Wednesday , March 29 2017
Home / اداریہ / انتخابی جلسہ یا آر ایس ایس کی ریالیاں

انتخابی جلسہ یا آر ایس ایس کی ریالیاں

پھرمیری خامشی نے فسانہ سنادیا
پھر میرے ضبط درد نے رسوا کیا مجھے
انتخابی جلسہ یا آر ایس ایس کی ریالیاں
بی جے پی کیلئے 2019ء سے قبل پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سیمی فائنل کے مترادف سمجھے جارہے ہیں۔ بی جے پی کو یو پی سے کافی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ سال 2014ء میں بی جے پی کو لوک سبھا میں 71 ارکان پارلیمنٹ حاصل ہوئے تھے۔ خود وزیراعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات میں 18 سال سے بی جے پی کو اقتدار حاصل ہے۔ کانگریس کا اس ریاست سے مکمل صفایا ہوتا جارہا ہے۔ اپنی متواتر ناکامیوں کے بعد کانگریس کو اپنی بقاء کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ کانگریس نائب صدر راہول گاندھی کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوچکی ہیکہ وہ اپنی پارٹی کی گمشدہ ساکھ کو بہتر بنائیں۔ اس کوشش میں گذشتہ سال مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس کے خلاف بائیں بازو اتحاد سے ہاتھ ملا کر مغربی بنگال میں اپنی پارٹی کی برسوں پرانی دشمنی کو ترک کردیا۔ سابق چیف منسٹر مغربی بنگال بدھادیپ بھٹا چاریہ کے ساتھ ایک ہی شہ نشین پر بیٹھ کر یہ پیام دیا تھا کہ کانگریس وقت کے ساتھ حریف پارٹیوں کو گلے لگا لیتی ہے۔ یو پی میں اب سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد اسی بقاء کی جنگ کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ملک بھر میں حکمرانی کا ریکارڈ رکھنے والی کانگریس 130 سال کی تاریخ میں اب بتدریج سکڑتے جارہی ہے۔ صرف 6 ریاستوں میں اس کی حکومت ہے جبکہ اس کی مخالف جماعت نووارد بی جے پی کو 13 ریاستوں پر اقتدار ہے یعنی کشمیر تا کنیا کماری اور کچھ تا کمروپ تک بی جے پی کی لہر سیکولر ہندوستان کیلئے تشویشناک بات ہے۔ اس سے یہی واضح ہورہا ہیکہ ملک کی آبادی میں فرقہ پرستانہ سوچ کو تیزی سے پھیلا کر ہندوتوا طاقتوں نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ اب یوپی کے رائے دہندوں کو ان ہی فرقہ پرست سیاسی طاقتوں کی حکمرانی کا تجربہ ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے دوران بھی ریاست یوپی میں بی جے پی کی حکومت تھی اس حکومت میں ریاست یوپی کی جو درگت ہوئی ہے اس سے اترپردیش کا رائے دہندہ واقف ہے۔ یوپی میں گذشتہ 14 سال سے بی جے پی اقتدار سے دور ہے۔ بی ایس پی کے بعد سماج وادی پار ٹی کو اقتدار ملا ہے۔ اب چیف منسٹر اکھیلیش یادو کی زیرقیادت ایس پی نے کانگریس سے اتحاد کرکے اپنی سیاسی بقاء کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کو اس ملک پر 69 سال کی آزادی میں 60 سال حکومت کرنے کا اعزاز حاصل ہے مگر اس نے عوام کے حق میں خاص اقدامات نہیں کئے۔ ترقیات کے میدان میں پارٹی کے کارناموں کو صرف انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ اس طویل تاریخ رکھنے کے باوجود اب کانگریس ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ اسے آگے بڑھنے کے راستے تلاش کرنے کیلئے دوسروں کا ساتھ لینا پڑ رہا ہے۔ اترپردیش میں اپنی کامیابی کا یقین ظاہرکرنے والی بی جے پی کو اپنے لیڈر وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کا فائدہ مل رہا ہے۔ کانگریس نے بھی اپنے طرز سیاست میں تبدیلی لانا چاہتی ہے لیکن کانگریس کے اندر پایا جانے والا بحران ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا فائدہ اگر دونوں پارٹیوں کو ہوتا ہے تو پھر ہندوستان میں سیکولر روایات کے احیاء کی امید پیدا ہوگی۔ ان دنوں انتخابی میدان میں جس طرح کی تقاریر ہورہی ہیں یہ اخلاقیات سے گری ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ وزیراعظم مودی کے حوالے سے چیف منسٹر یوپی اکھیلیش یادو کا یہ ریمارک افسوسناک ہیکہ گجرات کے گدھے کے لئے کوئی انتخابی مہم یا تشہیری مہم نہ چلائی جائے۔ امیتابھ بچن گجرات کے برانڈ ایمبسیڈر ہیں ان سے درخواست کرنے والے چیف منسٹر اکھیلیش یادو نے یہ بھی کہا کہ گجرات کے عوام گدھوں کیلئے مہم چلارہے ہیں اور مجھ پر الزام عائد کررہے ہیں کہ میں صرف قبرستان کیلئے کام کررہا ہوں۔ وزیراعظم مودی نے بھی اپنے عہدہ کی قدر کو بالائے طاق رکھ کر انتخابی مہم میں صرف رمضان المبارک میں برقی سربراہی کا ذکر چھیڑ کر انتخابی مہم کے ذریعہ فرقہ پرستی کا زہر پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ اس حساس ریاست میں اپنے فرقہ پرستانہ کارڈ کو استعمال کرکے وزیراعظم مودی کو ملک کے جلیل القدر عہدہ کو پامال کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ بی جے پی اپنے روایاتی اعلیٰ ذاتوں کے ووٹرس پر بھروسہ رکھتی ہے۔ غیر یادو او بی سی ووٹوں کی مدد سے وہ انتخابات میں کامیاب ہونے ہندوتوا جذبات کو ہوا دے رہی ہے لیکن اس کوشش کے باوجود ہندوتوا کی چھترچھایا میں مختلف ذاتوں کو وہ لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ یوپی کے انتخابی جلسوں سے وزیراعظم کے خطاب کو دیکھ کر یہ اندازہ ہورہا ہیکہ وہ انتخابی ریالیوں سے نہیں بلکہ آر ایس ایس کی ریالیوں سے خطاب کررہے ہیں اگر یوپی کا رائے دہندہ انہیں اور ان کی پارٹی کیلئے ووٹ ڈالنے مسلمانوں سے نفرت رکھنے والے لیڈر کو ترجیح دیتے ہیں تو پھر یہ سمجھا جائے گا کہ آج بھی لوگ ہتھیلی میں چاند دکھانے والوں سے آسانی کے ساتھ گمراہ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT