Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / امید کی کرن

امید کی کرن

بدل جائے گا کیا آئینِ گلشن
ہوا کچھ رُخ بدلتی جارہی ہے
امید کی کرن
ہندوستان میں قانون کی بالا دستی پر ہمیشہ ہی مختلف گوشوں سے مختلف خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔ اکثریت کی رائے یہی ہے کہ قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ملک کے عوام کی اکثریت بھی قانون کی بالا دستی کی حامی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے والوں کی تائید و حمایت کرتی رہی ہے ۔ تاہم جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے اور ایسے گوشوں کا سوال ہے جو قانون سے کھلواڑ کرتے رہتے ہیں اور قانون کے نام پر حلف لینے کے باوجود قانون کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کو اپنا شیوہ بناتے رہتے ہیں ایسے عناصر کی بھی ہندوستان میں کوئی کمی نہیںہے ۔ حالیہ عرصہ میں خاص طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دستور اور قانون سے کھلواڑ کرنے والوں نے ایسا انداز اختیار کیا ہوا ہے جیسے وہ ماورائے قانون یا ماورائے دستور اتھاریٹی ہوں۔ قانون کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا ۔ تاہم ملک کے نئے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے آج یہ واضح کیا کہ اس ملک میں جب تک قانون کی بالادستی ہے اور جب تک ملک کی عدلیہ آزاد ہے اس وقت تک کسی کو بھی اپنے حقوق اور آزادی کے تعلق سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جسٹس ٹھاکر کا یہ بیان ملک کے ان دبے کچلے اور نفرت کا نشانہ بننے والے عوام کیلئے امید کی کرن ہے جن کے تعلق سے آج ہر کوئی اظہار خیال کو اپنا فریضہ سمجھا ہوا ہے ۔ جسٹس ٹھاکر نے یہ واضح کردیا ہے کہ اس ملک کے دستور میں ان لوگوں کے بھی کچھ حقوق ہیں جو اس ملک کے شہری نہیں ہیں تو پھر اس کے دستور میں اس ملک کے اپنے شہریوں کے حقوق کا خیال کیوں نہیں رکھا جاسکتا ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے دستور نے اپنے ہر شہری کو اس کے رنگ و نسل ‘ ذات پات اور مذہب سے قطع نظر مساوی حقوق دئے ہیں اور سب کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔جسٹس ٹھاکر نے بالکل واضح انداز میں یہ کہدیا ہے کہ کسی کو بھی اس وقت تک فکرمند ہونے کی یا تشویش کا شکارہونے کی ضرورت نہیں ہے جب تک اس ملک میں قانون کی بالا دستی ہے اور جب تک عدلیہ آزاد ہے ۔ جسٹس ٹھاکر کا یہ بیان ان عناصر کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جو آئے دن نفرت انگیز بیانات دیتے ہوئے سماج کے دوسرے طبقات کو خوفزدہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
حالیہ عرصہ میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ رواداری اور عدم رواداری پر مباحث شروع ہوگئے ہیں۔ ملک میں پھیلے نفرت اور عدم رواداری کے ماحول پر مختلف گوشوں سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ کئی قلمکاروں ‘ مصنفین اور فلمی شخصیتوں نے قومی سطح کے ایوارڈز تک واپس کرتے ہوئے اپنی فکر و تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ عوام میں بھی ایک طرح کی بے چینی پیدا ہوئی ہے ۔ یہ ساری صورتحال ملک و قوم کی ترقی کیلئے معاون نہیں ہوسکتی ۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس میں کسی بھی گوشے کو اطمینان محسوس نہیں ہوسکتا ۔ ایسے ملک میں جہاں دوسرے ملک کے عوام کیلئے بھی کچھ حقوق رکھے گئے ہیں وہاں خود ہندوستانیوں کے ہر طرح کے حقوق اور مفادات کا پاس و لحاظ یقینی طور پر رکھا گیا ہے اور اس حقیقت کو ملک کے سبھی گوشوں کو سمجھنے اور اس کو ماننے کی ضرورت ہے ۔ جب تک ہم اپنے دستور اور قانون کو اس کی رو کے مطابق نہیں سمجھیں گے اس وقت تک ملک کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد نہیں مل سکتی ۔ جس طرح سے معزز چیف جسٹس آف انڈیا نے واضح کیا ہے اس ملک میں عدلیہ بالکلیہ آزاد ہے اور عدلیہ میں قانون کی بالا دستی کو یقینی بنایا جاتا ہے تو ملک کے کسی بھی شہری کو فکر و تشویش میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہر شہری اپنے حق کیلئے جدوجہد کرسکتا ہے اور اس کی مدد کرنے کیلئے اس ملک میں قانون اور عدلیہ موجود ہے ۔ جو عناصر ملک کا ماحول بگاڑنے کے در پہ ہیں اور وہ خود کو ماورائے قانون یا ماورائے دستور اتھاریٹی سمجھنے لگے ہیں انہیں بھی اپنے رویہ پر نظر ثانی کرنے اور اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر ذات ‘ ہر رنگ و نسل اور ہر مذہب کے ماننے والے رہتے بستے ہیں۔ یہاں بیرونی ملکوں سے پناہ کی تلاش میں آئے ہوئے افراد تک کو فراخدلی کے ساتھ گلے لگانے کی روایات موجود ہیں ۔ ایسی روایات سے مالا مال ملک میں ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ وقتی طور پر کچھ مسائل ضرور پیدا ہوسکتے ہیں اور اس کے اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں لیکن اس سے ملک کا کردار اور اس کا امیج متاثر نہیں ہونا چاہئے ۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے آج ملک کے عوام کو جو تیقن دیا ہے وہ عدلیہ کے معیاری کردار کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ملک کے عوام میں عدلیہ کے تئیں اعتماد اور بھی مستحکم ہوگیا ہے اور ان عناصر کے حوصلے پست ہونگے جو اپنے ادنی سے سیاسی مفادات کیلئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ انہیں اب ایسی کوششوں کو ترک کردینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT