Tuesday , July 25 2017
Home / Top Stories / اندرا پارک پر احتجاجی پروگرام میدان جنگ میں تبدیل

اندرا پارک پر احتجاجی پروگرام میدان جنگ میں تبدیل

لاٹھی چارج میں کئی زخمی ،ٹی آر ایس کارکن اور سادہ لباس میں پولیس بھی احتجاجیوں میں شامل ، حکومت کا منصوبہ ناکام
حیدرآباد۔15مئی(سیاست نیوز) دھرنا چوک کی منتقلی کے مسئلہ کو متنازعہ بناکر اُس کا فائدہ اُٹھانے کی کوششیں آج اُس وقت حکومت کو مہنگی پڑیں جب سیو دھرنا چوک کمیٹی کے معلنہ چلو اندرا پارک دھرنا چوک پروگرام کے دوران پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان تشدد کا واقعہ پیش آیااور حالات میدان جنگ میں تبدیل ہوگئے ۔ حکومت نے منصوبہ بند طریقہ سے دھرنا چوک کو منتقل کرنے کیلئے ٹی آر ایس کارکنوں کے علاوہ پولیس عملے کو سادہ لباس میں احتجاجیوں میں شامل کردیا۔ سیو دھرنا چوک کے حق میں احتجاج کرنے والے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ، بائیں بازو جماعتوں اور احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے اندرا پارک کے قریب پولیس نے لاٹھی چارج کا استعمال کیا جس میں 45 مظاہرین زخمی ہوگئے ۔پولیس نے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دیگر تنظیموں سے وابستہ ذمہ داران اور کارکنوں کے خلاف پانچ مقدمات درج کئے ہیں۔ حکومت اور انٹلیجنس عملے کو چکمہ دینے کیلئے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دیگر تنظیموں سے وابستہ قائدین نے دھرنا چوک پر احتجاج سے دو دن قبل ہی روپوشی اختیار کرلی تھی تاکہ احتجاجی گرفتاریوں سے بچا جاسکے۔ چونکہ سابق میں پولیس نے اسی قسم کے دھرنا کا منصوبہ رکھنے والے قائدین بشمول پروفیسر کوڈنڈا رام اور دیگر کارکنوں کو اُن کے مکانات سے جبراً طورپر گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ سیو دھرنا چوک کمیٹی قائدین کی جانب سے آج احتجاج کے پروگرام کے پیش نظر پولیس نے کل رات سے ہی بھاری بندوبست کیا تھا اور کثیر تعداد میں پولیس فورس کو بھی علاقہ میں متعین کردیا گیا تھا ۔ دھرنا چوک کی منتقلی کے خلاف اور منتقلی کے حق میں احتجاج کرنے والے دو گروپس اندرا پارک کے قریب جمع ہوگئے تھے جس میں پولیس عملہ بھی دھرنا چوک کی منتقلی کے حق میں احتجاجیوں میں شامل ہوگیا۔ لیک پولیس انسپکٹر شریمتی سری دیوی نے اپنے 20 خاتون کانسٹیبلس کے ساتھ سادے لباس میں ملبوس دھرنا چوک کی منتقلی کے حق میں احتجاج کرنے والے مقامی افراد کی شکل میں شامل ہوگئے اور اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے اور نعرے بازی بھی کررہے تھے ۔ بعض میڈیا نمائندوں کی جانب سے خاتون پولیس عملے کو احتجاجیوں میں نشاندہی کرنے کے بعد وہ اچانک وہاں سے غائب ہوگئے ۔قبل ازیں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے کئی کارپوریٹرس ، اُن کے احباب و رشتہ دار اور پرسنل سکریٹریز بھی دھرنا چوک کی منتقلی کے حق میں احتجاجیوں میں دیکھے گئے اور سرکاری گاڑیوں میں احتجاجیوں کیلئے کھانے کا بہترین انتظام کیا گیا ۔ سیو دھرنا چوک کمیٹی قائدین کے مطابق پولیس نے صبح 11:00 بجے کے قریب احتجاجی دھرنا منظم کرنے کی رسمی اجازت دی جس کے بعد کمیٹی قائدین نے بس بھون سے جلوس کی شکل میں اندرا پارک دھرنا چوک پہنچے جہاں پر پہلے سے اندرا پارک واکرس اسوسی ایشن کے لوگ دھرنا چوک کے قریب بیچ سڑک پر شامیانہ نصب کرکے دھرنا چوک کی منتقلی کی تائید وحمایت کا نعرے لگارہے تھے۔سیو دھرنا چوک کمیٹی کے قائدین جب اندرا پارک پہنچے تو پولیس نے انہیںدھرنا چوک کے قریب جانے سے روک دیا اور راستے میںرکاوٹیںکھڑی کردی۔ سیو دھرنا چوک کمیٹی قائدین نے پولیس سے استفسار کیا کہ وہ اجازت کے بعد ریالی کی شکل میں یہاں پر پہنچے ہیں اور انہیں احتجاجی مظاہرے کا موقع فراہم کیاجائے ۔باوجوداسکے پولیس نے سیو دھرنا چوک کمیٹی کے قائدین اور کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روکدیا۔ برہم مظاہرین نے پولیس سے پوچھا کہ اگر دھرنا چوک پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیںہے تو بیچ سڑک پر دھرنا چوک کی منتقلی کے لئے خود ساختہ اندرا پارک واکرس اسوسی ایشن کے لوگ کس طرح دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ اسی دوران پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان میں لفظی جھڑپ ہوئے جو کچھ ہی دیر میں ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی ۔ سیو دھرنا چوک کمیٹی کے برہم قائدین اورکارکنوں نے پولیس زیادتی کیخلاف نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگے جنہیں روکنے کیلئے پولیس نے طاقت کا استعمال کیااور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا اور ٹاسک فورس عملے نے مظاہرہ کرنے والوں پر شدت سے لاٹھیاں برسائی جس کے نتیجہ میں 45 سے سے زائد مظاہرین زخمی ہوگئے جن میںکچھ قائدین کو شدید چوٹیں بھی آئی ہیںاور انہیںعلاج کیلئے دواخانہ بھی منتقل کیا گیا ہے۔زخمیوں میں سی پی آئی ایم کے ایم سرینواس ریڈی ، کے رمیش‘ مہیش‘ایچ شری دھر‘پی رامو نرسیا‘ایم تروپتی‘این گنیش‘ وٹھل اور دیگر شامل ہیں۔ پولیس لاٹھی چارج میں معمولی زخمی مظاہرین کو علاج کے بعد ڈسچارج کردیاگیا جبکہ زائد زخمی مظاہرین اب بھی شہر کے مختلف دواخانوں میں زیرعلاج ہیں۔ سیو دھرنا چوک کمیٹی قائدین کا کہنا ہے کہ واکرس اسوسی ایشن کے نام پر ٹی آر ایس قائدین اور سادہ لباس میںپولیس کے مرد اور خاتون ملازمین ہاتھوں میں دھرنا چوک کی منتقلی کی حمایت میں پلے کارڈس تھام کر بیٹھے ہوئے تھے۔دھرنا چوک کے مقام پر صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور منصوبہ بالکل برعکس ہونے کا اثر پولیس عہدیداروں پر نمایاں دیکھاگیا۔ کمشنر پولیس حیدرآباد کے علاوہ دیگر سینئر پولیس عہدیدار بھی اس صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے ایسا لگتا ہے کہ تیار نہیں تھے اور اُن کا منصوبہ بالکل ناکام ہوگیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT