Monday , October 23 2017
Home / Editorial News / انحراف پسندی کا چلن

انحراف پسندی کا چلن

جنگ میں اصول اور قانون ہوتے ہیں یا نہیں یہ الگ بحث ہے مگر انحراف پسند سیاستدانوں کے  ضمیر اور اخلاق نہیں ہوتے‘  وہ جہاں مفادات دکھائی دیتے ہیں گھس پڑتے ہیں ۔ نئی ریاست تلنگانہ میں انحراف کی لہر نے تلگودیشم کو بری طرح نقصان پہنچایا‘  اب کانگریس اس کا شدید شکار ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے واحد رکن پارلیمنٹ حلقہ کھمم کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد تلنگانہ میں سابق چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی کے فرزند وائی ایس جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس کا تقریباً صفایا دکھائی دے رہا ہے ۔ انحراف کی سیاست کو ایک ناپسندیدہ عمل تصور کیا جاتا ہے مگر جب کسی مقام کے سیاسی حالات ایک مرکزی طاقت کے ارد گرد قوی ہوتے ہیں تو ہر ایک کو اپنی سیاسی روزی روٹی کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔ اقتدار سے محروم پارٹیوں کو اپنے منتخب ارکان کو سنبھال کر رکھنے میں کافی مشقت نبھانی پڑتی ہے مگر جب سیاسی جال پھیلایا جاتا ہے تو بہرحال شکار کی شکل میں پھنس جانا آسان بن جاتا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جن قائدین نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی ابتداء میں شدید مخالفت کی تھی آج انہیں تلنگانہ تحریک کے طاقتور سیاستدانوں کی صف میںکھڑاکیا جارہا ہے ۔ ٹی آر ایس نے بلاشنہ تلنگانہ تحریک کے ذریعہ اپنی مقبولیت اور طاقت میں زبردست اضافہ کرلیا ہے ‘ اب اسے کسی بھی دیگر پارٹیوں کے قائدین کے سہارے کی ضرورت نہیں ۔ ٹی آرایس کی کامیابی تلنگانہ عوام کے منشاء‘ مرضی کے عین مطابق تھی اور کانگریس کو  اس نئی ریاست میں دھول چٹانے کا تہیہ کرنے والے کے چندر شیکھر راؤ نے اس پارٹی کے کئی ارکان کو اپنی صف میں شامل کرلیا ۔ اس کی یہی کوششوں پر کئی سنجیدہ گروپس نے تنقید بھی کی ہے ۔ اس طرح کی تنقیدوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دیگر پارٹیوں سے آنے والے قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے کا سلسلہ بند نہیں کیا ۔ اس عمل کے پس منظر میں ان پارٹیوں کی کمزوری عیاں ہورہی ہے جن سے نکل کر ان کے قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں ۔ پارٹیاں بدلنا اور سیاسی وفاداریوں کو تبدیل کرنے کے واقعات نئے نہیں ہیں ۔ آج جس حکمران پارٹی میں سیاسی چھاؤں تلاش کی جارہی ہے ‘ کل کو اگر حالات تبدیل ہوں تو اس سیاسی چھاؤ کا سایہ دوسری جگہ پڑسکتا ہے ۔ ایسے میں ٹی آر ایس کو بھی انہی حالات سے دوچار ہونا پڑے گا جو اس وقت کانگریس اور تلگودیشم کو درپیش ہیں ۔

انحراف پسندی کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوئی بھی سمجھدار سیاسی گروپ تائید نہیں کرسکتا ۔ تلنگانہ میں حالات بدلتے ہی سیاست کی آنکھ حیا سے اس قدر خالی ہوجائے گی کہ کسی نے کبھی سوچا نہ تھا ۔ یہ سیاسی آرزوں کی نشانی ہی کہی جائے گی کہ جب کوئی لیڈر سیاست کو دولت کا کھیل بنانے کی چاہ  میں مبتلا ہوتا ہے تو انحراف پسندی کی لعنت حاوی ہوجاتی ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے لوک سبھا ایم پی مسٹر سرینواس ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کر کے کھمم کے تمام حامیوں کی بھی حکمراں پارٹی میں شامل ہونے کی راہ ہموار کردی ۔ اس تبدیلی کو منحرف لیڈر کی جانب سے جو بھی وجہ بتائی جائے اس کو تلنگانہ کے مفاد میںہرگز تصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سے ان میں سیاسی بصیرت کے فقدان کا ثبوت ملتا ہے ۔
سیاسی مزاج رکھنے والے دیانتدار تجزیہ کاروںکا احساس ہے کہ انحراف پسندی یا دل بدلی کی عادت جمہوریت کے روح کو ٹھیس پہنچاتی ہے ۔ آندھراپردیش میں بھی تلگودیشم میں شامل ہونے والے سیاستدانوں نے اپنی سرپرست پارٹیوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ تلگودیشم کو اگرچیکہ تلنگانہ میں انحراف پسندی کی وجہ سے اپنی بقاء کی فکر لاحق ہوگئی مگر اس نے آندھراپردیش میں انحراف کی سیاست سے انکار نہ کر کے سب سیاستدانوں کے مزاج میں یکسانیت ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ یہ وقت وقت کی بات ہے ۔

TOPPOPULARRECENT