Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / امن کی مساعی

امن کی مساعی

کے این واصف
کسی حکومت کا اپنے ملک میں مکمل امن و امان قائم رکھنا اور اپنے پڑوسی ممالک میں خصوصاً اور دنیا بھر میں عموماً قیام امن کی مسلسل کوششیں کرنا ، آج کے دور میں اس سے بہتر کوئی عمل نہیں اور اس سے اچھا کوئی کارِ خیر نہیں، اور اس معاملے میں مملکت سعودی عرب کو سرِ فہرست دیکھا جاسکتا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے زائد عرصہ میں مملکت نے بیسیوں قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا اور ’ مکالمہ بین مذاہب‘ کے عنوان سے کامیاب اور ثمرآور اجلاسوں کا انعقاد عمل میں لایا گیا جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ نیزحکومت سعودی عرب نے مملکت میں مکمل امن وامان برقرار رکھ کر ایک اعلیٰ مثال قائم کی جو دنیا کیلئے ایک مثبت پیام ہے کہ مملکت امن کا علمبردار بھی اور امن کا پیامبر بھی۔ سعودی عرب کی آبادی اس کے رقبہ کے اعتبار سے بہت کم ہے جس میں تقریباً 50فیصد خارجی باشندے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال تقریباً ایک کروڑ افراد دنیا کے کونے کونے سے یہاں زیارت، عمرہ اور حج کی ادائیگی کے لئے آتے ہیں۔ بڑی تعداد میں خارجی باشندوں کا یہاں رہنا، زائرین کا آنا جانا یہ سب جس پُرامن طریقہ سے انجام پاتا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ مملکت نے اپنی امن مساعی کے ساتھ ساتھ دنیا کو ہمیشہ یہ پیام بھی دیا ہے کہ مملکت کی یہ کوششیں اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں اور دین اسلام نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر اس ہفتہ ریاض میں ’’ اسلام میں رحم دلی ‘‘ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا جس کا افتتاح شہر ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر نے اندرون و بیرون مملکت سے آنے والے علماء، مشائخ، دانشوروں اور اسکالرز کی موجودگی میں کیا۔ کانفرنس میں پاکستان اور ہندوستان کی اہم تنظیموں کے سربراہ اور مسلم اسکالرز نے شرکت کی۔ مملکت کے مفتی اعلیٰ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے کانفرنس سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں رحمدی پر بڑا زور دیا گیا ہے۔

قرآن و سنت کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ رحمدلی اسلام کا طرۂ امتیاز ہے۔ رسول اکرم ؐ کو رحمت للعالمین ؐ بناکر بھیجا گیا۔ اسلام نے شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور مودت مقرر کرکے رحم دلی کی جڑیں مضبوط کی ہیں۔ اسلام کا نظام بھی رحم دلی کی علامت ہے۔ مفتی اعظم نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ سوال یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں رحم دلی کہاں ہے؟۔ ایسی قوم میں رحمدلی کی کیا توقع کی جاسکتی ہے جس پر امن کا دشمن مسلط ہے جو ان کے وطن کو تباہ و برباد کررہا ہے، خاندانوں کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے۔ ہزاروں لوگ جان بچانے کیلئے گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے ہوں۔ لاکھوں لوگ جہاں قتل ہورہے ہوں وہاں رحمدلی کہاں نظر آئے گی۔ مساجد اور مدارس منہدم کئے جارہے ہیں، انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں اس میں کس کا فائدہ ہے؟۔ یہ اسلام سے کھلی دشمنی ہے۔ اسلام تو ایسا مذہب ہے جو اپنوں ہی نہیں بلکہ دشمنوں تک کے ساتھ رحم دلی کا علمبردار ہے۔ اسلام دشمنوں کے ساتھ بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔ مفتی اعظم نے کہا کہ تمام لوگ دین حنیف پر ثابت قدم رہیں اور دشمنوں کو پسپا کریں، دین اسلام کی نصرت کریں۔ گورنر ریاض شہزادہ فیصل بن بندر نے افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کانفرنس کا عنوان بڑا پُرکشش ہے، ہمیں رحم دلی کی اشدِ ضرورت ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے ریسرچ کا کام جاری رکھا جائے گا۔

دریں اثناء خادم حرمین شریفین شاہ عبدالعزیز نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں کوئی بحران نہیں، یہاں کسی طرح کی کوئی بے چینی اور بدامنی کا کوئی ماحول نہیں۔ وہ سعودی قومی ثقافت و ورثے کے ترجمان جنادریہ میلے میں شریک دانشوروں اور ادیبوں سے خطاب کررہے تھے۔ شاہ سلمان نے کہا کہ اپنے خطے کو امن و امان کا گہوارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے اُمور میں مداخلت کے بغیر اپنے دفاع کا حق ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے اُمور میں مداخلت نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اور پھر دہرا رہا ہوں کہ ہم مسلم علاقوں کا دفاع کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ دنیا بھر میں اپنے عرب اور مسلم بھائیوں کے تعاون سے ان علاقوں کا دفاع اور ان کی خودمختاری کو یقینی بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ برادر اقوام کی پسند کے نظام حکومت کی حفاظت کے اُصول پر عمل پیرا ہیں اور رہیں گے۔ شاہ سلمان نے یہ بھی کہا کہ غربت اور ناخواندگی کے انسداد میں تعاون کیلئے تیار ہیں۔ یہ تعاون ناگزیر ہے تاکہ ہمارے عوام اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاصل شدہ نعمت کو محسوس کرسکیں۔ سعودی عرب مسلمانوں کا مرکز ہے۔ حرمین شریفین کی پاسبانی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمارا دین اسلام عدل و انصاف، میانہ روی اور رحم دلی کا علمبردار مذہب ہے۔ اسلام سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے جو لوگ دہشت گردی کررہے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اسلام محبت اور تعاون کا علمبردار مذہب ہے۔ شاہ سلمان نے کہا کہ ہم سب پر اتحاد و اتفاق کیلئے جدوجہد کرنا اور امت مسلمہ میں شعور و آگہی پیدا کرنا فرض ہے۔ درپیش حالات کے باوجود ہم پُرامید ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ عزمِ محکم اور عملِ پیہم کی بدولت بحرانوں سے نجات مل جائے گی۔ شاہ سلمان نے کہا کہ آپ لوگ سعودی عرب آئے ہیں مجھے آپ سے مل کر خوشی محسوس ہورہی ہے۔ ہمیں حرمین شریفین کے زائرین نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کی خدمت کا اعزاز حاصل ہے۔ سعودی عرب تمام عربوں اور مسلمانوں کا وطن ہے۔

مملکت میں جہاں ایک بہت بڑی تعداد میں غیر ملکی آباد ہیں مملکت برسوں سے ان کی میزبانی کررہا ہے۔ پچھلی چار دہائیوں سے زائد عرصہ میں کروڑہا خارجی باشندوں کو روزگار فراہم کیا۔ لاکھوں خارجی باشندے یہاں لمبے عرصہ سے برسر روزگار ہیں اور لاکھوں اپنے وطنوں کو واپس ہوئے۔ یہاں نئے آنے والوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ مملکت نہ صرف دنیا کے لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کئے ہوئے ہے بلکہ دنیا میں  ضرورت مند اور خصوصاً امت مسلمہ کے غریب، مسکین، حالات کے مارے، پریشان حال افراد کی فراخدلی سے مدد کرتا ہے۔

دریں اثناء سعودی کابینہ نے اپنے ہفتہ واری اجلاس میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کیلئے مجموعی طور پر اب تک 780 ملین ڈالر سے زیادہ رقم کے عطیات پیش کردیئے گئے۔ لندن میں محبان شام کی چوتھی کانفرنس کے موقع پر سعودی عرب نے 100ملین ڈالر عطیہ کا اعلان کیا۔ اس سے قبل مختلف اوقات میں شامی پناہ گزینوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے جو عطیات دیئے گئے ان سب کو ملا کر 780ملین ڈالر سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب نے نہ صرف یہ کہ اندرون شام محفوظ مقامات پر ترک مکانی کرکے آنے والے شامیوں کو امدادی سامان تقسیم کرایا بلکہ پڑوسی ممالک میں پناہ لینے والوں کو بھی بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے کا اہتمام کیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ مملکت میں برسرکار شامی باشندوں کو اپنے ملک سے اپنے اہل خانہ کو مملکت لانے کی فراخدلی سے اجازت دی ہے۔ یہ لوگ اپنے ہی وطن میں بے یارومددگار ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد سڑکوں اور عارضی خیموں میں زندگی بسر کررہے تھے۔ یہاں آکر اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اطمینان کی زندگی  بسر کررہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ مملکت نے انہیں ویزٹ ویزا پر رہتے ہوئے یہاں کے مقامی تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کی اجازت بھی دی ہے تاکہ ان بچوں کا مستقبل خراب نہ ہو۔
بہرحال مملکت کے قیام امن کی ہر ممکن کوشش اور دنیا میں جہاں جہاں کلمہ گو مدد کے طلب گار ہیں ان کی مدد کرنے میں کوئی دقیقہ فرد و گزاشت نہیں کیا۔ اور یہ ساری کوششیں صدق دل، سچے جذبے اور بغیر کسی مفاد و منفعت کے کرتا ہے۔ ورنہ دنیا میں اور بھی نام نہاد امن کے علمبردار اور دنیا میں قیام امن کی ٹھیکہ داری کے دعویدار موجود ہیں جو پہلے مختلف خطوں میں بے چینی و بدامنی پیدا کرتے ہیں اور پھر بحالی امن کی آڑ میں اپنا اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ جس نے نتیجہ میں خالق کائنات نے نسل انسانی کو رہنے کیلئے زمین کو گل بوٹوں سے سجایا اُسے بارود کے دھوئیں سے کالا اور انسانی خون سے لال کررہے ہیں۔ جبکہ دنیا کا کوئی مذہب اس کی تعلیم دیتا ہے نہ کوئی آسمانی صحیفہ ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ مذہبی تعلیم کیا ہے، آسمانی کتابوں کی ہدایت کیا ہے، سب کے سب اسے فراموش کرچکے ہیں۔بقول پروین شاکر:
اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کردیا
[email protected]

TOPPOPULARRECENT