Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / امریکی مسلمان اور ٹرمپ

امریکی مسلمان اور ٹرمپ

دیکھئے تو اِک حبابِ موجِ دریا بھی نہیں
سوچئے تو ایک بحرِ بیکراں ہے زندگی
امریکی مسلمان اور ٹرمپ
مغربی ممالک میں مسلم دشمنی اس طرح بڑھائی جارہی ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اسلام اور مسلمانوں کو اپنا کٹر دشمن سمجھیں لیکن امریکہ، یوروپ اور دیگر ملکوں میں مسلم دشمنی یا اسلام فوبیا کے بڑھتے واقعات کے درمیان برطانیہ میں صادق خان کا لندن میئر کے لئے انتخاب امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے بشمول ان تمام مخالف اسلام اور مسلم دشمن افراد کے منہ پر طمانچہ ہے، جو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے مسلمانوں کو بُرا کہتے ہیں یا ان کا استعمال کرتے ہوئے اپنی سیاسی چالبازیوں میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لئے جاری مہم میں سب سے مکروہ چہرہ ڈونالڈ ٹرمپ کا اُبھر رہا ہے۔ اس لیڈر نے مسلم دشمنی کی آڑ میں اپنی صدارتی آرزوؤں کو پروان چڑھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اس لیڈر کے بڑھتے قدموں نے امریکی مسلمانوں اور دیگر ممالک کے مسلم شہریوں کو ایک قسم کی چوکسی کا پیام دینا شروع کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ ایک ایسا چہرہ ہے جو اپنی پالیسیوں کے ذریعہ امریکہ کو تیسری عالمی جنگ کی جانب ڈھکیل سکتا ہے۔ اس لئے امریکی مسلمان ہوں یا یوروپی مسلم یا ماباقی مسلم دنیا کے لوگوں کے لئے یہ ایک پیشگی چوکسی کا اشارہ ہے۔ دنیا بھر میں جس تیزی کے ساتھ اسلام فوبیا کو بڑھاوا دیا گیا تھا، اس کی ہوا لندن کے میئر کے لئے ایک مسلم امیدوار کے انتخاب نے اُتار دی ہے۔ یہ کامیابی مسلمانوں سے نفرت کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر کے لئے شدید دھکہ ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں خود کو مسلم کٹر دشمن ثابت کرکے ووٹ فیصلہ بڑھانے میں کامیاب ہونے والے ٹرمپ کو مسلمانوں کے خلاف آگے چل کر کارروائیاں کرنے کے نقصانات کا اندازہ ہو یا نہ ہو مگر امریکی مسلمانوں کے لئے یہ انتخابی مہم اور ٹرمپ کی زہر افشانی اور نفرت انگیز تقاریر سے آنکھ کھول دینے کے لئے کافی ہے اور انہیں یہ طئے کرنے کا موقع دے رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں آیا امریکی مسلمان اسی طرح سیاسی داؤبیچ اور اقتدار کی لڑائی کے درمیان قربانی کا بکرا بنتے رہیں گے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو جس طرح سیاسی لڑائی میں قربانی کا بکرا بنایا جاتا رہا ہے، ان خطوط پر امریکی سیاست کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے تو پھر بہت جلد امریکی مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے لائحہ عمل پر توجہ دینی ہوگی۔ ہر چار سال میں امریکی صدارتی انتخاب کے موقع پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانے لگے تو اس کی خراب نظیر دیگر ملکوں تک پھیل جائے گی۔ ہندوستان میں سیکولر اور نقلی سیکولر پارٹیوں کی لڑائی نے مسلمانوں کو شدید نقصان پہونچایا ہے۔ اب یہی عمل امریکی مسلمانوں کے ساتھ بھی ہونے جارہا ہے تو پھر آنے والے برسوں میں مسلم دنیا کو اضطرابی کیفیت سے دوچار کرنے میں مسلم دشمن طاقتوں کو کامیابی ملے گی۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا طرز سوچ تیسری عالمی جنگ کا اشارہ دے رہی ہے تو مغربی طاقتوں کی پالیسیوں سے پہلے ہی سے تباہ ممالک عراق، شام، مشرق وسطیٰ میں فلسطین، لبنان ، لیبیا، مصر، تیسری عالمی جنگ کا پائیدان بن سکتے ہیں۔ مسلم ملکوں میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر ملکوں کے درمیان تصادم کراتے ہوئے مسلمانوں کو کمزور کرنا اصل مقصد ہے۔ اس مقصد کے تحت ٹرمپ جیسے افراد کو وائٹ ہاؤز تک پہونچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شام میں اس وقت جو ممالک صف آراء ہیں، ان کی پالیسیوں کا اندازہ کرلیا جائے تو یہ سچائی سامنے آئے گی کہ مسلم دنیا کے خلاف جنگ کے لئے ماباقی ممالک کو تیار کروایا جارہا ہے۔ داعش یا دولت اسلامیہ یا آئی ایس آئی ایس کے ناموں سے گروپ پیدا کرنے والی طاقتوں نے ہی ڈونالڈ ٹرمپ جیسے لیڈروں کو جنم دے کر مسلم دشمنی میں سب سے آگے جانے کا سبق سکھایا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے مسلمانوں کے بشمول تمام مسلم دنیا کو بدلتے حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر مخالف مسلم طاقتوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ میں صادق خاں کی کامیابی سے حوصلہ پاکر اگر امریکی مسلمانوں نے بھی اپنے اندر لیڈرشپ کو فروغ دے کر اسلام فوبیا کو ناکام بنانے کا کام شروع کیا تو پھر اسلام دشمنی کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈونالڈ ٹرمپ یا اس جیسے افراد بذات خود اندرونی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ وہ اقتدار ملنے پر مسلم یا مسلم دنیا کی دشمنی میں تباہی کو دعوت دے سکیں لیکن اس خیال کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت پھیلاکر سیاسی فائدہ اٹھانے میں یہ لوگ کامیاب ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کی اس کوشش کو ناکام بنانا وقت کا تقاضہ ہے۔ اگر امریکی مسلم برادری صدارتی انتخاب کو مقررہ تاریخ سے قبل مسلم دوست امریکیوں کا بڑا گروپ بنانے میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں تو امریکی صدارتی نتائج مختلف ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT