Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / انتخابی مہم کی مدت میں کمی پر سیاسی جماعتوںکا ملا جلا ردعمل

انتخابی مہم کی مدت میں کمی پر سیاسی جماعتوںکا ملا جلا ردعمل

اپوزیشن کی آواز کچلنے کی کوشش کانگریس کا الزام،رائے دہی کے فیصد میں کمی کا اندیشہ
حیدرآباد۔/5جنوری، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابی عمل کو 15 دن میں مکمل کرنے سے متعلق قانونی ترمیم پر سیاسی جماعتوں اور عوام میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے اس فیصلہ کو جمہوریت کے مغائر اور بلدی انتخابات میں اپوزیشن کو انتخابی مہم سے روکنے کی سازش قرار دے رہی ہیں تو دوسری طرف برسراقتدار ٹی آر ایس نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے۔ عوام کی جانب سے اس فیصلہ پر ملا جلا ردعمل دیکھا گیا۔ رائے دہندوں کے ایک گوشہ کی جانب سے حکومت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا گیا تو دوسرے گروپ نے انتخابی مہم کی مدت میں کمی کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن قانون میں ترمیم کرتے ہوئے انتخابی عمل کو پندرہ دن میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت انتخابی مہم کیلئے صرف 7دن مقرر کئے گئے ہیں۔ کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کی جانب سے حکومت کے اس فیصلہ کو اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ کانگریس کے سینئر قائد ایم ششی دھر ریڈی نے کہا کہ حکومت بلدی انتخابات میں کامیابی کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے جس کا ثبوت یہ فیصلہ ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن جماعتوں کو اظہار خیال کی مکمل آزادی حاصل ہے لیکن حکومت مدت میں کمی کے ذریعہ اپوزیشن کی مہم کو روکنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف محفوظ حلقوں کا اعلامیہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا تو دوسری طرف انتخابی مہم کو سات دن میں مکمل کرنے کا فیصلہ حکومت کے درپردہ مقاصد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو گریٹر حیدرآباد کے حدود میں عوامی تائید حاصل نہیں ہے لہذا وہ مختلف حربوں کے ذریعہ اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کررہی ہے۔ تلگودیشم کے رکن اسمبلی گوپی ناتھ نے الزام عائد کیا کہ حکومت قانون میں ترمیم کے ذریعہ اپنی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرچکی ہے۔ ٹی آر ایس کو گریٹر انتخابات میں کامیابی کا یقین نہیں لہذا اپنی خامیوں کو بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے انتخابی مہم کی مدت کو کم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں کامیابی کیلئے حکومت کے پاس کوئی ایجنڈہ نہیں ہے اور صرف وعدوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس قائدین کو یہ اندازہ ہوگیا کہ گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کا کوئی اثر نہیں لہذا انتخابی مہم کی مدت کم کرتے ہوئے اپنی خامیوں کو بے نقاب ہونے سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تلگودیشم قائد نے کہا کہ گریٹر انتخابات میں تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد کی شاندار کامیابی ہوگی۔ حکومت کے اس فیصلہ پر عوام نے منفی ردعمل کا اظہارکیا ہے ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں انتخابی مہم کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کو اپنے موقف کے اظہار کی آزادی ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں حکومت کی کمزوریوں اور خامیوں کو بے نقاب کرتی ہیں لیکن سات دن کیلئے انتخابی مہم کو محدود کرنا عوام کو حقائق سے محروم رکھنے کی کوشش ہے۔ عام طور پر انتخابات کے ساتھ ہی عوام کے ایک گوشہ میں جشن کا ماحول ہوتا ہے جو سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں۔ اس طرح کے کارکنوں اور قائدین کو حکومت کے اس فیصلہ سے مایوسی ہوئی ہے۔ پرانے شہر میں انتخابات کسی تہوار سے کم نہیں ہوتے ایسے میں صرف سات دن کی انتخابی مہم عوام کے جوش و خروش میں اضافہ سے عاری رہے گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کی مدت گھٹانے کا رائے دہی کے فیصد پر راست اثر پڑیگا۔ کم از کم 15دن کی انتخابی مہم سے سیاسی جماعتیں گھر گھر پہنچ کر عوام کو رائے دہی میں حصہ لینے کی ترغیب دے سکتی ہیں لیکن صرف سات دن کی مہلت میں سیاسی جماعتوں کیلئے یہ کام ممکن نہیں لہذا اس کا اثر رائے دہی کے فیصد پر پڑیگا۔ برسراقتدار ٹی آر ایس نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ انتخابی مہم کی مدت میں کمی کا مقصد انتخابی اخراجات پر قابو پانا ہے۔ زیادہ دنوں تک مہم کی صورت میں عوامی رقومات کے بیجا استعمال کے واقعات سامنے آئے ہیں اور سیاسی جماعتیں دولت کے بل پر عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ سات دن کی انتخابی مہم سے انتخابی بدعنوانیوں کے امکانات میں کمی واقع ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT