Monday , September 25 2017
Home / سیاسیات / انتخابات میں سرکاری فنڈنگ کیلئے وقت ابھی سازگار نہیں

انتخابات میں سرکاری فنڈنگ کیلئے وقت ابھی سازگار نہیں

پہلے انقلابی اصلاحات اور سخت قوانین ضروری : چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی کا خطاب
نئی دہلی 15 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے آج کہا کہ ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ ملک میں انتخابات کیلئے سرکاری فنڈنگ کی جائے ۔ کمیشن نے کہا کہ جب تک ملک میں انقلابی اصلاحات نہیں ہوتے اور سیاست کو جرائم سے پاک نہیں کیا جاتا ‘ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کیلئے معاشی شفافیت کے سخت ترین قوانین نہیں بنائے جاتے اس وقت تک ایسا نہیں ہوسکتا ۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے سیاست میں پیسے کے اثرات پر ایک عالمی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ کئی سیاسی جماعتوں نے سرکاری فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہمارے پاس سیاسی جماعتوں کی راست فنڈنگ کا طریقہ نہیںہے ۔ کچھ بالواسطہ فوائد ضرور پہونچائے جاتے ہیں جن میں مفت انتخابی فہرست کی فراہمی ‘ سرکاری میڈیا میں مفت تشہیر کی سہولت ‘ ریاستی دارالحکومتوں میں سیاسی جماعتوں کیلئے دفاتر کی جگہ کی فراہمی اور ٹیکس استثنی کی سہولیات دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا خیال یہ ہے کہ سرکاری فنڈنگ پر اسوقت تک غور نہیں کیا جانا چاہئے جب تک انقلابی اصلاحات نہیں لائے جاتے ۔ سیاست کو جرائم سے پاک نہیں کیا جاتا ۔ سیاسی جماعتوں و امیدواروں کے اخراجات میں شفافیت لانے قانون نہیں بن جاتا ‘ آڈٹ کیلئے قانونی گنجائش فراہم نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اصلاحات کا عمل نہیںہوتا تو پھر کمیشن کو شبہ ہے کہ سرکاری فنڈنگ بھی سیاسی جماعتوں کیلئے ایک اضافی سہولت ہوجائیگی ۔ ان سے انہیں اپنے غیر قانونی پیسے کے استعمال کے علاوہ اضافہ فنڈز کا ایک اور ذریعہ حاصل ہوجائیگا

اور ایسا ہونے کی صورت میں صحیح الفکر شہری انتخابی عمل میں حصہ لینے سے گریز کرسکتے ہیں۔ سرکاری فنڈنگ کا طریقہ کار یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے انتخابات میں مقابلہ کیلئے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں ۔ اس طریقہ کار کے بعد موجودہ خانگی یا پارٹی فنڈز کے استعمال کا طریقہ کار ختم ہوجانا چاہئے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے سیاسی جماعتوں اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات پر تیزی سے کام کریں تاکہ معاشی انتخابی پالیسی کے عمل کو صاف و شفاف بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فینانس سے متعلق انتخابی اصلاحات کی تجاویز کو آگے بڑھانے کا اب وقت آگیا ہے اور الیکشن کمیشن و لا کمیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر عمل آوری ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے عوام کے سامنے ایک اچھا پیام جائیگا اور جمہوریت مستحکم ہوگی ۔ امیدواروں کی اکثریت جو ہندوستان میں انتخابی مقابلہ کررہی ہے، اپنے انتخابی اخراجات کی بہت کم اطلاع دے رہی ہے اور قوانین سیاسی فنڈس کو باقاعدہ بنانے کے لئے ناکافی ہیں جس کی وجہ سے صورتحال خوفناک ہوگئی ہے۔ ایسے ادارے بھی ہیں جن پر رقم کا غلبہ ہے اور اس کی وجہ سے منصفانہ انتخابات کا انعقاد مشکل ہوگیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے کہاکہ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وصول ہونے والے عطیات کو باقاعدہ بنائے اور سیاسی پارٹیوں کی جانب سے وصول کئے ہوئے فنڈس کو بھی باقاعدہ بنایا جانا چاہئے کیوں کہ موجودہ صورتحال میں کالے دھن کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT