Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / انتخابی مفادات کیلئے مسلم آبادی پر دروغ گوئی دہلی کے شاہی امام مفتی مکرم احمد کا خطاب

انتخابی مفادات کیلئے مسلم آبادی پر دروغ گوئی دہلی کے شاہی امام مفتی مکرم احمد کا خطاب

نئی دہلی ۔ 28 ۔ اگست : ( فیاکس ) : شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مولانا مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ مذہب اسلام اور تفہیم قرآن کی طرف توجہ دیں اور اپنے مذہب سے پوری واقفیت حاصل کرنے کی اولین فرصت میں پورا کریں ۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ آج ملت اسلامیہ مذہبی علم و عمل سے دور ہے اسی وجہ سے عقیدہ میں کمزوری پیدا ہورہی ہے ۔ مذہب اسلام اللہ کا پسندیدہ سچا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کا مل اور مکمل ہیں جن میں انسانی ضروریات اور نفسیات کا پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ قرآن کریم میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تعلیم موجود ہے جو لوگ اسے فرقہ پرستی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ان کا علم ناقص ہے ۔ شاہی امام نے کہا کہ ہمارے ملک میں متعدد مذاہب کے لوگ خوش اسلوبی ، اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں کچھ لوگ مذہبی منافرت پھیلا کر اپنا سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جب بھی کوئی الیکشن آتا ہے تو اس طرح کی باتیں پھیلائی جاتی ہیں کہ ہندو ووٹ متحد ہو اور فرقہ پرستوں کی جیت ہو ، بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھنے والے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں

جن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کئی مہینوں سے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ مسلمان اپنی آبادی بڑھا رہے ہیں یہ بھارت میں اکثریت حاصل کرنے کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں لہذا ہندوؤں کو بھی ہر فیملی کو آٹھ دس بچے پیدا کرنے چاہئیں وغیرہ وغیرہ ۔ اسی منصوبہ کی تقویت کے لیے اور فرقہ پرستوں کے دعوے کی تصدیق کے طور پر مذہبی مردم شماری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کی آبادی 0.7 فیصد کم ہوئی ہے جب کہ مسلم آبادی میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ عیسائی ، سکھ اور بودھ آبادی حسب سابق ہے ۔ ہمیں اس رپورٹ کی صداقت پر شک ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ بہار الیکشن جیتنے اور ہندو راشٹر بنانے کا خواب پورا کرنے کے لیے یہ رپورٹ شائع کی گئی ہو ۔ موت و زیست اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ مسلمان کبھی آبادی بڑھانے یا کم کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کرتے ۔

وہ بے چارے غربت اور وسائل کی بے حد کمی کی مار جھیل رہے ہیں ۔ آبادی بڑھانے کا الزام بے بنیاد ہے ۔ مسلمانوں کو اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ شاہی امام نے بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کو اس طرف توجہ کر کے اسکولوں کے ہر کلاس کے نصاب میں ایک باب مذاہب سے متعلق شامل کر کے ہر مدہب کی تعلیمات کو ایک ایک پیراگراف میں ایک ہی جگہ پر شامل کرنا چاہئے تاکہ ہر مذہب کے طلبہ و طالبات دوسرے مذاہب کی اچھی تعلیمات سے آشنا ہوں اس سے ملک میں امن و امان کے فروغ میں مدد ملے گی ۔ شاہی امام نے اسرائیلی صیہونی جارحیت کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام کو اس بارے میں متحد ہونے پر زور دیا ۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ۔ شاہی امام نے ہند پاک مذاکرات ملتوی ہونے پر اظہار افسوس کیا اور بتایا کہ عوام چاہتے ہیں کہ مذاکرات جلد شروع کئے جائیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT