Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / انتشار پسند طاقتوں کے خلاف مناسب کارروائی کی ضرورت

انتشار پسند طاقتوں کے خلاف مناسب کارروائی کی ضرورت

صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے نامور سائنسدانوں کی درخواست
چینائی ۔ 27 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ملک میں عدم روا داری اور منافرت کے واقعات بشمول کنڑا دانشور ایم ایم گلبرگی کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے مناسب کارروائی کے لیے پہل کرنے کی صدر جمہوریہ سے درخواست کی ہے ۔ انہوں نے انتہائی متعصب اور تنگ نظر طبقہ کو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ غیر انسانی اور غیر مہذب کارروائی انجام دینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ سائنسدانوں نے بتایا کہ حالیہ پیش آئے عدم تحمل ، فرقہ وارانہ صف بندی اور مذہبی منافرت پھیلانے کے واقعات تشویشناک ہیں جس کے نتیجہ میں بے گناہ افراد اور معقولیت پسند دانشوروں کو ہلاک کیا گیا ۔ صدر جمہوریہ موسومہ درخواست پر سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم بشمول نریش داؤیچ ، سابق ڈائرکٹر انٹر یونیورسٹی سنٹر فار اسٹرونومی اینڈ آسٹرو فربکیس ( پونہ ) مسٹر جی راج شیکھرن انسٹی ٹیوٹ آف میٹھمٹیکل سائنس اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی اور ہریش چندرا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ الہ آباد کے دانشوروں نے دستخط کئے ہیں اور حال ہی میں صدر جمہوریہ کی جانب سے عوام کو تمام مذاہب کے احترام کے مشورہ کی ستائش کی ۔ اور یہ گذارش کی کہ ناخوشگوار واقعات کا سخت نوٹ لیتے ہوئے مناسب کارروائی کے لیے پہل کریں ۔ انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو روانہ علحدہ علحدہ مکتوبات میں کہا کہ سماج میں فرقہ وارانہ منافرت اور شیرازہ بندی کی کوششوں کو ناکام بنادیا جائے اور یہ نشاندہی کی کہ ہندوستان ایک متنوع ملک ہے جہاں پر تمام طبقات ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ سائنسدانوں نے کہا کہ انتشار اور انتہا پسند طبقہ ایٹم بم کی طرح ہے جو کہ کسی بھی وقت پھٹ کر ملک میں نراج پیدا کرتے ہوئے یکجہتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ فرقہ وارانہ ماحول ختم کرنے کیلئے سماج میں سائنسی افکار روشناس کروائے جائیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مذہبی جنون کی حوصلہ شکنی کیلئے سخت اقدامات کرے جس کی وجہ سے بیف استعمال کرنے والوں اور توہمات کیلئے جدوجہد کرنے والوں اور آر ٹی آئی کارکنوں اور دیگر حقوق انسانی کارکنوں کو ہلاک کردیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ سائنسدان بھی سماج کا حصہ ہیں اور انہیں بھی ملک کی موجودہ صورتحال سے تشویش ہے اور بہت جلد ایک سائنسی مہم شروع کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

TOPPOPULARRECENT