Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / امریکی یونیورسٹی سے25 ہندوستانی طلبہ کا اخراج

امریکی یونیورسٹی سے25 ہندوستانی طلبہ کا اخراج

مطلوبہ معیار کے حامل نہیں ، کینٹکی یونیورسٹی کا دعویٰ ، طلبہ کیلئے مشکل صورتحال
نیویارک ۔ 7 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) ویسٹرن کینٹکی یوینورسٹی کے 60 ہندوستانی گرائجویٹ طلبہ کے منجملہ تقریباً 25 کو پہلے سمسٹر کے بعد کمپیوٹر سائنس پروگرام ترک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کیونکہ وہ داخلہ کیلئے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اُترتے ۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے اس فیصلے کے نتیجہ میں یہ طلبہ ہندوستان واپس ہونے یا پھر امریکہ کی کسی اور یونیورسٹی میں حاصل کرنے کیلئے مجبور ہوں گے۔ ان کا ہندوستان میں گزشتہ گرما میں چلائی گئی رکروٹمنٹ مہم کے بعد تقریباً تمام امتحانات سے گذرنے کے بعد جنوری سے شروع ہورہے سمسٹر کیلئے داخلہ ہوا تھا ۔ ان طلبہ کو ٹیوشن فیس میں ڈسکاؤنٹ کے علاوہ برسرموقع داخلوں کے دعویٰ کرتے ہوئے راغب کیا گیا تھا ۔ یونیورسٹی ایسے انٹرنیشنل رکروٹرس سے استفادہ کرتی ہے جو اشتہارات کے ذریعہ طلبہ کو تلاش کرتے ہیں اور پھر جتنی تعداد میں طلبہ کا داخلہ ہوتا ہے اُس کی بنیاد پر اُنھیں معاوضہ دیا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی کمپیوٹر سائنس پروگرام کے چیرمین جیمس گیری نے کہاکہ تقریباً 40 طلبہ داخلوں کیلئے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اُترتے ۔ یہاں تک کہ ان طلبہ کو یونیورسٹی کی جانب سے ممکنہ مدد بھی کی گئی ۔ انھوں نے کہا کہ چند طلبہ کو جہاں کورس میں برقرار رہنے کی اجازت دی گئی وہیں 60 کے منجملہ 25 طلبہ ایسے ہیں جنھیں اس پروگرام سے نکال باہر کیا جانا ضروری ہے ۔

نیویارک ٹائمس نے اُن کے حوالے سے یہ اطلاع دی ۔ انھوں نے کہاکہ ایسے طلبہ کو کورس میں برقرار رکھنا ایک اچھی اور معقول رقم کا غلط استعمال کرنے کے مترادف ہوگا ۔ کیونکہ یہ طلبہ کمپیوٹر پروگرام لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور یہ اس نصاب کا اہم حصہ ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو امریکی اسکول میں انڈر گرائجویٹس میں پیدا کی جاتی ہے ۔ اگر وہ پروگرام لکھنے کی صلاحیت کے بغیر ہی یونیورسٹی سے باہر آئیں تو پھر ہمارے ڈپارٹمنٹ کیلئے پشیمانی کی بات ہوگی ۔ انڈین اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن ، ویسٹرن کینٹکی یونیورسٹی کے صدرنشین ادتیہ شرما نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ان طلبہ کے تعلق سے وہ کافی افسردہ ہیں ۔ وہ یہاں اپنا ملک چھوڑکر آئے اور انھوں نے خطیر رقم اس میں صرف کی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ان میں سے بعض طلبہ نے تعلیم کے تعلق سے انتہائی لاپرواہی برتی ۔ وہ جی پی اے کی تکمیل بھی نہیں کرپائے اس لئے یونیورسٹی کو یہ فیصلہ کرنا پڑا ۔

TOPPOPULARRECENT