Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / امریکی پرائمریز میں ہلاری اور ٹرمپ کی پیش رفت جاری

امریکی پرائمریز میں ہلاری اور ٹرمپ کی پیش رفت جاری

ڈیموکریٹ ہلاری چار اور ریپبلکن ٹرمپ تین ریاستوں میں کامیاب ۔ امریکہ ’سیاسی طوفان‘ میں گھرا ہے، شکست خوردہ امیدوار مارک روبیو کا ریمارک
کلیوولینڈ ، 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ ہلاری کلنٹن اور ریپبلکن ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان تاریخی مقابلہ یقینی معلوم ہورہا ہے کیونکہ تمام دعوے داروں میں سب سے آگے دونوں خواہشمندوں نے کئی ریاستوں میں منعقدہ ووٹنگ میں کلیدی پرائمریز جیت کر اپنی پارٹیوں کی صدارتی نامزدگی کے حصول کی سمت زبردست پیش رفت کی ہے۔ امریکہ کی پانچ بڑی ریاستوں میں لاکھوں افراد نے منگل کو ڈیموکریٹ اور ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے ۔ جن ریاستوں میں ووٹنگ ہوئی ان میں فلوریڈا، مزوری، اوہائیو، شمالی کیرولائنا اور الینوئے شامل ہیں اور جہاں چار ریاستوں سے نتائج سامنے آ چکے ہیں، وہیں مزوری میں سخت مقابلہ جاری ہے۔ امریکہ کی ارب پتی کاروباری شخصیت اور رپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونالڈ ٹرمپ نے فلوریڈا سمیت تین ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس کامیابی کو نومبر میں ہونے والے پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے سلسلے میں ان کا اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ ادھر ڈیموکریٹ پارٹی کا صدارتی ٹکٹ حاصل کرنے کی مضبوط امیدوار اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہلاری کلنٹن چار ریاستوں فلوریڈا، اوہائیو، الینوئے اور شمالی کیرولائنا میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ ٹرمپ نے فلوریڈا میں وہاں کے مقامی سنیٹر اور مخالف امیدوار مارکو روبیو کو ہرایا۔ اس شکست کے بعد روبیو نے اپنی مہم ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 69 سالہ ٹرمپ فلوریڈا کے علاوہ شمالی کیرولائنا اور الینوئے سے بھی جیتے ہیں،

تاہم اوہائیو جیسی اہم ریاست میں انھیں وہاں کے گورنر جان کیسک کے مقابل شکست ہوئی ہے، جو کسی بھی ریاست میں کیسک کی پہلی کامیابی ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے بعد کیسک نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مستقبل کی نسلوں کیلئے ’مواقع کا ماحول‘ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ فلوریڈا میں 68 سالہ ہلاری نے اپنے حریف برنی سینڈرز کے 33 فیصد ووٹ کے مقابلے میں 65 فیصد ووٹ حاصل لئے ہیں۔ ان کے حریف برنی سینڈرز نے چار ریاستوں میں شکست کے باوجود میدان نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ میامی میں فلوریڈا سے سنیٹر روبیو نے ٹرمپ کو اپنی ریاست سے کامیابی پر مبارکباد دی۔ اپنی مہم سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ ’سیاسی طوفان‘ میں گھرا ہوا ہے، اور ووٹرز غصے میں ہیں۔ اسی شہر میں ہلاری کلنٹن نے کامیابی کے بعد اپنے پرجوش خطاب میں ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکی عوام مسائل کے حل کے بھوکے ہیں۔ انھوں نے طالب علموں کا قرضہ، بچوں کیلئے مناسب دیکھ بھال اور عدم مساوات جیسے مسائل کے حل کا وعدہ کیا۔ ہلاری اور ٹرمپ دونوں نے اپنے مندوبین کی تعداد بڑھا لی ، جو اُن کے قریب ترین حریفوں کے مقابل بہت زیادہ ہے، لیکن دونوں ہی ہنوز اتنی تعداد میں مندوبین کے حصول سے دور ہیں، جو اپنی متعلقہ پارٹیوں کے صدارتی نامزد قرار پانے کیلئے درکار ہیں۔ ٹرمپ کو مندوبین کی تعداد میں سبقت حاصل ہے جبکہ اُن کے قریب ترین حریف ٹیڈ کروز زائد از 200 مندوبین کے فرق سے بہت پیچھے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT