی اجازت، رہائش، ویلفیر اور امریکہ کے کامل رائے دہی کا حق رکھنے والے شہری بن جاتے ہیں۔ امریکی سنیٹ ایمگریشن سب کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ سال کے دوران امریکہ میں 7 لاکھ مسلمانوں کو گرین کارڈ حاصل ہوگا اور یہ تعداد واشنگٹن ڈی سی کی آبادی سے بڑھ کر ہے۔ اس لئے ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں میں سے ایک گروپ نے مسلم ایمگرینٹس کو روکنے کی حمایت کی ہے تو دوسرے گروپ نے مسلم ایمگرینٹس کی پالیسی جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ اگر امریکی صدارتی انتخاب میں اس مرتبہ ڈیموکریٹک کے بجائے ری پبلکن پارٹی کا امیدوار صدر منتخب ہوتا ہے تو امریکی مسلمانوں کے لئے نت نئے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ قوی ہوگا۔ کیلی فورنیا میں رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک کی خود کار رائفلوں سے کی گئی کارروائی کے بعد ساری دنیا کے مسلمانوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ایک سمجھدار پابند صوم و صلوٰۃ امریکی قانون کا پابند شہری اور ان کی مذہبی اطاعت پسند اہلیہ اس طرح کی حرکت کا ارتکاب کرکے ہر ایک کو حیران کیوں کر کیا ہے۔ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے کہ مسلمانوں کو پہلے ہی سے بلی کا بکرا بنانے والوں اور نفرت کا پیغام پھیلانے والوں اور انفرادی مسلم افراد کو نشانہ بنانے والوں کے لئے ایک اور موقع مل گیا ہے ،امریکی سماج میں موجود اسلام دشمن عناصر سے نظم و نسق اور مسلم برادری کو چوکس رہنا ضروری ہے۔
ٹاملناڈو میں سیلاب
ٹاملناڈو کے کئی اضلاع خاص کر دارالحکومت چینائی میں حالیہ شدید بارش کے بعد سیلاب کی صورتحال کی اصل وجہ تالابوں، نہروں اور جھیلوں کے مقامات پر ناجائز قبضے اور کثیر منزلہ عمارتوں کی تعمیر بتائی جارہی ہے۔ اگر کسی ریاست میں قدرت موسم کا رُخ سخت کردیتی ہے تو پھر حالات کس طرح بد سے بد تر ہوسکتے ہیں، چینائی کی کیفیت کو دیکھ کر اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ چینائی میں 20 سال پہلے جو کھلے مقامات ہوا کرتے تھے اب وہاں بلند عمارتیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ شہری علاقوں میں بڑھتی آبادی نے جگہ کی قلت پیدا کردی۔ کھلے مقامات پر غیر قانونی تعمیرات کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار ہی ہوتے ہیں۔ چینائی کے بلدی عہدیداروں نے اعتراف کیا کہ یہاں دیڑھ لاکھ سے زائد غیر قانونی تعمیرات ہیں اور 300 تالاب اور جھیلوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ جب بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام ہی نہ رہے گا تو تباہی اور بربادی یقینی سمجھی جائے گی۔ حکومت اور اس کے نظم و نسق کی کوتاہیوں کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بارش کے پانی کے گزرنے کے راستوں کو بند کردیا جاتا ہے تو یہ پانی بستیوں اور مکانات میں داخل ہوگا۔ آج ماہرین ماحولیات جن سنگین حالات کی جانب سے نشاندہی کررہے ہیں، اس پر بھی توجہ نہ دینے کی وجہ سے انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہورہے ہیں۔  چینائی سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے میں فوج، بحریہ اور فضائیہ نے امدادی کام انجام دے کر عوام کو راحت پہونچانے کی ہرممکنہ کوشش کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ چینائی میں ہوئی بارش کو اس صدی کی تباہ کن بارش قرار دینے والوں نے نظم و نسق کے لئے بھی چند مخصوص تجاویز چھوڑے ہیں اور اس سیلاب سے یہ درس ضرور ملتا ہے کہ شہروں میں آبادیوں کو وسعت دیتے وقت اگر غیر منصوبہ جاتی کام انجام دیئے جائیں تو شہریوں کے لئے خطرناک صورتحال پیدا ہوگی اور عام زندگی تباہ ہونے کے ساتھ املاک اور دیگر جائیدادوں کو بھی نقصان پہونچے گا۔ پانی کی نکاسی کے انتظامات کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نظم و نسق کا ہر فرد دیانتدار ہوجائے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT