Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل پر میں برہم تھا : جگن

انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل پر میں برہم تھا : جگن

چندرا بابو نائیڈو کے خلاف ریمارکس پر الیکشن کمیشن کے سامنے صدر وائی ایس آر کانگریس کی وضاحت
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی و قائد اپوزیشن آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے حلقہ اسمبلی نندیال کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو پر کئے ہوئے ریمارکس سے متعلق الیکشن کمیشن کو اپنی وضاحت پیش کردی اور اپنی اس وضاحت میں بتایا کہ گذشتہ انتخابات کے موقعہ پر عوام سے کئے ہوئے وعدوں اور دئیے گئے تیقنات پر اب تک بھی مسٹر چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے عمل آوری نہ کئے جانے کی وجہ سے انتہائی دکھ اور تکلیف پہونچنے کے باعث ہی انہیں مسٹر چندرا بابو نائیڈو کے تعلق سے سخت ریمارکس کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے کیے ہوئے ریمارکس میں ان کی ہرگز کوئی غلط نیت و غلط ذہنیت نہیں ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نندیال حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے سلسلہ میں گذشتہ دنوں منعقدہ بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو بیچ سڑک پر گولی مار دیں تو بھی کوئی غلط بات نہ ہونے کے سخت ریمارکس کیے تھے ۔ جس کی وجہ سے ریاست بھر میں کافی سنسنی پھیل گئی تھی اور وائی ایس جگن موہن ریڈی کے خلاف سخت تنقیدوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ تاہم مسٹر جگن موہن ریڈی کے ریمارکس کے خلاف تلگو دیشم پارٹی قائدین نے الیکشن کمیشن سے رجوع ہو کر مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے اندرون 48 گھنٹوں میں اپنے کیے ہوئے ریمارکس کی وضاحت کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مسٹر جگن موہن ریڈی کو نوٹس جاری کیے تھے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر مسٹر جگن موہن ریڈی نے آج اپنی وضاحت الیکشن کمیشن کو پیش کردی اور کہا کہ محض انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں مسٹر چندرا بابو نائیڈو کی ناکامی کے پیش نظر ہی انہیں کافی دلی تکلیف پہونچی اور بتایا کہ ان سے ( چندرا بابو نائیڈو سے ) کوئی شخصی اختلاف ہرگز نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے ، ڈاکرا خواتین کے قرضہ جات معاف کرنے ، بے روزگار ، تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بے روزگاری بھتہ فراہم کرنے کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ۔ جس کے باعث انہیں کافی تکلیف پہونچی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے سخت ریمارکس کرنے میں کوئی غلط نیت نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT