Monday , September 25 2017
Home / ادبی ڈائری / امیر خسرو (1253 ۔ 1325 ء)

امیر خسرو (1253 ۔ 1325 ء)

پروفیسر محسن عثمانی ندوی
ابوالحسن یمین الدین خسرو اصل نام تھا ، لیکن امیر خسرو کے نام سے شہرت پائی، شمالی ہند کے شہر پٹیالہ میں ان کی پیدائش ہوئی ۔ ان کے والد کا نام امیر سیف الدین محمود تھا، جو شمس الدین التمش کی فوج میں ملازم تھے، یہی وہ زمانہ ہے کہ جب حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا طوطی بول رہا تھا اور خدا کی مخلوق ان کی گرویدہ ہورہی تھی اوران کی خدا ترسی اور آخرت رسی اور روحانیت کے چرچے خاص و عام میں پھیل چکے تھے، امیر خسرو حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے قریب اور ان کے عاشق زار ہوگئے تھے ، ان کی قبر بھی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کی قبر سے متصل ہے ، امیر خسرو کا نام اردو زبان کے اولین شعراء میں آتا ہے ، اس طرح سے اردو غزل کی عمر سات سو سال شمار کی جاسکتی ہے ، امیر خسرو کا یہ شعر بہت سے مشہور گانے والوں نے گایا ہے ۔
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
امیر خسرو سرکاری دربار سے بھی وابستہ رہے ، جلال الدین خلیجی سے بھی ان کی مصاحبت رہی اور اس کے بعد جب قیقباد تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوا تو اس نے بھی خسرو کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور انہیں مصحف دار کے منصب پر فائز کیا اور اپنے ندیموں میں شامل کر کے ایک ہزار دو سو تنکہ سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔ حکومت اور دربار سے روابط کے ساتھ ساتھ امیر خسرو نے تصنیف و تالیف پر سب سے زیادہ توجہ دی اور پانچ اہم بیحد رسالے لکھے جن میں آئینہ سکندری ، مطلع انوار اور ہشت بہشت شامل ہیں اور بعد میں جب دہلی کی حکومت غیاث الدین تغلق کے ہاتھ میں آئی تو خسرو اس کے دربار میں بھی شامل ہوگئے ، شہزادہ جوٹا خان (محمد بن تغلق) کے ساتھ جب وہ دیوگری (دولت آباد ۔ مہاراشٹرا) گئے تو وہاں کے خوشنما مناظر سے بیحد متاثر ہوئے اور انہیں کے مشورے پر شاید محمد تغلق نے اپنا پایہ تخت دہلی سے دولت آباد منتقل کرلیا۔ غیاث الدین تغلق حضرت نظام الدین اولیاء سے ناخوش رہتا تھا اور بنگال کے مہم پر جانے سے پہلے اس نے حضرت نظام الدین نے یہ حکم بھجوایا تھا کہ وہ اس کی واپسی سے پہلے دہلی چھوڑدیں۔ جب فتح مند سلطان بنگال کی مہم سر کر کے واپس دہلی کے قریب آیا تو اس نے دہلی پہونچنے سے پہلے حضرت نظام الدین اولیاء کو کہلا بھیجا کہ میرے دہلی پہونچنے سے پہلے دہلی چھوڑدیں۔ امیر خسرو کے شیخ و مرشد نے وہ مشہور جملہ فرمایا کہ بادشاہ سے کہہ دو کہ ہنوز دہلی دور است‘‘ ، چنانچہ دہلی پہونچنے سے پہلے غیاث الدین تغلق کا ایک حادثہ میں انتقال ہوگیا۔
امیر خسرو ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ، صاحب سیف بھی تھے ، صاحب قلم بھی تھے ، وہ شاعر بھی تھے، نثرنگار بھی تھے، تاریخ نویس بھی تھے، سپاہی بھی تھے، صوفی بھی تھے اور ماہر موسیقار تھے۔ ہندوستانی موسیقی کو انہوں نے ستار اور طبلہ کا تحفہ دیا ۔ امیر خسرو کے زمانے میں افغانستان ، غزنی ، عراق ، ایران اور وسط ایشیاء سے ار باب کمال اور علماء اور ادباء ہجرت کر کے ہندوستان آرہے تھے اور مختلف قوموں کے اختلاط سے ایک نئی زبان کی تشکیل ہورہی تھی ، اس زبان کو امیر خسرو نے ہندوی کا نام دیا ، یہ ہندوی بعد میں ریختہ کہلائی اور پھر اردو بن گئی اور انیسویں صدی کے وسط میں دہلی کے قلعہ میں پہونچ کر اردو معلیٰ کہلائی اور جب محمد تغلق نے پایہ تخت تبدیل کیا اور دو لت آباد کو اپنا درالسلطنت بنایا تو پھر یہ زبان دکن میں پروان چڑھی اور دکنی کہلائی ، دکن میں 1707 ء میں ولی دکنی جیسا شاعر اردو زبان میں پیدا ہوا اور جب دکن کی اردو غزلیں دہلی پہونچیں تو وہاں فارسی شاعر کا چراغ ٹمٹما رہا تھا ۔ ولی کی غزلوں نے اردو شعراء کو ایک نیا ولولہ عطا کیا اور پھر میر تقی میر اور مرزا محمد رفیع سودا جیسے شاعر پیدا ہو ئے۔
امیر خسرو کو اردو زبان کا پہلا شاعر یا باوا آدم کہنا چاہئے، ان کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ’’خالق باری‘‘ یہ کتاب نظم کی کتاب ہے اور ایک لغت بھی ہے اور ہندی اور فارسی والوں کیلئے ترجمہ کی گائیڈ بک بھی ہے ، یہ کتاب اس شعر سے شروع ہوتی ہے جس میں فارسی اردو یا ہندوی میں ترجمہ ہے۔
بیا برادر، آؤرے بھائی
بنشیں مادر، بیٹھ رے مائی
حضرت امیر خسرو فارسی کے بھی شاعر تھے اور اردو یا ہندی کے بھی شاعر تھے اور انہوں نے دونوں زبانوں کو ملاکر کے بھی بہت خوبصورت اشعار کہے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ دو شعر دیکھئے۔
زحالِ مسکیں مکن تغافل برائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
امیر خسرو سے منسوب کچھ پہیلیاں بھی ہیں، چونکہ وہ عوام کی زبان میں گفتگو کرتے تھے تو لوگوں نے بھی ان کے گیت اور راگنیاں خوب خوب گائیں اور صدیاں گزرجانے کے بعد ان کے بول اب بھی دلوں میں محفوظ ہیں اور زبانوں پر جاری ہیں۔ یہ صوفی شاعر اپنے اشعار کے ذریعہ صدیاں گزرجانے کے باوجود ابھی تک زندہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT