Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / امر سنگھ کی مودی سے ہمدردی

امر سنگھ کی مودی سے ہمدردی

ملک کی پانچ ریاستوں اور خاص طور پر اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اب نتائج کا اعلان ہونے ہی والا ہے ۔ اس سے قبل ہی ایسا لگتا ہے کہ کچھ سیاسی قائدین اور جماعتیں اپنے مستقبل کے منصوبوں پر بتدریج عمل کرنے لگے ہیں۔ سماجوادی پارٹی میں واپسی کرتے ہوئے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے والے امر سنگھ ایسا لگتا ہے کہ اس سلسلہ میں سب سے آگے ہیں۔ اترپردیش کے برسر اقتدار خاندان میں اختلافات کو شدت کے ساتھ ہوا دینے تک وہ اپنے آپ کو نیتا جی ( ملائم سنگھ یادو )کا کارکن قرار دینے والے امر سنگھ اب شائد ملائم سنگھ کو بھی نظر انداز کردینگے ۔ ملائم سنگھ سے اپنی وابستگی کا ڈھنڈورا پیٹنا بھی امر سنگھ جیسے قائدین کیلئے ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ دوسروں پر اثر انداز ہوسکیں اور اپنی وفاداریوں کا سرٹیفیکٹ حاصل کرسکیں۔ امر سنگھ کی پارٹی میں واپسی کے بعد جب حالات بگڑنے لگے تھے اس وقت سے ہی کہا جا رہا تھا کہ ان سب کے پیچھے امر سنگھ کی ہی کارستانی ہے اور وہ صدر بی جے پی امیت شاہ کے اشارے پر سماجوادی پارٹی میںاختلافات کو ہوا دینے اور ان میںشدت پیدا کرنے کیلئے ہی وہاں واپس ہوئے ہیںاور ملائم سنگھ یادو کی شخصی ستائش کرتے ہوئے وہ ان کا اعتماد حاصل کرتے رہے ہیں۔ چیف منسٹر اکھیلیش سنگھ اور ان کے قریبی ساتھیوں سے امر سنگھ کے تعلقات کبھی بھی بہتر نہیںہے ۔ اکھیلیش یادو ‘ امر سنگھ سے دوری برقرار رکھتے رہے لیکن امر سنگھ کو اسی وجہ سے اپنے سیاسی کھیل کو آگے بڑھانے میں مدد ملی اور انہوں نے پارٹی میں پھوٹ پیدا کرتے ہوئے عملا بی جے پی کے منصوبوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ اب یہ تو انتخابی نتائج سے ہی واضح ہوجائیگا کہ بی جے پی کے منصوبے کس حد تک کامیاب رہے ہیں لیکن اس سارے منصوبے میں امر سنگھ جس طرح سے مہرہ بن گئے تھے وہ ضرور اپنی ذمہ داری پوری کرچکے ہیں۔ اب شائد امر سنگھ کو لگتا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو ہی اقتدار ملنے والا ہے ایسے میں وہ انتخابات کا عمل ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سے ہمدردی کرنے پر اتر آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اترپردیش کے انتخابی عمل کے دوران نریندر مودی پر جو تنقیدیں کی گئی تھیں وہ مناسب نہیں تھیں۔

امر سنگھ کا کہنا تھا کہ جس طرح سے سونیا گاندھی نے نریندر مودی کو موت کا سوداگر کہا تھا اس کا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑ رہا ہے اسی طرح سماجوادی پارٹی کے قائدین اور دوسروں نے مودی کے خلاف جو ریمارکس کئے تھے وہ مناسب نہیں تھے اور انہیں بھی سیاسی طور پر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے ۔ امر سنگھ کو سونیا گاندھی کا کئی برس قبل کیا گیا ریمارک تو یاد رہ گیا لیکن انہیں شمشان ۔ قبرستان کی سیاست والا ریمارک یاد نہیں رہا ۔ انہیں بجلی کو ہندو مسلم فرقوں میں بانٹنے والا ریمارک یاد نہیں رہا اور یہ بھی یاد نہیں رہا کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج جیسے لوگ اس ملک میں مسلمانوںکو دفن کرنے کی مخالفت پر تک اتر آئے ہیں۔ اب تک اس ملک میں مسلمانوں کا زندہ رہنا ایسے عناصر کو برداشت نہیں ہو رہا تھا لیکن اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوںکو ہندوستان کی سرزمین میں دفن بھی نہ کیا جائے بلکہ انہیںبھی ہندووں کی طرح جلا دیا جائے ۔ اس طرح کے ریمارکس کی وجہ سے سماج میں خلیج میں اضافہ ہوا ہے ۔ لوگوںمیںنفرت کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ سماج کے مختلف طبقات کے مابین جس طرح سے دوریاں پیدا ہو رہی تھیں ان میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اس سے ملک کے سکیولر تانے بانے متاثر ہوکر رہ گئے ہیں ۔ اس کے باوجود امر سنگھ کو یہ ریمارکس یاد نہیں رہے اور اگر انہیں کچھ یاد رہ گیا تو یہی کہ کس نے نریندر مودی کے خلاف کس طرح کا ریمارک کیا تھا اور اس طرح کا ریمارک کرنا درست ہے یا نہیں۔ مودی سے امر سنگھ کی ہمدردی ایسے ہی نہیںہوسکتی ۔ اس کے پس پردہ بھی کچھ عزائم ضرور ہوسکتے ہیں۔

سیاسی میدان میں امر سنگھ نے کب کس طرح کا رول ادا کیا ہے وہ سارا ملک اور خاص طور پر اترپردیش کے عوام سب سے بہتر جانتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران یقینی طور پر کچھ ریمارکس ایسے کئے گئے ہیںجو نہیں کئے جانے چاہئے تھیں لیکن یہ ریمارکس صرف نریندر مودی کے خلاف نہیں کئے گئے بلکہ خود نریندر مودی نے بھی ایسے ریمارکس کئے ہیں جو انہیں نہیں کرنے چاہئے تھے۔ ان ریمارکس کی وجہ سے نہ صرف سماج میں نفرت کو ہوا ملی بلکہ ا س سے وزارت عظمی جیسے جلیل القدر عہدہ کا وقار بھی متاثر ہوکر رہ گیا ۔ انتخابی مہم کے دوران مودی یہ فراموش کر چکے تھے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں بی جے پی کوانتخابات میں کامیابی دلانا نہیں بلکہ ملک کے عوام کی خدمت کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ امر سنگھ جیسے قائدین کو شخصیت پرستی سے ترقی کی منزلیں طئے کرنے کی بجائے حقائق اور اصولوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT