Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / امریکی کانگریس میں کلیدی ریپبلکین قائدین کی ٹرمپ کو تائید

امریکی کانگریس میں کلیدی ریپبلکین قائدین کی ٹرمپ کو تائید

مزید آٹھ برس وائیٹ ہاوز پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ناقابل برداشت ۔ 9 کمیٹیوں کے صدور نشین کا مشترکہ بیان
واشنگٹن 14 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایسے اشارے دیتے ہوئے کہ ریپبلکین پارٹی اپنے امکانی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی تائید میں آگے آ رہی ہے امریکی کانگریس کی اہم کمیٹیوں کے کم از کم 9 صدور نشینوں نے صدارتی امیدواری کی دوڑ میں ٹرمپ کی تائید کی ہے ۔ 9 کمیٹیوں کے صدور نشینوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم اپنی زندگی کے انتہائی اہم ترین انتخابات میں متحد ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ عظیم قوم ( امریکہ ) ایسے وقت میں مزید آٹھ برس ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول میں نہیں رہ سکتی اور نہ اسے وائیٹ ہاوز کا داخلہ دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ڈیموکریٹس کو مزید کچھ عرصہ تک امریکی کانگریس کی ذمہ داری نہیں سونپ سکتا ۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ریپبلکین امیدوار ڈونالڈ جے ٹرمپ کی تائید کریں اور امریکی ایوان نمائندگان اور امریکی سینیٹ دونوں جگہ اپنا کنٹرول باقی رکھا جائے ۔ آج مشترکہ بیان جن صدور نشین کی دستخط سے جاری کیا گیا ہے ان میں اسٹیو چھابوٹ ( چھوٹی تجارت ) مائیکل کوناوے ( زراعت ) جیب ہینسارلنگ ( معاشی خدمات ) کینڈائس ملر ( ایوان انتظامیہ ) جیف ملر ( سینئر شہریوں کے امور ) ‘ ٹام پرائس ( بجٹ ) پیٹ سشنس ( قوانین ) بل شوسٹر ( ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر ) اور لامار اسمتھ أ سائینس ‘ خلا اور ٹکنالوجی ) شامل ہیں۔ بیان میں ان تمام نے کہا ہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ امریکی صدارت کیلئے منتخب نہیں ہوتے ہیں تو اس سے معاشی ترقی کو خطرہ لاحق ہوجائیگا اور ہماری قومی سلامتی تباہ ہوجائیگی ۔ اس کے نتیجہ میں امریکی عوام غربت کا شکار ہوجائیں گے ۔ انہیں دوسروں پر انحصار کرنا پڑیگا

اور اس سے ہماری دستوری جمہوریت کی اہمیت گھٹ جائیگی ۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اب نومبر میں انتخابات جیتنا ہی ایک راستہ ہے اور یہ کامیابی اتحاد کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے ۔ اسی شراکت کو برقرار رکھنے ہم امریکی صدارت کیلئے ڈونالڈ جے ٹرمپ کی تائید کرتے ہیں اور امریکی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کی تائید کریں۔ خود اپنے ایک بیان میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایوان میں طاقتور ریپبلیکن اکثریت بہت ضروری ہے تاکہ امریکہ کو درپیش مسائل کی نشاندہی ہوسکے اور ملک کو ہمیشہ سے بہتر اور مستحکم بنایا جاسکے ۔ امریکہ میں بحیثیت مجموعی ایوان کی 20 کمیٹیاں ہیں۔ اس دوران ٹرمپ نے کہا کہ ان کا 50 ملین ڈالرس کی رقم واپس لینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جو انہوں نے اپنی انتخابی مہم کیلئے قرض دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ رقم واپس لینے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔ یہ رقم در اصل امریکہ کو ایک بار پھر عظیم ملک بنانے کیلئے دیا گیا عطیہ ہے ۔ امریکہ میں ٹرمپ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس ریٹرنس داخل کریں جبکہ ایسا سوال کرنے والے صحافیوں سے ٹرمپ نے کہا کہ یہ سوال کرنا ان کا اختیار نہیں ہے ۔ امریکہ میں 1952 سے یہ روایت رہی ہے کہ صدارتی امیدوار اپنے ٹیکس ریٹرنس داخل کرتے ہیں تاکہ رائے دہندوں پر یہ واضح ہوجائے کہ ان کے مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے اور وہ ضرورت مندوں کی فراخدلانہ مدد بھی کرتے ہیں۔ امکانی ریپبلکین پارٹی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اب تک اس روایت پر عمل نہیں کیا ہے ۔ ٹرمپ کا ادعا ہے کہ ان کے ٹیکس ریٹرنس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم وہ انہیں عوام کے سامنے لانے سے مسلسل گریز کر رہے ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT