Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / اندرا گاندھی کی تصویر کیساتھ اِن لینڈ لیٹرس بھی روک دینے کی سفارش

اندرا گاندھی کی تصویر کیساتھ اِن لینڈ لیٹرس بھی روک دینے کی سفارش

حکومت نے ہنوز فیصلہ نہیں کیا، ایک ہی خاندان کو اعزاز نہیں دیا جاسکتا ، اندرا اور راجیو گاندھی کے یادگاری ٹکٹس روکنے کی مدافعت
نئی دہلی۔ 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے یادگار ٹکٹس کا سلسلہ روک دینے حکومت کے فیصلے پر جاری تنازعہ نے آج اس وقت مزید شدت اختیار کرلی جب یہ اعلان کیا گیا کہ آنجہانی اندرا گاندھی کی تصویر کے حامل اِن لینڈ لیٹرس روک دیئے جائیں گے اور اس کے متبادل کے طور پر یوگا کی تصویر والے اِن لینڈ لیٹرس جاری کئے جائیں گے۔ یہ بھی اشارے ملے ہیں کہ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی تصویر کے حامل اِن لینڈ لیٹرس شائع نہیں کئے جائیں گے۔ ڈاک ٹکٹ مشاورتی کمیٹی نے اِن لینڈ لیٹرس پر اندرا گاندھی کے بجائے یوگا کی تصویر شائع کرنے کی سفارش کی ہے لیکن حکومت نے اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ حکومت نے آج سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی پر لازمی سیریز کے تحت یادگار ڈاک ٹکٹ روکنے کے فیصلہ کی مدافعت کی اور کہا کہ ڈاک ٹکٹس کے ذریعہ قوم کی سرکردہ شخصیتوں کو اعزاز پیش کیا جانا چاہئے۔

کسی ایک خاندان کے ارکان کو نہیں۔ وزیر مواصلات روی شنکر پرساد نے کہا کہ ڈاک ٹکٹ مشاورتی کمیٹی کے مشورہ پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شیام پرساد مکرجی، دین دیال اپادھیائے، نیتاجی سبھاش چندر بوس، سردار ولبھ بھائی پٹیل، شیواجی، مولانا آزاد، بھگت سنگھ، جئے پرکاش نارائن، رام منوہر لوہیا، وویکانند اور مہارانا پرتاپ کے اعزاز میں لازمی تسلسل کے تحت ڈاک ٹکٹ جاری کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ لازمی تسلسل کے تحت صرف ایک ہی خاندان پر توجہ مرکوز کی جارہی تھی، حالانکہ دیگر کئی نام بھی موجود تھے۔ ان کے پاس گاندھی جی، مولانا آزاد، ڈاکٹر امبیڈکر اور ڈاکٹر بھابھا کے نام تھے۔ انہوں نے کہا کہ لازمی سیریز میں ایک ایسا سلسلہ شامل کیا گیا ہے جس میں تحریک آزادی کی عظیم ہستیوں بشمول جواہر لال نہرو کو شامل کیا جارہا ہے۔ ہم اس معاملے میں آزادانہ ذہن رکھتے ہیں اور مختلف نظریات و فکر رکھنے والوں کی خدمات کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ ان تمام نے عصری ہندوستان کی تعمیر میں انتہائی اہم رول ادا کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان لینڈ لیٹر پر سے اندرا گاندھی کی تصویر ہٹانے کی کوئی تجویز ہے، روی شنکر پرساد نے کہا کہ مشاورتی کمیٹی نے یوگا کی تجویز دی ہے، لیکن اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کانگریس نے کل اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی یاد میں جاری کردہ ڈاک ٹکٹس روک دینے حکومت کے فیصلے پر نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ملک کے دو شہید وزرائے اعظم کی یاد ذہنوں سے مٹا دینے کی ناپاک کوشش ہے۔کانگریس پارٹی نے کل کہا تھا کہ حکومت کے اس طرز عمل سے وزیراعظم نریندر مودی کی شخصی نفرت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ حکومت یادگاری ڈاک ٹکٹس کو بھی ختم کررہی ہے۔ یہ صرف اور صرف سابق وزرائے اعظم کی یاد کو مٹانے کی ناپاک کوشش ہے۔

 

گاندھی خاندان کیخلاف حکومت کے رویہ کی مذمت
مرکز معذرت خواہی کرے،کانگریس کا ردعمل
نئی دہلی۔ 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی یاد میں جاری کردہ ڈاک ٹکٹ کا سلسلہ روک دینے مودی حکومت کے فیصلے پر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔ سینئر کانگریس ترجمان آنند شرما نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گاندھی خاندان کے خلاف موجودہ حکومت کے رویہ کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں حالانکہ اس خاندان نے قوم کیلئے غیرمعمولی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کی توہین ہے۔ حکومت کی جانب سے کل کئے گئے فیصلے کو تنگ نظری کا مظہر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک ایسی حکومت کو معاف نہیں کرتا جس نے اپنے ماضی کے شہیدوں اور ہیروز کی توہین کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی 21 سال تک ملک کے وزیراعظم رہے۔ اگر موجودہ حکومت میں ذرا بھی شرم ہو تو اسے اس فیصلے پر معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف کانگریس پارٹی کے قائدین نہیں تھے بلکہ ساری قوم اور عوامی قائد تھے۔ انہوں نے ہندوستان کو اکیسویں صدی کا سوپر پاور بنانے میں نمایاں رول ادا کیا۔ انہوں نے ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کیلئے جدوجہد کی اور غیرمعمولی قربانیاں دیں۔

TOPPOPULARRECENT