Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / انتخابات کیلئے سرکاری فنڈنگ کی حمایت ‘ سی پی آئی

انتخابات کیلئے سرکاری فنڈنگ کی حمایت ‘ سی پی آئی

لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت چناؤ ناقابل عمل ۔ جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈی
حیدرآباد 4 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے انتخابات کی سرکاری فنڈنگ کی حمایت کی ہے اور کہا کہ تناسب کے اعتبار سے نمائندگی کے انتخابی نظام کو بھی رائج کیا جانا چاہئے تاکہ انتخابی مہم کے اخراجات کو کم کیا جاسکے ۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہا کہ ان کی پارٹی انتخابات میں سرکاری فنڈنگ کی حمایت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سے صرف کچھ حد تک اخراجات میں کمی ہوگی کیونکہ امیدوار اور سیاسی جماعتیں اپنے طریقے تلاش کرلیں گی تاکہ رائے دہندوں کو راغب کرنے رقومات خرچ کی جاسکیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج کرنا زیادہ مناسب ہوگا جہاں سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ تناسب کے اعتبار سے اپنے امیدواروں کی تعداد کا تعین کرسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کے ناموں کا قبل از وقت اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ متناسب انتخابی نظام سے فطری طور پر امیدواروں کی جانب سے شخصی طور پر پیسہ خرچنے کاسلسلہ رک سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے ووٹوں کی خریداری کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ نظام رائج کیا جاتا ہے تو چھوٹی جماعتیں ان کی نمائندگی حاصل کرسکتی ہیں اور پچھڑے ہوئے طبقات کو بھی ان کے تناسب کے اعتبار سے انہوں نے کہا کہ اس نظام کے ذریعہ حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ محکمہ انکم ٹیکس کی عام ہدایات پر بھی مناسب عمل آوری ہونی چاہئے کہ 20 ہزار روپئے سے زائد کے جو عطیات سیاسی جماعتوں کو ملتے ہیںوہ یا تو چیک کے ذریعہ ہونے چاہئیں یا پھر ای ٹرانسفر ہونا چاہئے نقد کی شکل میں نہیں ہونا چاہئے ۔ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کیلئے بیک وقت انتخابات کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اس تجویز کی اب اس لئے تشہیر ہو رہی ہے کیونکہ بی جے پی سمجھتی ہے کہ نریندر مودی کی عوامی مقبولیت کے نتیجہ میں وہ پنچایت سے ریاست اور پھر قومی سطح تک اقتدار حاصل کرلیں گے ۔ اس تجویز کو غلط فہمی والا نظریہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی سطح پر کوئی حکومت زوال کا شکار ہوجائے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے ؟ ۔ ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات تک انتظار نہیں کیا جاسکتا ۔ اسیسا کرنا ریاستی اسمبلیوں کے جمہوری حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT