Thursday , March 30 2017
Home / اداریہ / انتخابی نتائج ‘ عام آدمی پارٹی کو مایوسی

انتخابی نتائج ‘ عام آدمی پارٹی کو مایوسی

محرومیوں کا سوگ منانا فضول تھا
ناکامیوں کا جشن مناتا چلاگیا
انتخابی نتائج ‘ عام آدمی پارٹی کو مایوسی
ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگیا ہے ۔ ہر جماعت ان نتائج کو اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہی ہے ۔ جہاں بی جے پی اترپردیش اور اترکھنڈ میں اپنی توقعات سے کافی زیادہ کامیابی کا جشن منا رہی ہے تو کانگریس کیلئے پنجاب کی جیت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مترادف ہے ۔ منی پور اور گوا میں بھی کانگریس پارٹی کیلئے حالات قدرے بہتر ہوئے ہیں حالانکہ یہاں اسے اقتدار ملنے کی توقعات کم ہی ہے لیکن یہاں اس نے بی جے پی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ میڈیا میںاس کی تشہیر اس ڈھنگ سے نہیں ہو رہی ہے جیسی ہونی چاہئے تھی ۔ سارا میڈیا ایسا لگتا ہے کہ یو پی اور اترکھنڈ کی بی جے پی کی انتخابی جیت کو اپنی جیت کے طور پر پیش کرنے میں جٹ گیا ہے ۔تاہم جہاں تک پنجاب کا سوال ہے یہاں عام آدمی پارٹی کو کافی امیدیں تھیں۔ پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال اور دوسرے قائدین اس یقین کے ساتھ کام کر رہے تھے کہ انہیں پنجاب میں اقتدار حاصل ہوجائیگا ۔ حالانکہ ایسے آثار دکھائی بھی دے رہے تھے لیکن عوام کی سوچ پر عام آدمی پارٹی اثر انداز نہیں ہوسکی ہے ۔ یہاں کانگریس نے بہت شاندار طریقے سے واپسی کی ہے اور کیپٹن امریندر سنگھ ریاست کے چیف منسٹر بننے جا رہے ہیں۔ بی جے پی اور شرومنی اکالی دل کے حشر سے قطع نظر عام آدمی پارٹی کو یہاں اپنی ناکامیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ایسے وقت میں جبکہ 2014 کے بعد سے کانگریس کو ملک میں پئے در پئے شکستوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اگر پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار حاصل ہوجاتا تو یہ در اصل اس پارٹی کو بی جے پی کی متبادل ہونے کا موقف عطا کردیتا ۔ شائد یہی وجہ رہی کہ بی جے پی پنجاب میں اپنی اور اپنی حلیف جماعت شرومنی اکالی دل کی شکست پر بھی قدرے مطمئن ہوگئی ہے ۔ اس کے خیال میں کانگریس کیلئے یہ کامیابی اس کے امکانات پر اثر انداز نہیں ہوسکتی لیکن اگر یہاں عام آدمی پارٹی کو اقتدار حاصل ہوجاتا تو پھر بی جے پی کیلئے ملک بھر میں ایک اور متبادل سے نمٹنے کا مسئلہ درپیش ہوتا ۔ بی جے پی فی الحال ملک میں اپنا کوئی متبادل چھوڑنا ہی نہیں چاہتی ۔
پنجاب میں جس حد تک عام آدمی پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے کہ اس نے پہلی بار انتخابات میں مقابلہ کیا تھا اور یہ کامیابی حاصل کی ہے تو یہ کامیابی بھی بری نہیں ہے لیکن اگر اس پارٹی کو ملک میں بی جے پی کیلئے چیلنج بننا ہے تو پھر اسے عوام کی نبض کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ سارے ملک میں جس رنگ ڈھنگ سے سیاسی میدان کی نوعیت بدلی جا رہی ہے اس کے برخلاف کام کرتے ہوئے ٹہرنا کوئی آسان بات نہیں ہے اور عام آدمی پارٹی ایسا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس پارٹی میں عوامی سطح پر قد آور سمجھے جانے والے قائدین کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ پارٹی میں صرف اروند کجریوال ہی ہیں جو عوام پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ مابقی جو قائدین ہیں وہ مقامی سطح پر ہوسکتا ہے کہ کچھ حد تک مقبول ہوں لیکن ان کی مقبولیت کی جو سطح ہے اور وہ عوام پر جس حد تک اثر انداز ہوسکتے ہیں وہ پارٹی کیلئے کارگر ثابت نہیں ہوسکتا ۔ اروند کجریوال کو یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ مقامی سطح پر پارٹی کارکنوں اور کیڈر کو ساتھ لے کر ہی بی جے پی اور دوسری جماعتوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ اس کیلئے انہیں ہر ریاست میں اپنے ایک مضبوط اور عوام میں قد آور سمجھے جانے والے لیڈر کی ضرورت ہوگی ۔ وہ صرف تن تنہا پارٹی کو ملک بھر میں مقبول یا بی جے پی کی متبادل بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ اس کیلئے انہیں تنظیم کو مستحکم کرنے کیلئے اور کارکرد بنانے کیلئے کام کرنا ہوگا ۔ انہیں عوام کی سطح پر مقبول موقف رکھنے والے قائدین کو ساتھ لے کر پارٹی کو عوام کے درمیان سرگرم رکھنے کی ضرورت ہے ۔
اروند کجریوال اور ان کے ساتھی عوام میں اپنی شبیہہ جس ڈھنگ کی بنانا چاہتے ہیں وہ دہلی جیسی ایک چھوٹی ریاست کیلئے موثر اور کافی ہوسکتی ہے لیکن ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک کیلئے انہیں مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک وہ تنظیم اور پارٹی کو مستحکم نہیں کرینگے اس کا دائرہ کار وسیع نہیں کرینگے ‘ سماج کی قد آور شخصیتوں کو اپنے ساتھ نہیں ملائیں گے وہ اس وقت تک ملک میں بی جے پی کا متبادل نہیں بن پائیں گے ۔ اگر وہ پنجاب کی شکست کے بعد خود کو صرف دہلی یا پنجاب تک محدود کرلیتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی پارٹی کیلئے بہتر نہیں ہوگا بلکہ ملک کے ان کروڑوں عوام کی امیدیں بھی دم توڑ دینگی جو ملک کے نظام میں تبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں ۔ وہ لوگ مایوس ہوجائیں گے جو اقربا پروری اور کرپشن کی سیاست کے خلاف جدوجہد کی تائید کرتے ہیں۔ کجریوال یا عام آدمی پارٹی کو پنجاب کی شکست سے مایوس ہونے کی بجائے مستقبل کیلئے عوام کی توقعات کے مطابق ایک جامع حکمت عملی بناتے ہوئے سرگرم رہنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT