Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / انحطاط پذیرتعلیمی معیار کو روکنے کی ضرورت پر زور

انحطاط پذیرتعلیمی معیار کو روکنے کی ضرورت پر زور

RANCHI, JAN 10 (UNI)- President Pranab Mukherjee (2nd R) lighting the lamp to inaugurate the 3-day 'Nikhil Bharat Bang Sahatiya Sammelan' in Ranchi on Sunday. UNI PHOTO-46U

صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کا رانچی میں اکھل بھارتیہ بنگ ساہتیہ سمیلن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب
رانچی۔10جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج پُرزور انداز میں کہا کہ ملک میں تعلیم کے انحطاط پذیر معیار کو روکنے کی ضرورت ہے اور خواہش کی کہ شعبہ تعلیم کے قائدین ‘ پالیسی سازوں اور دیگر دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی مداخلتیں ضروری ہیں ۔ معیاری اساتذہ کو ترغیب دینا اور انہیں ترقی دیتے ہوئے برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صنعت اور تحقیق کے اداروں میں ماہرین کی خدمات عارضی طور پر حاصل کی جاسکتی ہیں تاکہ وہ طلبہ کو عملی تربیت دے سکیں ۔ ڈائمنڈ جوبلی تقاریب اور جلسہ تقسیم اسناد برلا انسٹی آف ٹکنالوجی میسرا کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہا کہ مہارت کے مراکز ‘ بنیادی مسابقتی صلاحیت کو ایسے اداروں میں پروانہ چڑھایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی پارکس کے قیام کے ذریعہ تحقیق کے معیار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے عالمی معیار کے ماحولیاتی نظام کے ہمارے اداروں میں قیام میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مبپدیوں کو مختلف اختراعی سرگرمیوں کے آغاز میں مدد لے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے ارتقاء میں نوجوانوں کو مدد دینی چاہیئے اور صنعت کاری میں ان کا زیادہ حصہ ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ مبپدیوں کی کامیابی سے دوسروں کی بھی ترقی کی سمت رہنمائی ہوگی ۔

صدرجمہوریہ نے کہا کہ درحقیقت ہندوستان میں 4200سے زیادہ مبپدی ہیں ۔ یہ دنیا بھر میں ماحولیاتی نظام کی سب سے بڑی تعداد ہے ‘ بے شک امریکہ اور برطانیہ ہندوستان سے آگے ہیں ۔پرنب مکرجی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے واضح طور پر اپنا کردار صنعت کاری کی صلاحیتوں کو اپنے طلبہ میں پیدا کرنے کا اہم فرض ادا کرسکتے ہیں ۔ دیگر امدادی اقدامات جیسے چھوٹی صنعتیں ‘ صنعت کاروں کے پارکس جیسا کہ میسرا میں برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کی جانب سے قائم کیا گیا ہے ‘ ضروری ہے تاکہ طلبہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرسکیں ۔ انہیں ملازمتیں تلاش کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے ۔ پی ایچ ڈی کی اسناد پوسٹ گریجویٹس کو اور اسناد گریجویشن کے طلبہ کو عطا کرنے کے بعد صدر جمہوریہ نے طلائی طمغے ان طلبہ کو عطا کئے جنہوں نے ادارہ کے انجنیئرنگ کے مختلف شعبوں میں امتیازی مقام حاصل کیا تھا ۔پرنب مکرجی نے کہا کہ دیگر اعلیٰ سطحی تعلیمی اداروں سے باہمی روابط قائم کرنا فوائد‘ مواقع کی تلاش کرنے والوں کو فراہم کرسکتا ہے ۔ وسائل میں شراکت داری کے ذریعہ ماہرین تعلیمات اور طلبہ و اساتذہ کے باہم تبادلے باہمی تعاون پر مبنی تحقیق کی راہیں کھول سکتی ہیں ۔ نئے نظریات اور بہترین عمل میں شراکت داری ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ہمیں موجودہ معلومات اور مواصلاتی ٹکنالوجی کے نٹ ورکس جیسے قومی معلومات نٹ ورکس قائم کرنا ہوگا ۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ ملک میں وسیع فروغ کے مواقع رکھتاہے ۔ گذشتہ چند دہائیوں سے اس کو صحت مند فروغ حاصل ہوا ہے لیکن خانگی اداروں کیلئے ہنوز مواقع موجود ہیں ۔ خانگی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے فیصد میں اضافہ ہوچکاہے ۔

TOPPOPULARRECENT