Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / اندرانی مکرجی بے وفا بیوی ، قاتل ماں

اندرانی مکرجی بے وفا بیوی ، قاتل ماں

ڈاکٹر مسعود جعفری
سارے عالمی مذاہب نے ماں کی عظمت کو تسلیم کیا ہے ۔ ماؤں نے اپنے بچوں کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اندرانی مکرجی ایک ایسی ماں ہے جس نے اپنی بیٹی کا گلا گھونٹ دیا۔ اسے اپنے راستے سے ہٹادیا ۔ شاید اس پر اس کا سوتیلا باپ پیٹر مکرجی فریفتہ ہوگیا تھا اور یہ بات اندرانی مکرجی  کیلئے جنسی حسد کا سبب بن گئی تھی ۔ یہ قتل کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ دوسرا سبب دولت کا حصول ہوسکتاہے ۔ کہا یہ جارہا ہے کہ اندرانی مکرجی کے پہلے شوہر سے پیدا ہونے والی شینا بورا کے نام پر اسٹارٹی وی کے سی ای او پیٹر مکرجی نے کافی رقم بینک میں رکھوائی تھی ۔ شینا وہ سارا پیسہ خود لینا چاہتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ پیٹر کے بیٹے راہول سے محبت کرنے لگی تھی۔ یہ بات اندرانی کو پسند نہیںتھی۔ وجہ کچھ بھی ہو اندرانی اپنے لندن کے سفر کو منقطع کرتے ہوئے ممبئی آتی ہے اور اپنے سابقہ شوہر سنجیوکھنہ کوکلکتہ سے بلاتی ہے ۔ 24 سالہ شینا کو ہوٹل میں شراب پلاکر کار کی اگلی سیٹ پر بٹھاکر رائے گڑھ کی جانب سفر کیا جاتا ہے ۔پیچھے کی سیٹ پر راجیوکھنہ اور اندرانی مکرجی بیٹھے ہوتے ہیں۔ شیام رائے کار چلا رہا ہے ۔ پیچھے سے سنجیو کھنہ اور اندرانی شینا کا گلا دباکر اسے ختم کردیتے ہیں ۔ یہ واقعہ 24 اپریل 2012 ء کا ہے۔ اس کی لاش کو سوٹ کیس میں رکھ دیتے ہیں ۔ مئی میں نعش کو پٹرول سے جلاکر رائے گڑ ھ کے گھنے جنگل میں پھینک دیتے ہیں۔ یہ خبر پھیلادی جاتی ہے کہ شینا امریکہ چلی گئی ہے اور وہاں وہ اچھی کمپنی میں کام کر رہی ہے۔ جب راہول اندر انی سے شینا کے بارے میں پوچھتا ہے تو اسے یہی جواب دیا جاتا ہے ۔ اندرانی کے بیٹے میکل کا احساس ہے کہ اندرانی اسے بھی مار دینا چاہتی تھی۔ وہ اپنی جانب بچاتے ہوئے بھاگ کھڑا ہوا۔ پیٹر مکرجی اندرانی کا تیسرا شوہر ہے ۔ اس سے پہلے وہ سدھارتھ اور سنجیو کھنہ سے شادی کرچکی تھی۔ جب وہ کلکتہ سے ممبئی آئی تھی تو وہ قلاش تھی۔ سراسیمہ تھی، جب اس کی ملاقات ایک ہوٹل میں سہیل سیٹھ اور پیٹر سے ہوئی تو پیٹر اس پر عاشق ہوگیا۔ کچھ عرصہ تک دونوں میں رومانس چلا۔ تاریخوں پر ملنے لگے ، بعد میں 2002 ء میں دونوں کی شادی ہوگئی ۔ اسی کے ساتھ اندرانی کی قسمت بدل گئی ۔ ایسی عورت جس کے سینے میں دل نہیں جس کی آنکھوں میں ممتا کاپیار نہیں، مہرو وفا کا اس کی زندگی میں نام و نشان نہیں۔ جھوٹ، دھوکہ، فریب، دغا اور مکاری اس کا دھرم بن گئی ہے۔ یہاں اندرانی نے تو اپنی کوکھ سے پیدا ہونے والی بیٹی کا اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا ۔

اس کا قصور بس اتنا ہی تھا کہ وہ اپنی زندگی جینا چاہتی تھی۔ اسے کیا خبر تھی کہ اس کی ماں ہی اس کی موت بن جائے گی ۔ اندرانی کی سنسنی خیز واردات نے میڈیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ، باقی خبریں جیسے للت مودی ، گجرات کا احتجاج وغیرہ پس منظر میں چلے گئے ۔ اندرانی جیسی مکرو فریب والی عورت ہندوستانی سماج کے ماتھے پرکلنک ہے ۔ کیا اسے اس کے کئے کی سزا مل پائے گی۔ کیا وہ دولت کے بل بوتے پر سزا سے بچ جائے گی۔ یہ اور اس قبیل کے اور سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ ممبئی پولیس اس واقعہ کو کئی زاویوں  سے دیکھ رہی ہے ۔ شینا کی موت کی حقیقی وجہ کو بے نقاب کرنے میں جٹی ہوئی ہے ۔ ایک بات تو کھل کر سامنے آگئی ہے کہ قانون کے لمبے ہاتھ ہوتے ہیں۔ وہ مجرم کی گردن تک پہونچ جاتے ہیںاور اسے دبوچ لیتے ہیں۔ پولیس نے اس سازش اور قتل کی اصلی سرغنہ اندرانی کو گرفتار کرلیا ہے۔ اب اور چھپے ہوئے حقائق کے آشکار ہونے کی توقع ہے ۔ ممبئی پولیس شینابورا کی بچی کھچی ہڈیوں کو فارنسک لیاب بھیج چکی ہے۔ ڈی این اے ٹسٹ کیا جائے گا تاکہ شینا بورا کی حقیقت کا پتہ چل سکے ۔ ممبئی پولیس کمشنر راکیش میاریا خود کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کلیدی کرداروں سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔ پیٹر مکرجی کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ سنجیو کھنہ ، شیام رائے اور اندرانی مکرجی پولیس کی تحویل ہی میں ہیں۔ ان کی کسٹڈی کی مدت میں اور توسیع کی جاسکتی ہے ۔ اس دل ہلادینے والے واقعہ سے اوروشی اور سنندا پشکر کے واقعات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔ وہ لوگ بھی پراسرار حالات کا شکار ہوگئے تھے ۔ انسان شہر کی چمک دمک ، شہرت، عزت اور پیسے کے بہاؤ میں بہہ کر ایسے جرائم کا ارتکاب کردیتا ہے۔ پرانا مقولہ لالچ بری شئے ہے، ایک بار پھر سچ ہوگیا ہے۔ اندرانی ، سنندا جیسی عورتیں آسمانوںکوچھونے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ دولت کی پجاری ہوتی ہیں۔ پیٹر مکرجی نے آئی این ایکس میڈیا کو فروخت کیا ۔ اس سودے سے اسے 600 کروڑ کا فائدہ ہوا۔ اس نے اسے مختلف ناموں سے مکی وغیر ملکی بینکوں میں رکھوائے۔ یہ سمجھا جارہا ہیکہ ایک بڑی رقم شینا بورا کے نام پر بھی بینکوں میں رکھوائی گئی اور اسے شینا خودلینا چاہتی تھی ۔ وہ اندرانی کو رقم واپس دینا نہیں چاہتی تھی ۔ یہ اس کے قتل کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے ۔ اندرانی اپنی اونچی سماجی ساکھ برقرار رکھنا چاہتی تھی ۔ اس کی بیٹی اور بیٹا اس کی راہ میں حائل ہورہے تھے ۔ شاید اسی لئے ان دونوں کوہلاک کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ۔ اس میں ایک دلچسپ  پہلو یہ بھی ہے کہ اندرانی کے سابقہ شوہر سے پیدا ہونے والی بچی ودھی کو پیٹر مکرجی اپنی منہ بولی بیٹی بنالیا تھا ۔ شینا سے اس کی زبانی ہمدردیاں تھیں۔ اندرانی بھی شینا بورا سے نفرت کرتی تھی ۔ ایک بیٹی سے محبت اور دوسری سے حقارت کا کیا مطلب تھا ۔ یہ بھی ایک Mystry یعنی پر اسرار بھید ہے ۔ اس پر سے بھی پردہ اٹھنا ہے۔ بہر کیف اس کیس کے کئی پہلو اورجہتیں ہیں۔ ایک گرہ کھلتی ہے تو دوسری دب جاتی ہے ۔ وقت کی کنجی ہی راز کے دروازے کھولے گی ۔ جرائم کی ساخت نرم نہیںہوتی وہ فولاد کی طرح سخت ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT