Tuesday , October 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا

سیدہ رضوانہ فاطمہ

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد ماجد کا نام حضرت عمر بن خطاب اور والدہ ماجدہ کا نام حضرت زینب بنت مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہے۔ آپ کا پہلا نکاح حضرت خنیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا اور آپ دونوں حضرات نے مدینہ طیبہ ہجرت کی۔ غزوۂ بدر میں حضرت خنیس نے شرکت کی اور اس کے بعد آپ کا وصال ہوا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیوہ ہوئیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما  کے سامنے ان کے نکاح کا ذکر کیا، لیکن آپ دونوں حضرات نے مصلحتاً سکوت اختیار کیا۔ جب اس کی اطلاع حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’حضرت حفصہ کا نکاح اس شخص (عظیم ہستی) سے ہوگا، جو ابوبکر اور عثمان سے افضل ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، طبقات)

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ۳ یا ۴ہجری میں ہوا۔ جس وقت حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق سے حضرت حفصہ کے ساتھ نکاح کا ارادہ ظاہر فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور سورۂ نمل کی یہ آیت پڑھی: ’’ھذا من فضل ربی…الخ‘‘۔ یہ میرے رب کا فضل ہے، تاکہ وہ آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا نعمت کی ناشکری کرتا ہوں۔
حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان بہت زیادہ پیار و محبت والا معاملہ تھا۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’(حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) بلند فضیلت والد کی بافضیلت صاحبزادی ہیں۔ آپ خشوع و خضوع سے عبادت میں منہمک رہتیں، سخاوت میں اعلیٰ درجہ پر فائز، جنت میں حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہونے کی بشارت اور خوف خدا جیسے عظیم فضائل سے مزین تھیں۔ بہادری، شجاعت اور حق گوئی آپ کی طبیعت کا اہم پہلو رہا اور آپ مزاج شناس حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم تھیں‘‘۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سخاوت کا پیکر تھیں، بوقت وصال حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ وصیت فرمائی کہ ’’میری تمام وراثت کو صدقہ کردیا جائے‘‘۔ (زرقانی، جلد۳)

آپ تفقہ فی الدین کی صفت سے متصف تھیں، نیز خلافت راشدہ میں آپ کے مشاہیر و احکام فقہ کو معتبر و مستند مانا جاتا۔ خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی رائے طلب کرتے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات میں گشت پر نکلے تو ایک گھر سے عورت کے رونے کی آواز آئی۔ آپ نے اس عورت کا حال دریافت کیا تو اس نے اپنے شوہر کے جدا ہونے کا شکوہ کیا اور کہا: ’’میرا شوہر مسلسل کئی ماہ سے جہاد پر ہے‘‘۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا کہ ’’عورت اپنے شوہر سے کتنے عرصہ تک جدا رہ سکتی ہے؟‘‘۔ آپ نے جواباً فرمایا: ’’چار یا چھ ماہ‘‘۔ اس کے بعد حضرت فاروق اعظم نے یہ حکم نافذ کیا کہ جنگ طویل ہو جائے تو چھ ماہ بعد ان پہلے اشخاص کو بھیج دیا جائے۔ غرض کہ آپ علم و فضل، فہم و فراست اور استنباط و فقاہت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں۔ آپ پیکر زہد و تقویٰ اور اخلاق حسنہ کا شاہکار تھیں۔ قائمۃ اللیل و صائمۃ الدہر تھیں اور بوقت وصال آپ روزہ سے تھیں۔ (اصابہ، جلد۸)
حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آپ کا مقام اعلیٰ و ارفع تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مدح میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ اپنے حبیب کی بارگاہ میں پیغام پہنچایا کہ ’’حضرت حفصہ قائمۃ اللیل و صائمۃ الدہر (راتوں کو جاگنے والی اور بہت روزہ رکھنے والی) ہیں اور جنت میں آپﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں‘‘۔ (مستدرک حاکم، مجمع الزوائد)

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قرآن کریم کی حافظہ تھیں اور اپنا اکثر وقت قرآن کریم کی تلاوت میں صرف کرتیں۔ آپ قرآنی آیات کے فہم پر بڑا کمال رکھتی تھیں اور آیات کی توجیہات اس طرح بیان کرتیں کہ اکابر صحابہ انگشت بدنداں رہتے۔ آپ کو تعلیم و تعلم کا بڑا شوق تھا۔ جلیل القدر صحابہ و صحابیات آپ کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہیں۔ تدوین حدیث کے ضمن میں حضرت عمرو بن رافع، آپ کی خدمت میں مصحف لکھا کرتے تھے۔ آپ کو علم فقہ میں ممتاز مقام حاصل تھا۔ آپ کے پاس بے شمار صحابۂ کرام سماع حدیث کے لئے تشریف لاتے۔ خود آپ کے بھائی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے معمولات کے متعلق معلومات حاصل کرتے۔ آپ سے روایت کرنے والے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حمزہ بن عبد اللہ اور آپ کی زوجہ محترمہ حنفیہ بنت ابی عبید، ام بشر انصاریہ، عبد الرحمن بن حارث وغیرہ ہیں۔ (تہذیب التہذیب۔۴۱۰)

TOPPOPULARRECENT