Monday , August 21 2017
Home / دنیا / امین الحسینی نے ہٹلر کو ہولوکاسٹ کا مشورہ دیا تھا

امین الحسینی نے ہٹلر کو ہولوکاسٹ کا مشورہ دیا تھا

نتن یاہو کے متنازعہ بیان پر جرمنی کا تبصرہ سے گریز ، سابق موقف برقرار
برلن ۔ 21 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) جرمنی نے عالمی جنگ کے دوران یہودیوں کے قتل عام کیلئے اپنی ذمہ داری کا اعادہ کیا ہے ۔ قبل ازیں اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ایک نیا تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ ایک فلسطینی رہنما اور یروشلم کے مفتی اعظم حاجی امین الحسینی نے 1941 ء میں ہٹلر کو مشورہ دیا تھا کہ یہودیوں کا صفایا کردیا جائے۔ نتن یاہو کے الزام پر تبصرہ کی خواہش پر حکومت جرمنی کے ترجمان اسٹیفن سی برڈ نے کہا کہ وہ اس دعویٰ پر براہ راست کچھ کہنا نہیں چاہتے، البتہ وفاقی حکومت کی طرف سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم جرمن قوم ، ماضی میں نازیوں کی اس نسلی جنون پسندی اور قتل عام کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس تاریخی موضوع پر ہمارے نظریہ میں تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ نتن یاہو نے گزشتہ روز خطاب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ ہٹلر نے یہودیوں کے قتل عام کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا لیکن 1941 ء میں قوم پرست فلسطینی رہنما حاجی امین الحسینی نے ہٹلر سے ملاقات کی تھی اور انہیں مشورہ دیا تھا کہ یہودیوں کے جرمن سے اخراج کے بجائے جرمن میں ہی ان کا صفایا کردیا جائے۔ نتن یاہو کے مطابق ’’حاجی امین الحسینی نے ہٹلر سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر آپ انہیں (یہودیوں) کا اخراج کریں گے تو وہ دوبارہ یہاں آجائیں گے۔ جس پر ہٹلر نے حاجی امین سے دریافت کیا کہ ’’تو پھر میں کیا کرسکتا ہوں؟ ‘‘ حاجی امین نے ہٹلر سے کہا تھا کہ ’’آپ انہیں (یہودیوں) کو جلادیجئے‘‘۔ تاہم نتن یاہو نے اپنے اس دعویٰ پر وضاحت کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام سے متعلق ’ہولوکاسٹ‘ کی ذمہ داری سے ہٹلر کو بری کر رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT