Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / انجینئرنگ کالجس میں کم از کم 30 فیصد نشستوں پر داخلوں کا لزوم

انجینئرنگ کالجس میں کم از کم 30 فیصد نشستوں پر داخلوں کا لزوم

کم داخلوں پر کالجس کی مسلمہ حیثیت کو خطرہ ۔ پالی ٹکنک و ڈگری کالجس کیلئے بھی شرائط کا امکان
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : انجینئرنگ کالجوں میں کم از کم 30 فیصد سیٹوں کی بھرتی نہ ہونے کی صورت میں کالجوں کا جاریہ تعلیمی سال کے لیے رجسٹریشن منسوخ کردیا جائے گا ۔ اس بات کا اعلان اے آئی سی ٹی ای نے کیا ہے اور اس فیصلہ پر شاخوں کے اعتبار سے عمل کیا جائے گا یعنی کسی بھی رجسٹر شدہ شاخ میں کم از کم 30 فیصد سیٹوں پر بھرتی نہ ہونے کی صورت میں اس شاخ کی مسلمہ حیثیت ختم کردی جائیگی ۔ اس مناسبت سے ہر کالج کی شاخ کی تفصیلات جمع کر کے اے آئی سی ٹی ای عنقریب ایک ضابطہ تیار کرنے والی ہے ۔ اے آئی سی ٹی ای نے حالیہ دنوں دہلی میں منعقدہ مختلف ریاستوں کے کالج انتظامیہ اور یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ برس ہی سے اس نئے ضابطہ پر عمل آوری کا اعلان کیا ہے اور کالجس کو درپیش مختلف مسائل پر بھی اس اجلاس میں غور کیا گیا ۔ مختلف ریاستوں میں 30 فیصد سے کم سیٹوں پر بھرتی کرنے والے کالجوں کی تفصیلات ان ریاستوں کے محکمہ تعلیمات کی جانب سے حاصل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس عمل کے لیے خصوصی فارمٹ تیار کیا جارہا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق 2016-17 تعلیمی سال میں ملکی سطح پر 6472 انجینئرنگ کالجس ہیں اور ان کالجوں میں 29,98,298 سیٹیں ہیں مگر ان میں سے 15,41,182 سیٹوں پر ہی بھرتیاں ہوئی ہیں یعنی تقریبا نصف سیٹیں خالی ہیں اس حساب سے 30 فیصد سے کم بھرتی کرنے والے کالجوں کی تعداد تقریبا 1000 ہے ان کالجوں کو جاری رکھنا درست نہیں ہے لہذا کالجوں کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مگر ایک تعلیمی سال میں چند کالجوں کی مختلف شاخوں میں 30 فیصد سے کم سیٹیں بھرتی ہونے کے باوجود آئندہ تعلیمی سال کے لیے زیادہ بھرتیاں ہونے کی بھی امیدیں ظاہر کی گئی ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی سال کے حساب سے شاخوں کی منظوری یا عدم منظوری کا فیصلہ صادر کیا جائے گا ۔ ریاست میں 30 فیصد سے کم سیٹوں پر بھرتیاں کرنے والے کالجس کی تفصیلات حاصل کرنے کی اطلاعات ہیں ۔ اسی کے حصہ کے طور پر حالیہ دنوں میں ہوئے انجینئرنگ داخلوں کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں اور 309 انجینئرنگ ، فارمیسی ، فارما ڈی کالجوں کے کنوینر کوٹہ میں داخلہ کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ پہلی دفعہ کی کونسلنگ میں 22 شاخوں میں داخلوں کی تکمیل کے بعد 9 شاخوں میں کئی سیٹیں خالی رہ گئی ہیں ۔ یعنی 91 کالجوں میں 100 فیصد سیٹوں کی بھرتی ہوئی ہے ۔ 12 کالجوں میں 50 سیٹیوں کے اندر ہی بھرتیاں ہوئی ہیں جب کہ چار کالجوں میں اور کم تعداد میں سیٹیں بھرتی ہوئی ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ 16 کالجوں کے ساتھ ساتھ اور 30 تا 40 کالجوں میں 30 فیصد سے بھی کم سیٹیں بھرتی ہوئی ہیں ان تمام کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اے آئی سی ٹی ای کو رپورٹ پیش کی جائے گی ۔ ایک اعلی عہدیدار کے مطابق پالی ٹیکنیک کالجوں میں بھی اسی ضابطہ پر عمل آوری کے امکانات ہیں اور ڈگری میں 25 فیصد سے کم سیٹوں پر بھرتی ہونے کی صورت میں ان کورسیس کو ہی ختم کردیا جائے گا اور اس معاملہ میں یونیورسٹیز کو احکامات جاری کردئیے گئے ہیں اور 25 فیصد سے کم سیٹیوں پر بھرتیاں کرنے والی کالجس کی تفصیلات حاصل کی گئی ہیں اور جاریہ تعلیمی سال سے ہی ان کالجوں میں ان کورسیس کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کورسیس میں زیر تعلیم طلبہ کو دیگر کالجوں میں داخل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور اس عمل کی تکمیل کے لیے یونیورسٹیز کو آئندہ ماہ کی 4 تاریخ کو مشاورتی اجلاس کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئندہ ماہ کی 4 تاریخ تک کالجوں میں چوتھے مرحلہ کی کونسلنگ مکمل ہونے والی ہے ۔ اس کے بعد 25 فیصد سے کم سیٹیں بھرتی کرنے والے کالجوں کی تفصیلات اکٹھا ہوسکتی ہیں ۔ بعد ازاں اس معاملہ میں آخری فیصلہ لیا جاسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT