Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / امریکی ویزا قانون میں تبدیلی کے پس پشت اسرائیلی لابی کار فرما

امریکی ویزا قانون میں تبدیلی کے پس پشت اسرائیلی لابی کار فرما

پیرس اور سان برنارڈینو واقعات سے کسی ایرانی کا کوئی تعلق نہیں : جواد ظریف

واشنگٹن ۔ 22 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی کانگریس نے ویزے سے متعلق معاملات میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ایرانیوں اور ایران کا سفراختیار کرنے والوں کاامریکہ میں بغیر ویزا داخلے کا استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔تہران نے امریکی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اسرائیلی لابی کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔امریکی صدر بارک اوباما نے کانگریس کی منظوری کے بعد جمعہ کو اس پر دستخط کردیے ہیں اور یہ قانون نافذالعمل ہوگیا ہے۔ یہ قانون عراق، شام اور سوڈان پر لاگو ہو گا۔ پیرس، سان برنارڈینو اور کیلیفورنیا میں داعش کے حملوں کے بعد یہ فیصلہ ایک سیکیورٹی اقدام کے طور پرکیا گیا ہے۔اگرچہ ایران، داعش جیسے انتہا پسند گروپوں کے بنیاد پرست نظریات کا شدید مخالف ہے۔ تہران سمجھتا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی کی تبدیلی میں ایران کا نام شامل کرنا دراصل مغربی دنیا بشمول امریکہ کے ساتھ اس کے نیوکلیئر معاملات پر طے پانے والے معاہدے کو خراب کرنا ہے۔ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری نے کہا کہ امریکی قانون صہیونی لابی کے دباؤ اور مغربی دنیا کے ساتھ اس کے نیوکلیئر معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔

بغیر ویزا داخلے کے امریکی پروگرام کے تحت 38 ملکوں کے شہریوں کو ویزا کے بغیر امریکہ آنے کا استثنیٰ حاصل ہے اور ایسے امریکہ آنے کے اہل شہریوں کی بڑی اکثریت یورپی ملکوں سے تعلق رکھتی ہے۔ نئی پابندیوں کے تحت گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ایران، عراق، شام اور سوڈان جانے والے وہ شہری جن کے پاس دوہری شہریت ہو، وہ بھی بغیر ویزا امریکہ داخلے کی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔یہ اقدام 13 نومبر کوپیرس میں داعش کے ہاتھوں 130 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔ یاد رہے ان مقامات پر حملہ کرنے والے متعدد افرادیورپی شہری تھے اور ان میں سے چند شام میں داعش کے زیر قبضہ  علاقوں کا سفر کر چکے تھے۔درایں اثناء ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی فہرست میں ایران کا نام شامل کرنے کے امریکی فیصلے کو ’احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔جواد ظریف کا کہنا ہے کہ کسی ایرانی یا ایران کا دورہ کرنے والا کا پیرس اور سان برنارڈینو میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تہران، امریکہ کے محکمہ خارجہ کی اس فہرست میں شامل ہے جو دہشت گردی کو سرپرستی کرتے ہیں۔مسٹر کربی کے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ویزا پروگرام کو ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے بعد کئے جانے والے کسی بھی جائز کاروبار کو روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT