Friday , October 20 2017
Home / سیاسیات / انتخابی مقابلے کی ہمت نہیں ہے تو لپ اسٹک لگاکر آرام کرو

انتخابی مقابلے کی ہمت نہیں ہے تو لپ اسٹک لگاکر آرام کرو

KOLKATA, JULY 21 (UNI):- The crowd at the Trinamool Congress " Martyrs Day," meeting listening to Chief Minister Mamata Banerjee's speech at Chowringhee in Kolkata on Tuesday.(with story:21CA13). UNI PHOTO-52U

کانگریس ، سی پی ایم اور بی جے پی کو چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی کا چیلنج

کولکتہ۔/21جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات کیلئے بگل بجاتے ہوئے چیف منسٹر ممتا بنرجی نے آج بی جے پی، سی پی ایم اور کانگریس کو متحد ہوجانے کا چیلنج کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی ترنمول کانگریس اپنے ہی بل بوتے پر انتخابی مقابلہ کرکے انہیں شکست فاش دے دیگی۔ ترنمول کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ یوم شہیدان کے اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں انہیں ( اپوزیشن قائدین ) کو چیلنج کرتی ہوں کہ ہمت ہے تو انتخابی مقابلہ کرکے دکھائیں بصورت دیگر لپ اسٹک لگاکر گھر میں آرام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی، سی پی ایم اور کانگریس کا کوئی نظریہ ہے اور نہ اخلاقی اقدار۔ مغربی بنگال میں ان جماعتوں کی افادیت ختم ہوگئی ہے جس کے باعث وہ ہمارے خلاف من گھڑت کہانیاں پھیلارہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کو للکارتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ کبھی تم نے ہمیں چیلنج کیا تھا لیکن ایک کے بعد ایک تمہاری نشستیں جاتی رہیں لیکن اب کانگریس، سی پی ایم اور بی جے پی متحد ہوجائیں تو ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ترنمول کانگریس پوری شان و شوکت کے ساتھ انتخابات میں تنہا مقابلہ کرے گی کیونکہ عوام کا آشیرواد ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے اور انتخابات سے کامیابی کے بعد ایک شاندار ریالی نکالیں گے جو کہ سابقہ ریکارڈ توڑ دے گی۔یہ ادعا کرتے ہوئے کہ سی پی ایم نے اپنے 34سالہ دور اقتدار میں ریاست میں کچھ بھی نہیں کیا اور پارٹی میں جو لوگ باقی ہیں انہوں نے اپنے آپ کو بی جے پی کے پاس رہن رکھ دیا ہے لیکن ترنمول کانگریس نہ تو بی جے پی، اور نہ ہی کانگریس اور سی پی یم سے خوفزدہ ہے۔

چیف منسٹر نے بی جے پی کا بالراست حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس نظریہ اور اخلاقیات نہیں ہیں وہ فرقہ پرستی کا زہر پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی قائدین اور کارکنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ باہم متحد اور عوام کے ساتھ رہیں۔ اگر انتخابات کی تیاری ابھی سے شروع کردیں تو کوئی پارٹی نہیں رہے گی اور صرف تمہارا ہی بول بالا ہوگا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ڈسپلن شکنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جس کے باعث پارٹی کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے سنڈیکیٹ بزنس میں ملوث قائدین کو بھی انتباہ دیا چونکہ عمارتوں کی تعمیر کیلئے خام مال کی سربراہی کرتے ہیں اور یہ بزنس پارٹی میں تنازعات ، باہمی چپقلش کا باعث بن گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیشرو بائیں بازو کی حکومت نے 2لاکھ کروڑ کا قرضہ وراثت میں چھوڑ گئی تھی اس کے باوجود ان کی حکومت نے گزشتہ 4سال کے دوران زبردست ترقی حاصل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT