Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرنے تمام پارٹیوں کی لمحہ آخر تک خاموشی

امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرنے تمام پارٹیوں کی لمحہ آخر تک خاموشی

پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آخری وقت سے کچھ دیر قبل ٹی آر ایس کی مکمل فہرست کا اعلان، کارکنوں میں تجسس
حیدرآباد۔ 17 جنوری (این ایس ایس) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کیلئے پرچہ جات نامزدگیاں داخل کرنے کی آخری تاریخ اور لمحہ آخر تک بھی تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہ کرکے ہر کسی کو تجسس میں ڈال دیا۔ انتخابی عمل کو رازداری میں رکھا۔ اس رازداری کو برتنے میں سب سے آگے حکمراں پارٹی ٹی آر ایس تھی جس نے اپنے امیدواروں کی مکمل فہرست کو پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کیلئے مقررہ وقت سے کچھ دیر قبل ہی جاری کیا۔ ٹی آر ایس نے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کے آخری دن اتوار کو پارٹی امیدواروں کے ناموں کی دو فہرستیں جاری کیں۔ اس کے بعد ہی پارٹی امیدوار اپنا پرچہ جات نامزدگی داخل کرسکے۔ کانگریس اور تلگو دیشم پارٹی نے بھی اپنے امیدواروں کی فہرست کو راز میں رکھا اور رازداری سے کام لیتے ہوئے لمحہ آخر امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا۔ دوسری جانب جو قائدین اور کارکن پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، اپنی متعلقہ پارٹیوں کے قائدین کے خلاف ناراضگی اور برہمی ظاہر کرتے دکھائی دیئے۔ حکمراں پارٹی کے خلاف سب سے زیادہ ناراضگی اور برہمی دیکھی گئی۔ ٹی آر ایس کے کئی قائدین نے پارٹی قیادت کے خلاف احتجاج کیا۔ برہم قائدین نے ٹی آر ایس سربراہ سے سوال کیا کہ آخر انہوں نے تلنگانہ تحریک میں حصہ نہ لینے والوں کو ٹکٹ کیوں اور کیسے دیا؟ ان سرگرم پارٹی کارکنوں نے احساس ظاہر کیا کہ تلنگانہ تحریک کے روز اول سے ہی ہم ٹی آر ایس کیلئے کام کرتے آرہے تھے لیکن جب ٹکٹ دینے کا موقع آیا تو پارٹی قیادت نے ہماری قربانیوں کو نظرانداز کردیا۔ پارٹی ٹکٹس سے محروم کئی قائدین کو سڑکوں پر جمع ہوکر احتجاج کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان قائدین نے پارٹی قیادت کے خلاف اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو ٹکٹ دینے پر ناراضگی ظاہر کی۔ بعض ارکان نے الزام عائد کیا کہ پارٹی نے اُن لوگوں کو ٹکٹس فروخت کئے ہیں جو دولت کی طاقت کے ذریعہ پارٹی ٹکٹ خریدنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ عوام میں مقبول نہیں ہیں اور نہ ہی عوامی نمائندہ ہیں۔ دولت کے بَل پر پارٹی ٹکٹ خریدے گئے ہیں۔ بعض ناراض قائدین نے اپنی متعلقہ پارٹیوں کے بغاوت کرتے ہوئے اپنے طور پر پرچہ جات نامزدگی داخل کیا اور کہا کہ اگر وہ پارٹی ٹکٹ لینے میں ناکام ہوجائیں تو اپنے پرچہ جات نامزدگی سے دستبردار ہوجائیں گے۔ کانگریس پارٹی میں بھی ٹکٹ کے حصول اور ناکامی کو لے کر ناراضگیاں پیدا ہوئی ہیں، خاص کر سابق ارکان اسمبلی ڈی سدھیر ریڈی، لکشما ریڈی اور سری سیلم گوڑ نے ریاستی پارٹی قائدین کے رویہ کے خلاف شکایت کرتے ہوئے پارٹی ہائی کمان کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔ ان قائدین نے اپنے مکتوب میں الزام عائد کیا کہ کانگریس ریاستی یونٹ کے قائدین نے ان لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے جنہوں نے قبل ازیں پارٹی کے خلاف کام کیا تھا۔ ان ناراض قائدین نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر این اتم کمار ریڈی کو خبردار کیا اور کہا کہ اگر ان کا رویہ اسی طرح رہا تو وہ پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دینے میں پس و پیش نہیں کریں گے۔ تلنگانہ تلگو دیشم میں بھی پارٹی ٹکٹ کے مسئلہ پر کئی قائدین نے ناراضگی ظاہر کی اور پارٹی قیادت کے خلاف احتجاج کیا۔ ان قائدین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ تلگو دیشم کے ذمہ داروں نے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا ہے جو کبھی بھی پارٹی کا کیڈر ہی نہیں تھے۔ ٹکٹ نہ ملنے پر کئی قائدین نے پارٹی قیادت پر تنقید کی جبکہ صدر تلگو دیشم چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کے نوجوان پارٹی قائدین کو آگے بڑھانے کا تیقن دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT