Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / امیت شاہ کی بد زبانی

امیت شاہ کی بد زبانی

ربط اُن سے جب بڑھا کم ہوگیا
دل کا اور اک آسرا کم ہوگیا
امیت شاہ کی بد زبانی
بی جے پی کے صدر امیت شاہ جس وقت سے سیاسی عروج پر پہونچے ہیں اس وقت سے ان کا لب و لہجہ اور انداز ہی بدل کر رہ گیا ہے ۔ گجرات میں ایک ریاستی وزیر سے وہ قومی سیاست کے اہم ستون بن گئے ہیں۔ نریندر مودی سے قربت نے انہیں سیاسی عروج عطا کیا ہے اور وہ اچانک ہی بی جے پی کے صدر بنادئے گئے ۔ سیاسی عروج حاصل کرنے کی ہر سیاسی لیڈر و کارکن کو خواہش ہوتی ہے لیکن اس عروج پر پہونچنے کے بعد تکبر اور تفاخر سے بچنے کی ضرورت ہوتی ہے اور خاص طور پر اپنی زبان پر قابو رکھنا ضروری ہوجاتا ہے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ امیت شاہ کیلئے اپنی زبان پر کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ وہ اپنی پارٹی کے اقتدار اور پارٹی کی صدارت کے نشہ میں من چاہے انداز میں ریمارکس کرتے جا رہے ہیں۔ اب انہوں نے اتر پردیش میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی مخالف جماعتوںکو زہریلے سانپ قرار دیدیا ہے ۔ اس طرح کے ریمارکس ہندوستانی سیاست میں انتہائی نا مناسب ہیں۔ ہندوستان کی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ سیاسی اختلاف چاہے کتنی بھی شدت کا کیوں نہ ہو لیکن عوامی زندگی میں اخلاق اور اقدار کا دامن نہیں چھوڑا جاتا ۔ سیاسی اختلاف کو شخصی عناد بنانے سے گریز کیا جاتا ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کے خلاف تنقید کرتے ہوئے بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا ۔ تاہم بی جے پی قائدین ایسا لگتا ہے کہ اقتدار کے نشے سے بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ مخالف آوازوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اپنی پالیسیوں اور پروگراموں کے ذریعہ رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر ایک کا حق ہے اور جمہوریت کا یہی امتیاز ہے کہ عوام کو اپنی پسند ظاہر کرنے کا موقع دیا جاتا ہے لیکن سیاسی قائدین ایک دوسرے کے خلاف غیر شائستہ برتاو کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ۔ اس حقیقت کو بی جے پی کے قائدین فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ بی جے پی قائدین کسی نہ کسی انداز میں نازیبا اور زہر گھولنے والے ریمارکس کرنے کیلئے شہرت حاصل کر رہے ہیں اور اب اس دوڑ میں خود بی جے پی کے صدر بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یہ ہندوستانی سیاست کو انتہائی پستیوں میںڈھکیلنے کی کوشش ہے جس سے گریز کیا جانا چاہئے ۔
بی جے پی قائدین کی جانب سے اب تک کئی متنازعہ بیانات دئے گئے ہیں۔ کوئی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے تو کوئی رام زادہ اور حرام زادہ کی سیاست کو فروغ دینے کی بات کر رہا ہے ۔ کوئی ملک کے دستور اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کرنے کا اعلان کر رہا ہے تو کوئی اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ بی جے پی کے قومی صدر ہونے کے ناطے امیت شاہ کا یہ ذمہ ہے کہ وہ ایسے عناصر پر قابو کریں اور ان کی زبان پر لگام لگائیں۔ برخلاف اس کے امیت شاہ خود ایسے قائدین کی صفوں میں جا کھڑے ہوگئے ہیں اور انہوں نے بھی شائستگی اور سیاسی ذمہ داری کی پرواہ کئے بغیر اپنی مخالف جماعتوں کو زہریلے سانپ قرار دیدیا ہے ۔ اصول اور اقدار کی بات کرنے والی بی جے پی اورا س کے قائدین اپنے بیانات سے دوہرے معیارات کو ظاہر کرتے جا رہے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ ان کو روکنے کی بجائے امیت شاہ خود بھی اسی کا حصہ بن گئے ہیں۔ بی جے پی اس ملک کی برسر اقتدار جماعت ہے اور یہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیاسی اقدار اور روایات کا پاس و لحاظ اپوزیشن جماعتوں سے زیادہ کرے اور اس کے قائدین کو اپنے بیانات یا طرز عمل سے اس کی مثال قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن عمل اس کے یکسر برخلاف کیا جا رہا ہے ۔ اس سے ہندوستانی سیاست کی روایات و اقدار کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کی پالیسیوں اور پروگرامس سے اختلاف ہوتا ہی ہے اور یہی جمہوریت کی معراج ہے ۔ عوام کو ایک کے بعد دوسری جماعت کی پالیسیوں اور پروگرامس کو پرکھنے کا موقع حاصل رہتا ہے ۔ عوام اسی موقع سے استفادہ کرتے ہوئے کسی امیدوار یا جماعت کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اقتدار حاصل کرنے والے خود کو ڈکٹیٹر سمجھنے لگ جائیں اور ایسی زبان استعمال کرنے لگ جائیں جو ملک کے سیاسی ڈھانچہ کو کمزور کرنے کا باعث بنے ۔ سیاسی اختلاف کو سیاسی میدان تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے اور کون صحیح اور کون غلط ہے اس کا فیصلہ کرنے کا حق اور اختیار ملک کے عوام کے ہاتھ میں ہی ہونا چاہئے ۔ اپنے ذاتی نظریات کی بنیاد پر کسی کے خلاف شائستگی کی دھجیاں اڑانے والے ریمارکس کرنا غیر صحتمندانہ رجحان ہے اور اس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT