Monday , July 24 2017
Home / شہر کی خبریں / انتخابات کی سرکاری فنڈنگ ہونی چاہئے ‘ سی پی ایم

انتخابات کی سرکاری فنڈنگ ہونی چاہئے ‘ سی پی ایم

سیاسی جماعتوں کو آر ٹی آئی کے دائرہ کار میں لانے کی مخالفت ۔ پولیٹ بیورو رکن برندا کرت
حیدرآباد 6 جولائی ( پی ٹی آئی ) ایسے وقت میں جبکہ حکومت نے سیاسی فنڈنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے اقدامات کا اشارہ دیا ہے سی پی ایم نے کہا ہے کہ انتخابات کی سرکاری فنڈنگ ہونی چاہئے ۔ پارٹی نے سیاسی جماعتوں کو آر ٹی آئی کے دائرہ کار میں لانے کی مخالفت بھی کی ہے ۔ سی پی ایم پولیٹ بیورو کی رکن برندا کرت نے آج کہا کہ انتخابات کی سرکاری فنڈنگ ہونی چاہئے ۔ تاہم یہ فنڈنگ نقدی کی شکل میں نہیں ہونی چاہئے بلکہ ساز و سامان کی شکل میں ہونی چاہئے ۔ پارٹی نے کہا کہ یہ فنڈنگ ٹی وی چینلوں پر نشریات کے بل کی ادائیگی ‘ اشتہارات کی اجرائی اور انتخابی مہم کا ساز و سامان فراہم کیا جانا چاہئے ۔ برندا کرت نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے تمام سیاسی جماعتوں کو مقابلہ کے مساوی مواقع دستیاب ہونگے ۔ کرت نے یہ واضح کیا کہ فی الحال سیاسی جماعتوں کے انتخابی مہم کے دوران ہونے والے اخراجات کو امیدوار کے اخراجات سے علیحدہ رکھا جاتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں برسر اقتدار جماعت کو بہت بڑی سہولت ہوتی ہے ۔ اس کے پاس رقومات ہوتی ہیں اور وہ بھاری سے بھاری رقم خرچ کرسکتی ہے ۔ کرت نے کہا کہ مثال کے طور پر ٹی وی اشتہارات ‘ اخبارات کے اشتہارات ‘ ہیلی کاپٹرس کے استعمال ‘ بڑے بڑے جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں میں عوام کی منتقلی وغیرہ ہوتی ہے اور اس کے اخراجات کو امیدوار کے اخراجات میں شامل نہیں کیا جاتا ۔ سی پی ایم کے خیال میں یہی بد دیانتی کا اصل ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اخراجات کو امیدوار کے اخراجات میں شامل کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اخراجات پر بھی ایک حد مقرر کی جانی چاہئے ۔ واضح رہے کہ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد حکومت سیاسی فنڈنگ کے عمل کو صاف بنانے کیلئے اقدامات کریگی ۔ برندا کرت کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر یہ ضروری ہے کہ سیاسی فنڈنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے لیکن ارون جیٹلی کا یہ بیان خود اس حکومت کی سیاسی غیر دیانتداری کی مثال ہے ۔ ایک جانب حکومت سیاسی فنڈنگ کو بہتر بنانے کی بات کر رہی ہے تو دوسری جانب الیکٹورل بانڈز کا ایک مکمل غیر شفاف میکانزم شروع کیا ہے ۔ اس طریقہ کار میں سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کرنے والے کارپوریٹس کا نام صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT