Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / انجام اُس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ

انجام اُس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ

محمد مصطفیٰ علی سروری
تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے قیام کو 13 مہینے بیت چکے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران کمیشن نے 9 امتحانات منعقد کئے اور کمیشن کے ہاں 9 لاکھ سے زائد امیدواروں نے ملازمت کے لئے اپنی درخواستیں رجسٹر کروائی ہیں۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن آگے چل کر ایک لاکھ سے زائد ملازمتوں پر تقرر کرنے جارہا ہے۔
ریاستی یونیورسٹیوں خاص کر عثمانیہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم طلبہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ان مسابقتی امتحانات کے لئے دن رات محنت کررہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن اپنے امتحانات کے لئے صرف نصاب جاری کرتا ہے ان کے اسی (Syllabus) پر مختلف پبلشرس ماڈل سوال جواب اور مضامین تیار کرکے بازار میں فروخت کرتے ہیں۔
اب ذرا اندازہ لگایئے کہ 9 لاکھ سے زائد طلبہ نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ہاں ملازمت کے لئے اپنا رجسٹریشن کروایا ہے اور ان میں سے اگر 4 لاکھ طلبہ  بھی مسابقتی امتحانات کے لئے تیاری کرنے بازار سے ماڈل پیپر اور دیگر معلوماتی مواد خریدتے ہیں تو یہ کتنی بڑی مارکیٹ ہے اندازہ لگایئے۔
اگر کوئی پبلشر (100) روپئے مالیتی کتاب مارکٹ میں ایسی پیش کرتا ہے جوکہ طلبہ کو مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاری میں مدد کرے تو اس کتاب کو خریدنے کے لئے 4 لاکھ طلبہ تیار ہیں۔ ذرا اندازہ کیجئے کتنا بڑا کاروبار ہے۔ 4,00000×100=40000000 چار کروڑ روپئے صرف ایک کتاب کی فروخت سے حاصل ہوسکتے ہیں اور یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنی ضروری ہے کہ Competitive امتحانات میں ایک سے زائد پرچے ہوتے ہیں اور ہر پرچہ کے لئے کم سے کم کسی بھی گائیڈ یا کتاب کی قیمت 300 ہے۔ اب ذرا اس جانب آتے ہیں کہ آخر ان گائیڈس / کتابوں کو لکھنے والے کون ہوتے ہیں کیوں کہ ابھی گزشتہ مہینے ایک پبلشر کی جانب سے گروپ II کی گائیڈ میں قابل اعتراض مضمون کی اشاعت نے پورے مسلم طبقہ میں بے چینی پھیلادی تھی اور مسلم تنظیمیں، انجمنیں اور افراد پبلشر کے خلاف کارروائی کتابوں کی ضبطی اور گرفتاری کا مطالبہ کرنے لگے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے اس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً نصابی کتابوں میں قابل اعتراض مواد کی اشاعت ہوتی رہی ہے اور ہر مرتبہ مسلمان سڑکوں پر نکل جلسے جلوس کے ذریعہ اپنا احتجاج درج کرواتے رہے۔

اس طرح کی گستاخانہ حرکتوں کے مستقل سدباب کے لئے کیا کیا جانا چاہئے۔ اس سوال کے جواب کو تلاش کرنے کی کوشش میں جب پتہ لگایا گیا تو یہ افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن ہو یا مرکزی حکومت کا یونین پبلک سرویس کمیشن ان کے امتحانات کی تیاری کے لئے بڑے بڑے ادارے اور بڑے بڑے پبلشرس کام کرتے ہیں اور ہر مرتبہ جیسے ہی کسی اعلامیہ Notification کی اجرائی ہوتی ہے اُس کا (Syllabus) لے کر اُس کے ماڈل Papers حاصل کرکے اُسی حساب سے ماڈل پیپرس اور گائیڈ تیار کرواتے ہیں، یہ ماڈل پیپر یا گائیڈس کون لکھتا ہے۔
کالج کے لکچررس اور یونیورسٹی کے پروفیسرس کو باضابطہ طور پر پیسے دے کر اُن سے گائیڈس، Answer Books اور ماڈل پیپرس تیار کرائے جاتے ہیں۔
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی سال 2016 ء کی ڈائری کھول کر دیکھ لیجئے گا۔ تاریخی آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی کی بلڈنگ میں جملہ 26 شعبے کام کررہے ہیں اور ان 26 شعبوں میں سے صرف چار شعبے ایسے ہیں جہاں پر مسلمان بطور صدر شعبہ کام کررہے ہیں۔ جی بالکل آپ کے ذہن نے صحیح تجزیہ کیاکہ آرٹس کالج کی بلڈنگ میں کام کرنے والے 26 شعبوں میں اردو، فارسی اور اسلامک اسٹڈیز کے چار ہی ایسے ڈپارٹمنٹ ہیں جہاں مسلمان بطور صدر شعبہ کام کررہے ہیں۔
اب مسلمان تاریخ پڑھے گا نہیں تو تاریخ لکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی نہ کسی تاریخ کے استاد سے ہی مدد لی جائے گی نہ کہ کسی مسلم تنظیم کے ذمہ دار یا کسی مسجد کے خطیب صاحب کو طلب کیا جائے گا۔ اب تاریخ ہو یا اکنامکس پبلک اڈمنسٹریشن ہو پولٹیکل سائنس جب مسلمان ان مضامین کے ساتھ بے اعتنائی برتیں گے اور مسلم نوجوانوں کی سماجی علوم پڑھنے کے لئے ہمت افزائی نہیں کی جائے گی تو مسلمان لیکچررس اور پروفیسرس نہیں آئیں گے جب مسلمان اس جانب نہیں آئیں گے تو جو کوئی بھی ان مضامین کو پڑھ کر ٹیچر یا استاد بنا ہوا ہے اُسی سے مسابقتی امتحانات کے لئے مضامین اور جوابات لکھائے جائیں گے۔ یہاں اس بات کو بھی ذہن نشین رکھئے گا کہ پبلشرس اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کاروبار کرنے بیٹھے ہیں۔ ہماری دل آزاری کرنے نہیں۔ متنازعہ مواد کی اشاعت سے ان کو کاروبار میں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے ایسے میں کیا میں اپنے آپ سے سوال کروں کہ مسلمان بچے سماجی علوم سے اتنی بے رغبتی کیوں برت رہے ہیں۔
پروفیسر سلیمان صدیقی سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی کے مطابق مسلمان بچوں کی اسکول اور کالجس کی سطح پر ہی صحیح ذہن سازی نہیں کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں اول تو اُن کو صحیح معلومات نہیں رہتی۔ دوم اُن کے اندر مسابقت کا جذبہ ختم ہورہا ہے۔ اب معلومات کی کمی کا یہ عالم ہے کہ مسلمان یہ سوچتا ہے کہ پروفیشنل کورس ڈاکٹری اور انجینئرنگ کرکے ہی وہ اپنا کیرئیر روشن بناسکتا ہے۔ کیا سماجی علوم (سوشیل سائنس) پڑھ کر طلبہ اپنا کیرئیر نہیں بناسکتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں پروفیسر سلیمان صدیقی کا کہنا ہے کہ مسلم طلبہ میں مسابقت کا جذبہ اور مہارت پیدا ہوجائے تو وہ ہر شعبے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے انکشاف کیاکہ آرٹس کالج کے 26 ڈپارٹمنٹس میں فارسی، اُردو ، عربی اور اسلامک اسٹڈیز کے ڈپارٹمنٹ کو چھوڑ دیا جائے تو پورے کالج میں صرف 9 مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

نصابی کتابوں میں دل آزاری کا سلسلہ ختم کرنا ہے تو ہمیں مسلمان سوشیل سائنٹسٹ چاہئے۔ جوکہ مختلف سماجی علوم میں پڑھ کر آگے آئیں اور درس و تدریس کے پیشے کو اختیار کریں کیوں کہ کل کے دن یہی لوگ نصابی کتاب لکھنے کے اہل بنیں گے۔
Competitive Exams کے لئے تیار کی جانے والی کتابوں میں کیا کیا لکھا جاتا ہے ہمیں معلوم ہی نہیں لیکن جب ہم ان کتابوں کو پڑھ کر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونے والے عہدیداروں کو دیکھتے ہیں اور مسلمانوں کے متعلق ان کے خیالات کو سنتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ہم نے کچھ بھی ٹھوس اقدامات نہیں کئے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ یہ مسئلہ سنگین ہی ہوتا جارہا ہے۔ گاجا راؤ بھوپال 2008 ء کے بیاچ میں آئی پی ایس کے لئے منتخب ہوئے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی اور پھر یونین پبلک سرویس کمیشن کے امتحان کامیاب کرکے 28 برس کی عمر میں آئی پی ایس بن گئے۔
ان کا یہاں پر ذکر اس لئے آیا کہ 29 جنوری 2016 ء کو ریاست آندھراپردیش کے ضلع نیلور میں انھوں نے مسلم اقلیتی نوجوانوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا اور انھیں دہشت گردی سے دور رہنے کی ترغیب دلانے کے دوران اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ایسے ریمارک کئے جس سے مسلم نوجوان کے جذبات بھڑک گئے اور پھر مسلمان نوجوان نے 30 جنوری کو پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج کیا۔ (بحوالہ روزنامہ ہندو 2؍ فروری 2016 ء)
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ایک آئی پی ایس عہدیدار بننے کے لئے کتنا محنت کرنا پڑتا ہے اور کتنا کچھ پڑھنا پڑتا ہے گاجا راؤ نے پہلے ہی ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی اور پھر یونین پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات میں کامیاب کرکے ایک آئی پی ایس آفیسر بنے۔ کیا اپنے تعلیمی کیرئیر کے دوران انھیں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق حقیقی تاریخ پر مبنی کتابیں پڑھنے کو ملی ہونگی یا نہیں۔
ریاستی سطح پر تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات کے لئے مواد کی تیاری کے لئے مسلم ٹیچرس نہیں مل رہے ہیں تو اندازہ لگایئے کہ قومی سطح پر کیا عالم ہوگا؟
ایسا نہیں کہ مسلمان نوجوان پڑھ ہی نہیں رہے ہیں،  پڑھ رہے ہیں مگر سماجی علوم نہیں۔ 17 جنوری 2016 ء کو ٹائمز آف انڈیا نے لکھنو سے خبر دی کہ لکھنو میں یونیورسٹی کی طالبہ سمیہ احمد نے یونیورسٹی کانوکیشن میں ایم ایس سی میاتھمیٹکس میں نمایاں کارکردگی کے ذریعہ جملہ 12 میڈلس جیتے۔ ریاضی میں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرنے والے ریاضی (Maths) کے لئے کتابیں لکھ سکتے۔ مگر تاریخ جب مسلمان پڑھیں نہیں تو کوئی دوسرا یہ تاریخ لکھے گا۔ اسلام اور اسلامی تاریخ سے جو صحیح واقف ہی نہیں وہ کیا تاریخ کے ساتھ انصاف کرسکے گا۔انصاف کی بات آئی ہے تو اجازت دیجئے کہ عرض کروں ہمارے ہاں تاریخ پڑھنے والے طلبہ کی نہ تو کوئی ہمت افزائی کرتا ہے اور نہ ہی کوئی میڈل و توصیف نامہ دیتا ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری اداروں (یونیورسٹیوں) سے زیادہ ترجیح اقلیتی تعلیمی اداروں میں حصول تعلیم کو دی جاتی ہے۔
جب سال 2014 ء میں نئی ریاست تلنگانہ وجود میں آئی تو اُس وقت تلنگانہ میں گورنمنٹ انجینئرنگ کالجس (17) تھے اور جملہ (336) انجینئرنگ کالجس کام کررہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ انجینئرگ کرنے والے مسلمان طلبہ بھی کتنے ایسے ہیں جو گورنمنٹ کالجس سے انجینئرنگ کررہے ہیں۔ سرکاری کالجس میں داخلہ کے لئے بہت زیادہ مسابقت اور مہارت کی ضرورت ہے۔ کیا ہم اس کی محنت کررہے ہیں ہم تو بس اپنے بچوں کو کسی پرائیوٹ کالج میں داخلہ دلاکر ہی خوش رہتے رہیں۔کیا انجینئرنگ کرنے والے سبھی طلبہ کامیاب کیرئیر بناپا رہے ہیں۔

24 جنوری 2016 ء کو اخبار ٹائمز آف انڈیا نے پی ٹی آئی کی ایک خبر شائع کی کہ ہندوستان میں انجینئرنگ کرنے والے 80 فیصدی طلبہ ملازمت کے لئے اہل نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انجینئرنگ کا کورس بھی ایک گریجویشن کی ڈگری کے مانند ہوگیا ہے۔ طلبہ کو ڈگری تو مل رہی ہے مگر وہ ملازمت حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔
دائیں بازو کی جماعتوں کے برسر اقتدار آنے پر تعلیم کو زعفرانے کی بات ہوتی ہے۔ تعلیم کا بھگوا کرن روکنے کے لئے نعرے، جلسے، جلوس، پوسٹرس سے کام بننے والا نہیں ہے۔ ماہرین تعلیم، ماہر اساتذہ، ماہر اسکالرس تیار کرنے کی ضرورت ہے جوکہ ایک سوشیل سائنٹسٹ کے طور پر سماج کی رہبری کرسکتا ہے۔
ہم نعرے تو بہت لگائیں گے، جلسے جلوس تو نکالیں گے مگر دلآزار مواد کی نصابی کتابوں اور دیگر کتابوں میں اشاعت روکنے کے لئے ٹھوس متبادل نہیں دیں گے تو ایسی ہی صورتحال ہمیں آگے بھی پریشان کرتی رہے گی۔
جب الکبیر سلاٹر ہاؤز ایک مسلم تنظیم کو باضابطہ فیس دے کر اپنے گوشت کے حلال ہونے کا سرٹیفکٹ لے سکتا ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ مسلمانوں کا ایک تعلیمی بورڈ ہو جو ہر طرح کے نصاب کا جائزہ لے کر اُس کو دل آزار مواد سے خالی کرے مگر یہاں فیس کون دے گا؟ اور بغیر فیس کے میں کیوں یہ کام کروں کا معاملہ ہوسکتا ہے۔ اور سب سے اہم تلگو میں تاریخ مکمل ہو انگریزی میں اسلامیات پر کتاب ہو تو کیا ہمارے ہاں تاریخ بھی اور تلگو سے واقف تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ اسلامیات کسی مدرسے سے نہیں یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے کوئی ہیں جو اس طرح کی سند دے سکیں؟میں تو سوچ رہا ہوں کہ یہ کیا کام لیکر بیٹھ گیا؟ مجھے بھی تو پبلشرس کے خلاف بیان دے کر جلسے یا جلوس نکال کر خاموش ہو لینا چاہئے یا پولیس کے اعلیٰ افسر کو آر ایس ایس کا ایجنٹ کہہ کر صبر کرلوں اے خدا تو ہی بتا میں کیا کروں۔
انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ
بھیگے ہوئے پروں سے ہی پرواز کرکے دیکھ
[email protected]

TOPPOPULARRECENT