Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / امۃ الصبیحہ عذاب قبربرحق ہے

امۃ الصبیحہ عذاب قبربرحق ہے

اﷲ وحدہ لا شریک نے جو یہ کائنات کی تخلیق فرمائی اس کائنات کا ایک حصہ انسان ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات بناکر پیدا فرمایا ۔ پھر انسان کو اس دنیا میں چند سالہ زندگی گذارنے کے بعد اﷲ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے ۔ دنیا میں ہی انسان اچھے اور برے اعمال کرتا ہے اور اُن ہی اعمال کے ساتھ وہ اﷲ سے رجوع ہوتا ہے۔ اور اﷲ نے جو وعدہ فرمایا نیک بندوں کا ٹھکانہ جنت ہے اور بُرے اعمال کا نتیجہ دوزخ ہے  ۔ دوزخ میں جانے سے پہلے اسے قبر کی منزل طئے کرنا ہوتا ہے اگر بندہ نیک ہو تو اس کاٹھکانہ جنت بنادیا جاتاہے اور بندہ بُرا ہو تو اس کا ٹھکانہ دوزخ بنادیا جاتا ہے جسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔
اہلسنت والجماعت کاا جماع ہے کہ عذاب قبر برحق ہے ۔ قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے تین ایسی آیتیں ذکر فرمائی جس سے عذاب قبر ثابت ہوتا ہے۔ سورۃ انعام کی آیت (۹۲) ’’اور کاش تم ظالموں کو اس وقت دیکھو جب وہ موت کی سختی میں ہو اور فرشتے ان کی طرف ہاتھوں کو بڑھائے ہوئے ہے اور کہتے ہیں کہ نکالو اپنی جانوں کو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائیگا ‘‘۔ الیوم تحزون عذاب الھون سے مراد یہ ہے کہ موت کے بعد ہی سے عذاب شروع ہوجاتا ہے اور عذاب قبر سے مراد یہی ہے کہ موت کے بعد اور قیامت سے پہلے عالم برزخ میں عذاب شروع ہوجاتا ہے۔
براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہیکہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا جب مومن کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے بھیجے جاتے ہیں اس کے بعد وہ گواہی دیتا ہے اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اﷲ کے رسول ہیں ۔ اور اﷲ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے : ’’اﷲ ایمان والوں کو قول ثابت پر ثابت رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ‘‘۔ اس آیت کریمہ میں قول ثابت سے مراد شہادتین کی تصدیق اور  اس کا اقرار ہے کہ اﷲ عزوجل دنیا بھی مومنوں کو اس پر قائم رکھتا ہے اور آخرت یعنی قبر میں بھی ( اس آیت میں آخرت سے مراد قبر ہے اس لئے کہ آخرت کی منزلوں میں قبر پہلی منزل ہے ) ۔ اس پر قرینہ یہ ہے کہ کفر پر ثابت رہنا قبر تک ہی محدود ہے ۔ قیامت کے دن تو سبھی توحید و رسالت کی حقانیت تسلیم کریں گے ۔
خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوجاتی جب آپ کے رونے کا سبب معلوم کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا قبر آخرت کی پہلی منزل ہے جس نے اس سے نجات پائی اس کیلئے آگے بھی آسانی ہوگی اور جس نے اس سے نجات نہ پائی آگے اور سختی ہوگی ۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں لکھا کہ قبر کا عذاب برحق ہے ۔ منکر نکیر کا سوال حق ہے ۔ روح کو جسم کی طرف اس کی قبر میں لوٹا دیا جانا برحق ہے۔ تمام مومن اور کافر سے سوال کیا جانا حق ہے ۔ منکر نکیر دو فرشتوں کے نام ہے ۔ (مختار الصحاح) جب فرشتے میت سے سوال کرتے ہیں اگر وہ جواب صحیح دیتا ہے اس کی قبر کو ستر گز چوڑا اور ستر گز لمبا کردیا جاتا ہے اور پھر اس کی قبر کو روشن کردیا جاتا ہے ۔
حضرت انسان میت کو دفن کرکے واپس جاتا ہے تو میت اُس کے پیروں کی آواز تک سنتی ہے ۔ قبر میں روح کو دوبارہ جسم میں لوٹادیا جاتا ہے تو میت سن سکتی ہے دیکھ سکتی ہے ۔
روح کا تعلق جسم سے رہتا ہے کیونکہ ریڑھ کی ہڈی میں ایک ایسا جز ہوتا ہے جو تقسیم کو قبول نہیں کرتا ۔ پورا جسم سڑگل جاتا ہے مگر وہ نہ ہی سڑتا ہے اور نہ گلتا ہے ۔ اس جز کو جز لایستجرہ کہتے ہیں اور اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے اور اسی پر عذاب قبر ہوتا ہے جس کو میت مکمل طورپر محسوس کرتی ہے ۔ جیسے کہ پورے بدن پر عذاب ہورہا ہے ۔ عذاب قبر روح اور جسم کے مجموعہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔

جب حضور علیہ السلام قبرستان تشریف لے جاتے تو آپ ﷺ فرماتے السلام علیکم یا اھل القبور ۔ اے اھل قبور تم پر سلامتی ہو۔ اگر وہ بے جان جسم ہوتے ، روح کا ان سے تعلق نہ ہوتا تو ان کو سلام کرنا یہ حکمت کے خلاف ہوتا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے خلاف حکمت کوئی کام نہیں کیا ۔ آپ ؐ کا اُن پر سلام کرنا ہی ثابت کرتا ہے کہ وہ سنتے ہیں اور سننا روح اور جسم کے مجموعہ کے ساتھ ہوتا ہے۔
سورۂ توبہ میں اﷲ رب العزت فرماتا ہے : ’’بہت جلد ہم انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے اس کے بعد وہ بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے ‘‘ ۔
تفسیر حقانی ، ابن کثیر ، طبرانی اور ابن حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے جمعہ کے دن مسجد نبوی ﷺ میں خطبہ دیا اور فرمایا اے فلاں تو نکل جا تو منافق ہے ، اے فلاں تو نکل جا تو منافق ہے ۔ اس طرح تمام منافقین کو مسجد سے نکال دیا اور انھیں ذلیل کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا مسجد سے ذلیل کرکے نکالا جانا پہلا عذاب تھا ، دوسرا عذاب عذاب قبر ہے ۔
اس طرح سورۂ مومن میںاﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’فرعون اور اسکے متبعین کوبرے عذاب آگ نے گھیرلیا اور صبح و شام ان کو اس پر پیش کیا جاتا ہے ‘‘۔ قبر میں دن رات صبح شام نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا کے صبح و شام کا وقت ہے ۔ یہ بھی عذاب کی انتہائی سنگین صورت ہے جو قبر میں ہوگا ۔
اس آیت سے علماء اہل اہلسنت نے عذاب قبر کا اثبات کیا ۔ قبر سے مراد صرف وہ گڑھا ہی نہیں جس میں میت کو دفن کیا جاتا ہے بلکہ اس سے مراد عالم برزخ ہے ۔ (ضیاء القرآن ) اور عالم برزخ میں ہی عذاب ہوتا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس کسی شخص کا جمعہ کے دن انتقال ہوتا ہے اﷲ اسے قبر کے فتنہ سے محفوظ رکھتا ہے ۔ ( الترغیب و الترھیب)
ابن داؤد میں آتا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : ’’تم اپنے بھائی کیلئے استغفار کرو ثابت قدمی کی دعاء کرو کیوں کہ اس سے سوال کئے جارہے ہیں ‘‘۔
ایک یہودن بی بی عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئی اور عذاب قبر کا ذکر کی اور کہنے لگی اﷲ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے بچائے ۔ جب وہ خاتون چلی گئیں تو بی بی عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا نے نبی کریم ﷺ سے عذاب قبر کے بارے میں استفسار کیا تو آپ نے فرمایا قبر کا عذاب حق ہے ۔ (صحیح بخاری )
مذکورہ بالا آیات اور احادیث شریفہ اور آثار صحابہ ، اور آئمہ کرام سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر برحق ہے ۔
حافظ سید محمد
اﷲ والے …
ایک بادشاہ نے چند اﷲ والوں کا امتحان لینے کی خاطر ان کی دعوت اور دعوت میں کچھ کھانے حلال رکھے دیئے اور کچھ کھانے حرام اور اپنے مصاحبوں سے کہنے لگا کہ دیکھیں گے کہ یہ اﷲ والے حلال و حرام میں تمیز کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
چنانچہ جب وہ اﷲ کے ولی دسترخوان پر بیٹھے تو بادشاہ اپنے مصاحبوں سمیت ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور دیکھنے لگا کہ یہ لوگ حرام بھی کھاتے ہیں یا نہیں ۔ چنانچہ کھانا شروع ہوا تو ان اﷲ والوں میں سے ایک بزرگ اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے کہ آج میں آپ کی خدمت کروں گا اور آپ کے سامنے اور بادشاہ اور اس کے مصاحبوں کے سامنے کھانا رکھوں گا ۔ پھر جن پلیٹوں میں حلال کھانا تھا وہ اپنے ساتھیوں کے سامنے اور جن میں حرام کھانا تھا وہ بادشاہ اور اس کے مصاحبوں کے سامنے رکھنے لگے اور ساتھ ساتھ یہ ایت بھی پڑھنے لگے :
الطیبات للطیبین والخبیثات للخبیثین
بادشاہ نے یہ ماجرا دیکھا تو وہیں توبہ کی اور ان سب کے سامنے اپنے قصور کا اعتراف کیا اور سچے دل سے اﷲ والوں کا معتقد ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT