Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / املی بن ڈمپنگ یارڈ سے شہر کی فضاء بدبودار

املی بن ڈمپنگ یارڈ سے شہر کی فضاء بدبودار

حیدرآباد کو خوبصورت بنانے کا عزم ناکام ثابت ، بلدیہ کی حد درجہ لاپرواہی
حیدرآباد۔10جون(سیاست نیوز) شہر کو خوبصورت پاک وصاف بنانے کے ساتھ شہرمیں گندگی نہ رہے اس کیلئے حکومت کی جانب سے کئی اقدامات کیئے جا رہے ہیں لیکن ان اقدامات کے باوجود شہر سے گندگی کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے بلکہ شہر میں پاکی و صفائی کے سلسلہ میں بلدیہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار بھی غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ حیدرآباد میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے دو اہم پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جن میں موسی ندی کو خوبصورت بنانے کا پراجکٹ اور چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ شامل ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دونوں پراجکٹس کی تکمیل کے متعلق سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ۔ موسی ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کو اس وقت تک عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا جب تک املی بن پارک سے متصل ڈمپنگ یارڈ کو شہر سے باہر منتقل نہیں کیا جاتا۔ شہر حیدرآباد میں جمع ہونے والے کچہرے کو یکجا کرنے کے نام پر پرانے شہر کے علاقہ املی بن ‘ دارالشفاء اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں جو بدبو و تعفن پھیلایا جا رہا ہے وہ شہری خوبصورتی میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ املی بن پارک کے قریب واقع اس ڈمپنگ یارڈ کو فی الفور شہر کے باہر منتقل کرنے کیلئے متعدد نمائندگیاں کی جا چکی ہیں لیکن اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہو پائے۔املیبن پارک سے متصل اس ڈمپنگ یارڈ کے سبب نہ صرف شہریوں کی صحت متاثر ہورہی ہے بلکہ مصروف ترین اوقات میں کچہرے کی منتقلی راہگیروں کیلئے بھی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ جی ایچ ایم سی عہدیدار اگر فوری طور پر اس ڈمپنگ یارڈ کے اوقات کار مختص کرتے ہوئے صرف صبح کی اولین ساعتوں میں کچہرے کی منتقلی کی جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن موسی ندی کی تباہی کی وجوہات میں یہ ڈمپنگ یارڈ بھی ایک وجہ بنا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اس پر توجہ نہ دیا جانا معنی خیز ہے۔ اس ڈمپنگ یارڈ کی فوری منتقلی ممکن نہیں ہے تو کم ازکم حکومت کی جانب سے فراہم کردہ آٹو ٹرالی کے ڈرائیورس کو یہ احکام جاری کئے جائیں کہ وہ اس ڈمپنگ یارڈ میں کچہرا ڈالنے کے بجائے شہر کے باہر موجود ڈمپنگ یارڈ میں کچہرا ڈالیں۔ اور ڈمپنگ یارڈ سے کچہرے کی منتقلی صرف صبح کی اولین ساعتوں میں کی جائے تا کہ عوام کو بدبو و تعفن کے علاوہ گندگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔مقامی عوام کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں نمائندگیاں کی جا چکی ہیںان نمائندگیوں پر توجہ مبذول کرتے ہوئے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں عوام نے شدید احتجاج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT