Tuesday , May 23 2017
Home / ہندوستان / انتہا پسند عناصر نعرے لگائیں تو یونیورسٹی ذمہ دار نہیں : داس

انتہا پسند عناصر نعرے لگائیں تو یونیورسٹی ذمہ دار نہیں : داس

کولکاتا ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جادَوپور یونیورسٹی وائس چانسلر پروفیسر سرنجن داس نے آج کہا کہ کیمپس میں اگر کوئی انتہا پسند عناصر علحدگی پسندی کا کوئی نعرہ لگا دیں تو ادارہ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ داس نے یہاں نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ اگر کوئی عناصر علحدگی پسندی کے نعرے لگاتے ہیں تو مجموعی طور پر اس یونیورسٹی کو اس سے کس طرح جوڑا جاسکتا ہے؟ یہ لا اینڈ آرڈر مسئلہ ہے جس سے نظم و نسق کو نمٹنا ہوگا۔ داس کا تبصرہ اس پس منظر میں ہے کہ مرکزی وزیر ایچ آر ڈی پرکاش جاوڈیکر نے کہا تھا کہ جے این یو اور جادوپور یونیورسٹی نے اُن کے موافق افضل گرو نعروں یا اپنے وائس چانسلروں کا گھیراؤ کرنے کی پاداش میں ایوارڈ نہیں دیا گیا ہے، ورنہ ان کی تعلیمی کارکردگی اور ریسرچ شاندار رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ جادوپور یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس ہمیشہ مظاہروں میں ملوث نہ ہونے کی عکاسی اس حقیقت سے ہوجاتی ہے کہ ایچ آر ڈی رپورٹ میں جے یو کا رینک مجموعی زمرے میں 12 واں، یونیورسٹی میں 5 واں اور انجینئرنگ اداروں میں 9 واں ہے۔
ایڈز کے مریض کو باپ نے بیوی بچوں کیساتھ بے گھر کردیا
مظفرپور (بہار) ، 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایڈز کے مریض نے آج پولیس میں اپنے والد کے خلاف شکایت درج کرائی کہ اسے بیوی بچوں کے ساتھ مکان سے نکال دیا ہے۔ یہ واقعہ اس ضلع کے گوپال پور سراورا میں پیش آیا۔ ڈپٹی ایس پی (ایسٹ) مشتفیق احمد نے کہا کہ شکایت کنندہ کو اس کی بیوی اور تین بیٹیوں کے ساتھ گزشتہ روز گھر سے نکال دیا گیا اور تب سے ان لوگوں نے مقامی پولیس اسٹیشن میں آسرا لے رکھا ہے۔ شکایت کے مطابق ایڈز کا مریض ریاست کے بیرون میستری کا کام کرتا ہے اور حال ہی میں وطن واپس ہوا ہے۔ ڈی ایس پی نے کہا کہ اُس کا مظفرپور کے اسپتال میں ایچ آئی وی پازیٹیو کے سلسلہ میں علاج جاری ہے۔ ڈی ایس پی نے کہا کہ انکوائری کے دوران باپ نے الزام عائد کیا کہ اس کا بیٹا اپنی بہن کو جنسی طور پر ہراساں کررہا تھا جس کی وجہ سے اسے اور دیگر کو مکان سے بے دخل کردیا گیا۔ باپ کے الزام کے جواب میں بیٹے نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو میری بیوی اور تین بیٹیوں کو کیوں گھر سے نکالا گیا ہے۔ بہرحال پولیس نے معاملہ کی یکسوئی کی کوشش جاری رکھی۔ چنانچہ چار روز بعد جب معاملہ موشہری پولیس اسٹیشن پہنچا تو ان سب کو گھر واپس بلالیا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT