Friday , April 28 2017
Home / شہر کی خبریں / انجینئرنگ کالجس میں آج سے بائیو میٹرک نظام سے حاضری کا لزوم

انجینئرنگ کالجس میں آج سے بائیو میٹرک نظام سے حاضری کا لزوم

فیس باز ادائیگی پر حکومت کا وعدہ وفا نہ ہوسکا، نئے شرائط سے کالجس کو مشتبہ بنانے کی حکمت
حیدرآباد۔8۔جنوری (سیاست نیوز) حکومت کے محکمہ تعلیم کیجانب سے خانگی انجنیئرنگ کالجس میں بائیو میٹرک نظام حاضری متعارف کیا جا رہا ہے۔ 9جنوری سے شروع کئے جانے والے اس منصوبہ کے تحت حکومت کی جانب سے جواہر لعل نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی حیدرآباد سے ملحقہ 158انجنیئرنگ کالجس میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ کیلئے بائیو میٹرک نظام حاضری کا آغاز ہوگا تاکہ اساتذہ اور دیگر عملہ کی حاضری کا ریکارڈ روزانہ کے اساس پر محفوظ رہ سکے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے خانگی کالجس کو فیس بازادائیگی اسکیمات میں رقومات کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر اور اس کے متعلق کوئی واضح تیقن کے بجائے کالجس پر نئے شرائط کا لزوم کالجس کو مشتبہ بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے کئی سرکردہ کالجس و تعلیمی اداروں میں کافی عرصہ سے بائیو میٹرک نظام حاضری چلایا جا رہا ہے لیکن اب حکومت کے منصوبہ کے مطابق تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی بائیو میٹرک حاضری کے بعد دوسرے مرحلہ میں طلبہ کی بائیو میٹرک حاضری کامنصوبہ شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت نے ریاست کے تمام کالجس میں یہ طریقہ کار اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 9جنوری کو پہلے مرحلہ کے طور پر جے این ٹی یو کے 158کالجس میں بائیو میٹرک حاضری نظام روشناس کروایا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر تعلیم مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ ریاست میں طلبہ و اساتذہ کی حاضری کو بہتر بنانے کیلئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بائیومیٹرک نظام حاضری کے کئی فائدے ہوں گے جس میں تدریسی عملہ کی قلت اور فرضی اساتذہ کے نامو ں کے انداج کی شکایات ختم ہو جائیں گی اور روزانہ کے اساس پر حاضری کا بائیومیٹرک نظام ان خامیوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ علاوہ ازیں بتایا جاتا ہے کہ اسکالر شپس اور فیس باز ادائیگی کیلئے اہل طلبہ کی نشاندہی بھی اس کے ذریعہ ممکن ہو پائے گی کیونکہ فیس باز ادائیگی اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی اسکالر شپس کیلئے 70فیصد حاضری لازمی ہے ۔حکومت کا ادعا ہے کہ کئی کالجس میں طلبہ سے جرمانہ وصول کرتے ہوئے حاضری کا فیصد بڑھا دیئے جانے کی شکایات موصول ہونے کے سبب طلبہ کیلئے بھی یہ نظام رائج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلہ کے تحت دوسرے مرحلہ میں طلبہ کی حاضری کاسلسلہ شروع کیا جائے گا۔بتایاجاتا ہے کہ جے این ٹی یو کی جانب سے جو بائیومیٹرک مشین فروخت کئے جار ہے ہیں ان میں فی مشین 150افراد کی حاضری کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا جو کہ کمپیوٹر اور آن لائن سے مربوط رہے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT