Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / امیت شاہ جھوٹ بک رہے ہیں، فوری معافی مانگیں

امیت شاہ جھوٹ بک رہے ہیں، فوری معافی مانگیں

تلنگانہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ناقابل برداشت، کے سی آر کا بی جے پی صدر کو دوٹوک جواب

ہندو اور مسلمان کی حفاظت میری ذمہ داری
تلنگانہ کا مخالف ہمارا بھی دشمن
امیت شاہ نہ کوئی اور شاہ ۔ کے سی آر تلنگانہ کا بادشاہ
دلت کے گھر کھانے کا ڈرامہ کھانا ریڈی کے گھر تیار کیا گیا
بی جے پی ’طوفان ‘تو دور ’ہوا بھی نہیں ‘ہے
ملک کے وزیراعظم کے ساتھ دستوری روابط
امیت شاہ کے الزامات پر کے سی آر کی کھری کھری
ٹی آر ایس ۔ بی جے پی ٹکراؤ کی راہ پر

حیدرآباد ۔ 24۔ مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ نے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کو پہلی مرتبہ نشانہ بناتے ہوئے انہیں جھوٹا شخص قرار دیا اور ان پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے نچلی سیاست کرنے اور تلنگانہ حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ امیت شاہ کے دورہ نلگنڈہ کے موقع پر ٹی آر ایس حکومت پر کی گئی تنقیدوں سے برہم چیف منسٹر کے سی آر نے آج شام عجلت میں پریس کانفرنس طلب کی اور امیت شاہ کے الزامات کا لفظ بہ لفظ سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے پہلی مرتبہ بی جے پی کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے ۔یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی اور اس کے قومی صدر امیت شاہ کے خلاف خود چیف منسٹر نے مورچہ کھول دیا ہے۔ چیف منسٹر اس بات پر سخت برہم دکھائی دے رہے تھے کہ امیت شاہ نے ان کی حکومت کو عوامی بھلائی میں ناکامی کا شکار قرار دیا۔ مرکزی اسکیمات پر تلنگانہ میں عمل آوری میں ناکامی سے متعلق امیت شاہ کے الزامات پر چیف منسٹر سخت برہم دکھائی دیئے۔ اپنی طویل پریس کانفرنس کے دوران جارحانہ تیور کے ساتھ کے سی آر نے امیت شاہ کا جواب دیا اور ان کی برہمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ وہ بعض اخباری نمائندوں کے پیچیدہ سوالات پر ناراض ہوگئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ امیت شاہ نے نلگنڈہ میں انتہائی سفاکی کے ساتھ کئی جھوٹ کہے ہیں۔ تلنگانہ کو ایک لاکھ کروڑ مرکز سے دیئے جانے کا دعویٰ سفید جھوٹ کی طرح ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی جھوٹ اور  غیر حقیقت پر مبنی باتوں کو امیت شاہ نے عوام کے درمیان کہتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک قومی جماعت کے صدر کیلئے یہ موزوں نہیں کہ وہ اس طرح کا جھوٹ کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے معاملے میں تلنگانہ دیگر ریاستوں سے آگے ہے لیکن امیت شاہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ تلنگانہ پسماندگی کا شکار ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ اگر میری ریاست کی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔ انہوں نے امیت شاہ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جس پارٹی نے ابھی تک ہائیکورٹ کی تقسیم مکمل نہیں کی ہے ، آج وہ خود کو ریاست کی تقسیم کی حامی قرار دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے تلنگانہ عوام کو کمتر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور بے بنیاد باتیں کرنے والے امیت شاہ کو تلنگانہ عوام سے معذرت خواہی کر نی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے تلنگانہ سماج کی توہین کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ امیت شاہ کے بیانات سے ریاست کا امیج متاثر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے الزامات کا جواب دینے خود میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے بارے میں بے بنیاد باتیں کہنے سے سرمایہ کاری متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ چیف منسٹر نے انتہائی برہمی کے عالم میں کہا کہ امیت شاہ کے ریمارکس ریاست کو قتل کرنے کے مترادف ہے ۔ بھلائی کے اقدامات کے سلسلہ میں تلنگانہ ریاست ملک کی دیگر ریاستوں سے آگے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ امیت شاہ کے دورہ سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ وہ آکر ریاست کے ساتھ انصاف کریں گے لیکن انہوں نے تلنگانہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ جو بھی تلنگانہ پر تنقید کرے وہ عوام کا دشمن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لئے امیت ’’شاہ‘‘ نہیں بلکہ تلنگانہ ریاست ان کیلئے ’’بادشاہ‘‘ ہے۔ نلگنڈہ میں دلت کے گھر میں امیت شاہ کے کھانے کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ امیت شاہ نے جو کھانا کھایا وہ دلت کا تیار کردہ کھانا نہیں تھا ۔ تیراک پلی گاؤں میں امیت شاہ نے ایک دلت کے گھر میں کھانا کھایا تھا۔ اس کا مقصد دلتوں کی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔

