Friday , August 18 2017
Home / اداریہ / امیت شاہ کا دورہ تلنگانہ

امیت شاہ کا دورہ تلنگانہ

پال کر طوطے گھر کی بیٹھک میں
اپنی بولی سکھا رہے ہیں لوگ
امیت شاہ کا دورہ تلنگانہ
بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے گذشتہ دنوں تلنگانہ کا سہ روزہ دورہ مکمل کرلیا ہے ۔ بی جے پی قائدین کا دعوی تھا کہ اس دورہ کے موقع پر امیت شاہ نے تلنگانہ کے عوام کو پارٹی سے قریب کرنے کی کوشش کی تھی ۔ پارٹی کی صفوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں ریاست میں بی جے پی کوا قتدار حاصل ہوجائیگا اور پارٹی کی مقبولیت میں ساری ریاست تلنگانہ میں زبردست اور تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پارٹی کے کیڈر اور کارکنوں میں جوش و خروش پیدا کرنے کیلئے اس طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیںاور کارکنوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مرکز کی نریندر مودی حکومت کی کامیابیوں اور عوامی فلاح و بہبود کی اسکیمات کے تعلق سے ریاست کے عوام میں شعور بیدار کریں کیونکہ ریاست کی ٹی آر ایس حکومت مرکزی اسکیمات کو ریاست کے عوام تک پہونچنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ یہ حکومت کی سطح پر اختلافات ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ ریاست میں بھی وہی ہتھکنڈہ اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو دوسری ریاستوں میں اختیار کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی گئی تھی ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اترپردیش کے مظفر نگر میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرتے ہوئے وہاں ماحول کو پراگندہ کیا گیا اور پھر بی جے پی اپنے عزائم میں کامیاب ہوگئی ۔ اس کے بعد کیرانہ سے ہندووں کے نقل مقام کا فرضی ہوا کھڑا کرتے ہوئے اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی گئی ۔ ان انتخابات کے دوران خود وزیر اعظم نے بھی اپنے دستوری عہدہ کے وقار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قبرستان اور شمشان کی سیاست کی اور اترپردیش میں کامیابی حاصل کرلی گئی ۔ اترپردیش میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی نئی یوگی حکومت نے جو راہ اختیار کی ہے وہ پارٹی کے معلنہ موقف سب کا ساتھ سب کا وکاس سے مختلف ہے اور اقتدار ملنے کے بعد بھی فرقہ پرستی کی سیاست کی جا رہی ہے ۔ سماج میں نفرت کا ماحول گرم کیا جا رہا ہے ۔ دو طبقات کے مابین دوریوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ اقلیتوں کو نت نئے انداز سے نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ سا چل پڑا ہے ۔
بی جے پی اسی حکمت عملی کو تلنگانہ میں بھی اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ امیت شاہ ملک میں حکمران جماعت کے صدر ہیں اس کے باوجود انہوں نے دورہ تلنگانہ کے موقع پر جو رویہ اختیار کیا وہ ایک قومی جماعت کے صدر کو ذیب نہیںدیتا ۔ یہاں انہوں نے جن مقامات کا دورہ کیا ہے اور جو تقاریر کی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فرقہ پرستی کے ایجنڈہ ہی کو آگے بڑھانے میں یقین رکھتے ہیں اور تلنگانہ کی ترقی اور اس کی بہتری کیلئے پارٹی یا امیت شاہ کے پاس کوئی حکمت عملی یا جامع ایجنڈہ و پروگرام موجود نہیں ہے ۔ ریاست میں مسلمانوں کو پہلے سے حاصل تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی ٹی آر ایس حکومت کی کوششوں کو سماجی بہتری اور سماجی مساوات کو یقینی بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھنے کی بجائے بی جے پی ان کی برخواستگی کیلئے مہم چلا رہی ہے اور تحفظات کے خلاف مہم چلاتے ہوئے اور پروپگنڈہ کرتے ہوئے اکثریتی برادری میں برہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی کی یہ کوششیں محض اقتدار کے لالچ میں ہیں اور وہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے عوام کی تائید جیتنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ اس کے پاس کوئی جامع منصوبہ یا ترقیاتی پروگرام نہیں ہے ۔ وہ محض سماج میں بے چینی اور نراج کی کیفیت پیدا کرتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کرناچاہتی ہے جس سے تلنگانہ کا پرامن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی والا ماحول درہم برہم ہوسکتا ہے اور اس کو روکنا نہ صرف ریاستی حکومت بلکہ دوسری جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے ۔ ہر جماعت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔
بی جے پی کی جانب سے جو دعوی ریاست میں حصول اقتدار کے سلسلہ میں کئے جا رہے ہیں وہ صرف پارٹی کیڈر کو اپنی صفوں میں برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے ۔ ان دعووں میں کوئی سچائی یا حقیقت نہیں ہے ۔ تلنگانہ کی تشکیل اور ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے بعد جس طرح سے تلگودیشم اور کانگریس کے قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی اس کے بعد یہ اندیشے تھے کہ بی جے پی کے بھی کئی قائدین اس پارٹی کو چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں گے ۔ تاہم بی جے پی نے ریاست میں حصول اقتدار کا خواب دکھاتے ہوئے ان قائدین کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ خود بی جے پی کے قائدین کو یہ احساس ہے کہ تلنگانہ میں اقتدار کا حصول اس کیلئے ممکن نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اس طرح کے دعوے صرف اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے اور اپنے قائدین کو ٹی آر ایس میں شمولیت سے روکنے کے مقصد سے کئے جا رہے ہیں اور ان میں کوئی سچائی نظر نہیں آتی ۔

TOPPOPULARRECENT