 

دلتوں کے ساتھ اجتماعی کھانے کا اہتمام کیا گیا لیکن یہ کھانا قریبی ایک گاؤں کے منوہر ریڈی نامی ایک شخص کی جانب سے تیار کردہ اور سربراہ کردہ کھانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے دلتوں کی ترقی کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا ہے ۔ ایس سی طبقات کی بھلائی کیلئے 14375 کروڑ ، ایس ٹی طبقات کیلئے 31919 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے مرکزی حکومت کے بجٹ سے زیادہ پانچ گنا زیادہ تلنگانہ حکومت خرچ کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے امیت شاہ پر سیاسی فائدہ کیلئے نچلی سیاست اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی لاکھ کوشش کرلیں وہ تلنگانہ میں اپنے قدم نہیں جما سکے گی۔ کے سی آر نے کہا کہ تازہ ترین سروے کے مطابق بی جے پی کو تلنگانہ میں ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوگی اور یہ پارٹی کے کمزور موقف کو ظاہر کرتا ہے ۔ امیت شاہ چاہے کچھ کہہ لیں عوام بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں کیونکہ عوام حقیقت سے واقف ہیں۔ کے سی آر نے ریمارک کیا کہ امیت شاہ جیسے سینکڑوں کیوں نہ آجائیں ، وہ تلنگانہ اور حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ کے سی آر نے کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد ملک میں کسی بھی چیف منسٹر نے مرکز کے فیصلہ کی تائید نہیں کی تھی ۔ تاہم وزیراعظم کے اس فیصلہ کی تائید کرنے والے وہ واحد چیف منسٹر تھے۔ کے سی آر نے کہا کہ امیت شاہ چاہے کچھ کہہ لیں ابھی بھی وہ نریندر مودی کا احترام کرتے ہیں ۔ وہ مرکز سے دستوری تعلقات برقرار رکھیں گے ۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں وظائف کی تقسیم کے بارے میں امیت شاہ کے ریمارک پر برہمی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تلنگانہ حکومت  غریبوں کو وظائف کی اجرائی کے موقف میں نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ امیت شاہ جان بوجھ کر یہ کہہ رہے ہیں یا پھر انہیں غلط معلومات فراہم کی گئی ہے۔ تلنگانہ حکومت 38 لاکھ افراد کو کسی وقفہ کے بغیر ہر ماہ پنشن جاری کر رہی ہے

۔ اس طرح وظائف کی اجرائی میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے ۔ معذوروں کو ماہانہ 1500 روپئے ادا کرنے والی تلنگانہ واحد ریاست ہے۔ تلنگانہ کو ایک لاکھ کروڑ جاری کرنے سے متعلق امیت شاہ کا بیان گمراہ کن ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے آج تک مرکزی حکومت نے صرف 67390 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور یہ رقم دیگر ریاستوں کی طرح جاری کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے ہم پرکوئی احسان نہیں کیا ہے بلکہ مرکز نے اپنے دستوری فریضہ کی تکمیل کی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ملک کو چلانے والی ریاستوں میں تلنگانہ ایک اہم ریاست بن کر ابھری ہے۔ ہندوستان کی پرورش کرنے والی 6 ، 7 ریاستیں ہیں اور باقی ریاستوں کا بجٹ خسارہ پر مبنی ہے۔ تلنگانہ ملک کی دولتمند ریاست ہے اور وہ مرکز کے استحکام میں اہم رول ادا کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے مختلف شعبہ جات کے تحت مرکز کی جانب سے جاری کردہ رقم کی تفصیلات جاری کی۔کے سی آر نے تازہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو تلنگانہ میں ایک بھی نشست پر کامیابی نہیں ملے گی۔ ریاست میں بی جے پی’’ طوفان‘‘ تو دور’’ ہوا ‘‘ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے غلط  اعداد و شمار پیش کئے اگر یہ درست ثابت کردیئے جائیں تو وہ ( کے سی آر ) بحیثیت چیف منسٹر مستعفی ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں امیت شاہ یا کوئی اور شاہ نہیں صرف ایک ہی بادشاہ ہے اور وہ میں( کے سی آر ) ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان کی حفاظت کے سی آر کی ذمہ داری ہے اور تلنگانہ کا جو بھی مخالف ہوگا وہ ہمارا دشمن ہوگا۔ کے سی آر نے واضح طور پر کہا کہ جہاں تک صدر جمہوریہ کے انتخاب کا مسئلہ ہے ہم نے ابھی تک کسی کی تائید کا فیصلہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ صدارتی امیدوار کے انتخاب کا فیصلہ موزوں وقت پر ہی کیا جائے گا ۔

 

 

TOPPOPULARRECENT